انڈیا، سپریم کورٹ اور تین طلاق۔۔۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

 انڈیامیں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے،جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا. کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے اسے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملا ًہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے. ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں واپس اصلی مآخذ تک رسائی اور ان سے استفادہ کا منہج اختیار کیا جائے۔ ہر فریق اپنے مکتب فکر کے متداول فتاویٰ کو ہی آخری سند کا درجہ دیتا ہے تاہم درست علمی منہج یہ ہے کہ نئی مشکلات میں ہمیں واپس کتاب و سنت سے رجوع کر کے اپنی مشکلات کا قابل عمل حل تلاش کرنا چاہیے۔ طلاق کے حوالے سے اگر کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ نے نکاح و طلاق کے ادارے کی از سر نو تنظیم کی ہے. جہاں تک طلاق کا تعلق ہے تو ، طلاق کی ضرورت پیدا ہونے کی ابتدا میں ہی میاں بیوی کے درمیان اختلافی امور پر تبادلہ خیال، عارضی ترک تعلق، معمولی تنبیہ اور ان کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کی صورت میں دونوں خاندانوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کے مدارج بیان کئے گئے۔گویا طلاق کوئی ناگہانی آفت کی طرح نازل ہونے والی شے نہیں بلکہ طویل غور وخوض اور مشاورت کے بعد کیا جانے والا ایک آخری اور نا پسندیدہ اقدام ہے۔(النساء :4:34) طلاق دینے کا وقت طے کیا گیا کہ ایسے وقت میں طلاق دی جائے جب میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف شدید رغبت کی کیفیت میں ہوں(الطلاق :1)، ایک وقت میں ایک ہی طلاق دی جائے۔ضرورت ہو تو دوسری اور تیسری دی جا سکتی ہے. طلاق کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کر دی گئی(البقرہ، 2:229) یکبارگی طلاقوں کی کوئی پروویژن نہیں رکھی گئی۔

آخری اور تیسری طلاق کے سوا ہر طلاق کے بعد مصالحت یا تجدید طلاق کی گنجائش دی گئی. خاتون کو خلع کی صورت میں حق طلاق دیا گیا(البقرہ، 2:229،231) ایلاء اور ظہار کو طلاق کے دائرے سے نکال کر ان کے ایسے احکام دئیے گئے جن کے باعث کسی خاتون سے ظلم ہونے کا امکان نہ رہے(البقرہ، 2:226، المجادلة_، (1_4 :60) قرآن حکیم میں یکبارگی دی گئی تین طلاقوں کے حوالے سے کوئی حکم نہیں ہے بلکہ یکے بعد دیگرے اور الگ الگ طہر میں طلاق دینے کا حکم یکبارگی تین طلاقوں کو اپرو نہیں کرتا. جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو مختلف احادیث کی بنا پر مختلف فقہی مکاتب فکر الگ الگ موقف رکھتے ہیں۔ ایک فریق کے نزدیک یکبارگی کی تین طلاق تین ہو جاتی ہیں دوسرے فریق کے نزدیک یکبارگی کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے تیسرے فریق کے مطابق یکبارگی کی تین طلاق سرے سے ایک بھی نہیں ہوتی ہر فریق احادیث سے استدلال کرتا ہے اور دوسرے فریق کی مستدل احادیث کو ضعیف قرار دیتا ہے۔ اس صورت حال میں احادیث کی بنا پر کوئی قطعی فیصلہ کرنا آسان نہیں البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کو تین قرار دے کر نافذ کر دیا تھا جسے بیشتر صحابہ کرام کی تائید حاصل تھی(مسلم، 3673)اور اہل سنت کے چاروں ائمہ نے اپنی اپنی فقہ میں اسی فیصلے کو برقرار رکھا ۔اس لئیے اسے زیادہ مستند قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سابقہ طرز عمل میں تبدیلی کی ضرورت کیوں محسوس کی اور وہ کیا اسباب تھے جن کی بنا پر انہوں نے ایک گنجائش ختم کردی اور کیا اب بھی حالات و واقعات اسی فیصلہ کے متقاضی ہیں یا حالات و زمانے کی تبدیلی سے اس فیصلے میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔

آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کی مذہبی اور سماجی اساسیات کا جائزہ لیتے ہیں : قرآن نے یکے بعد دیگرے طلاق دینے کا حکم دیا ہے. یکبارگی تین طلاق دے کر شوہر جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اس لیے اسے اس کی سزا ملنا چاہیے تھی. عرب معاشرے میں اس وقت بھی اور آج بھی خواتین کو بھاری مقدار میں مہر دینے کا رواج تھا. قرآن نے ڈھیروں سونا چاندی دینے کا ذکر کیا (النساء :18)اور حدیث میں مہر میں باغات دینے کا تذکرہ ملتا ہے.(حدیث ثابت بن قیس) مہر نکاح کے وقت یا نکاح سے قبل ادا کر دیا جاتا تھا. بیوی مہر میں ملنے والی جائیداد کی قطعی مالک ہوتی تھی اور شوہر یا کسی دوسرے فرد کا اس سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہوتا تھا(النساء 4،32) اگر بیوی کو طلاق ہو جاتی تو وہ اپنا مہر لے کر شوہر سے الگ ہو جاتی۔اگر اس کے بچے ہوتے تو ان کی تمام تر ذمہ داری شوہر کی ہوتی، ان کے تمام اخراجات، تعلیم اور دیگر ضروریات شوہر نے پورے کرنے ہوتے(البقرہ، 233) اگر چھوٹے بچے ہوتے جنہیں مطلقہ ماں پال رہی ہوتی تو نہ صرف ان کے اخراجات بلکہ ماں کی مصروفیات کی اجرت بھی شوہر کے ذمہ تھی(ایضاً) اس سماج میں مطلقہ یا بیوہ کے لیے دوبارہ شادی کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ان کے لیے مواقع وسیع اور انتخاب کا تجربہ مستزاد ہوتا. یہ رواج اس قدر عام تھا کہ قرآن کو کہنا پڑا کہ ایسی خواتین سے عدت کے دوران عہد و پیمان نہ لے لیا کرو اور انہیں سکون سے عدت پوری کرنے دیا کرو(البقرہ، 235) ،دوسری شادی پر عورت کو مزید بھاری بھر کم مہر ملتا جب کہ سابقہ شوہر کو نئی شادی کرنے کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ عرب سماج میں بیوہ یا مطلقہ خواتین خاصی مال دار ہوجایا کرتی تھیں. اس ساری صورت حال میں یکبارگی تین طلاق کو نافذ کرنے کا نقصان عورت کو نہیں بلکہ مرد کو تھا اور اکٹھے تین طلاق دینے کا جرم اسی نے کیا تھا اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے اس جرم کی سزا ملنی چاہیے تاکہ لوگ یکبارگی تین طلاق دینے سے باز رہیں ۔

اس فیصلے کے وقت ان کے الفاظ بھی یہی تھے کہ جس کام کو بہت غور و فکر کے بعد کرنا چاہیے تھا اسے یک دم کرنے والے کو کیوں نہ سزا دی جائے. عرب سماج کے لیے تب بھی یہی فیصلہ قرین انصاف تھا اور آج بھی یہی فیصلہ معقول ہے لیکن ہمارے سماج میں صورت حال بالکل اس کے بر عکس ہے : بیوی کو یا تو نقد مہر دیا ہی نہیں جاتا اور اگر دیا جاتا ہے تو اس کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے ایک مہینے کے یوٹیلیٹی کے بلز تک ادا نہیں کئے جا سکتے۔ خواتین اپنے مال پر آزادانہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتیں. کسی بھی شام بیوی کو مار پیٹ کر بچوں سمیت گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور بہت دفعہ اس پر نیلی چھتری کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوتا. بچوں کی ذمہ داری باپ نہیں اٹھاتا. ہمارے سماج میں جس لڑکی کی منگنی ٹوٹ جائے اس کی شادی ہونا ،ناممکن ہو جاتا ہے۔ بیوہ یا مطلقہ کو کہاں شوہر مل سکتا ہے؟اس سماجی تفاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں طلاق کی صورت میں سزا مرد کو نہیں بیوی کو ملتی ہے۔ مزید یہ کہ جہالت، دین سے بے بہرہ ہونے اور اجڈ پن کی وجہ سے طلاق اچانک اور یکبارگی تین دے دی جاتی ہیں جو ایک خاندان، دو گھرانوں اور بچوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے، ایسے میں یکبارگی تین طلاق کو نافذ کرنا مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ مظلوم پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہے۔

لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ حالات و زمانے کی تبدیلی کی رعایت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے سماج میں یکبارگی دی جانے والی تین طلاق کو ایک قرار دیا جائے جیسا کہ عہد نبویؐ اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں یہی قانون تھا نیز کئی ایک صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ کرام کی بھی یہی رائے ہے. نیز اگر حکومت مختلف فقہی آراء میں سے کسی ایک رائے کو قانون کا درجہ دے دے تو وہ رائے مرجوح ہو تب بھی فتوے اور فیصلے اسی کے مطابق کئے جائیں گے۔یوں بھی نکاح و طلاق کے قوانین سول لا کا حصہ ہیں اور نصوص کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے حکومت کو سول لا میں تبدیلی کا اختیار ہوتا ہے۔

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *