کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟۔۔۔عزیز خان

روزانہ کوئی نا  کوئی خبر نیوز چینل پر چل رہی ہوتی ہے ایک پچی پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں  بحق۔
راہگیر پولیس کی گولیوں کا شکار۔
پولیس کے وحشیانہ تشدد سے نوجوان ہلاک۔۔

ایسی کئی خبریں نظر سے گزریں تو میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ پولیس ملازمین بھی انسان ہیں، وہ بھی اِسی معاشرے  کا حصہ ہیں تو کونسی ایسی بات ہے کہ وہ محکمہ پولیس میں آتے ہی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ شاید محکمہ پولیس کے psp  افسران اور حکمران اِس محکمہ کو ٹھیک کرنا ہی نہیں چاہتے وہ ایسا کیوں کریں و،ہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے اُن کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔
چلیں میں آپ کو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کی  حیثیت  سے کُچھ حقائق بتاتا ہوں۔۔

6 مارچ 1982 کا دن آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہماری محکمہ پولیس میں سلیکشن ہوئی۔
اور ہم بہاول پور رینج کے دس Asi ٹریننگ کیلئے سہالہ روانہ ہوئے، نئے نئے کالج یونیورسٹی سے نکلے جوان نئی اُمنگیں، مُلک کی خدمت کا جذبہ۔
ٹرین رات کو 10 بجے سہالہ ریلوے اسٹیشن پر رُکی توہمیں لگا کہ ہمارےاستقبال کے لیے وہاں کوئی سینئر  افسر موجود ہو گا پر وہاں تو رات کا اندھیرا اور ویرانی ہمارا  مُنہ چڑا رہی تھی ۔ہم سب نے ایک دوسرے کا مُنہ دیکھا اور اپنا سامان خود اُٹھا کر سہالہ پہنچے ۔۔۔ گیٹ پر JDO نے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں سامان سمیت ایک پُرسرار سی بلڈنگ میں    بھیج دیا ۔اس بلڈنگ کا نام بعد میں اقبال ہوسٹل پتہ چلا
اتنی بدبو میں نے اپنی زندگی میں کبھی محسوس  نہیں کی جو اُس ہوسٹل میں تھی ۔رات بھر زمین پر سوئے رہے اور خود کو کوستے رہے۔۔صُبح صُبح اُٹھ کہ باتھ روم ڈھونڈا تو باتھ روم کے نام پہ گند سے بھرے گٹر اور تالاب نما باتھ رومز  تک رہنمائی کردی گئی۔ اور پھر ایک سال کی ٹریننگ کے نام پر ہوئی تذلیل کبھی بھول نہیں سکتے۔

یہی حال میس کا ہوتا تھا، کھانے کے  نام پہ پورا ہفتہ دال چنا ،آلو مٹر اور ایک دن بڑا گوشت۔۔ کچھ ایسا ہی حال پرو فیشنل ٹریننگ کا تھا جو کُچھ ہمیں پڑھایا گیا کبھی بھی فیلڈ میں کام نہ آیا۔
پریڈ جس پر سب سے زیادہ ٹائم صَرف کیا جاتا ہے وہ پھر کبھی بھی ضلع یا تھانہ پر نہیں کروائی جاتی ۔فائرنگ کے نام پہ آخر میں دس گولیاں ریوالور اور دس گولیاں تھری ناٹ تھری فائر کرائی  جاتی ہیں
ایک سال کی ٹریننگ کے بعد فوج میں ایک جوان پرُاعتماد افسر یا جوان بن کہ آتا ہے اور پولیس کی ٹریننگ میں وہی پڑھا لکھا جوان تمام manners بھول کر  صرف ایک ماتحت ادنیٰ یا ماتحت اعلیٰ بن جاتا ہے۔

جسے عوام سے نفرت اور psp کلاس کی غلامی سیکھائی  جاتی ہے۔ اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ بعض اوقات شاید ما تحت ادنیٰ ( اللہ معاف کرے ) اللّٰہ سے نہیں ڈرتے جتنا psp افسران سے ڈرتے ہیں۔۔ٹریننگ میں پریکٹیکل سِکھانے کی بجائے صرف زبانی کلامی کام کیا جاتا ہے۔
ٹریننگ سنٹرز میں کرپشن عام ہوتی ہے۔ ڈرل سٹاف اور دیگر سٹاف ٹرینیز سے باقاعدہ ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں۔اور ٹریننگ سنٹرز کے فنڈز بہت زیادہ ہوتے ہیں پر کہاں خرچ ہوتے ہیں اللہ جانے اور جو ٹرینی  اس بابت کچھ بولے گا  وہ سیدھا ضلع واپس۔۔یا آخر میں فیل کر دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف اگر Asp صاحبان کی ٹریننگ کا معیار اگر آپ جا کر  دیکھ لیں تو لگتا ہے شہزادے پکنک پہ آئے ہوئے ہیں۔

میری اپنی ذاتی رائے ہے کہ پولیس کے محکمہ کو آرمی کی طرح بنایا جائے کمشنڈ آفیسر اور جونیئر کمشنڈ آفیسر۔۔۔سیکنڈ لیفٹیننٹ کی طرح فورس میں آئے اور اپنے وقت پر پرموشن کرے اسی طرح IG تک جائےیا پھرپولیس کانسٹیبل بھرتی ہو اور IG تک جائے۔

پر کسی نے کُچھ نہیں کرنا عوام کی بدقسمتی ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا اور کیوں چاہے، کوئی بھی اپنا نقصان نہیں چاہتا۔کوئی نیا قانون نہیں بنائے گا اور بنائے بھی کیوں کیونکہ  عوام کو ریلیف ملے گا۔

سب کو پتا  ہے پولیس میں کرپشن ہے پر ختم نہیں ہوتی، پولیس کلچر تبدیل کرنے کے بڑے دعوے کیے گئے، پر ٹھیک نہ ہو سکا ۔آپ پراڈکٹ اچھی بناؤگے تو اچھا کام ہو گا چاول کاشت کر کے آپ گندم تو نہیں اُگا سکتے ہیں۔
یہی حال رہا تو کسی کی بیٹی مرتی رہے گی پولیس تشدد ہوتا رہے گا اور پولیس کرپشن اور کلچر کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *