جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نیب لاہور میں پیش

لاہور(بیورو چیف)پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیاء نے بطور گواہ نیب کے لاہور ڈویژن میں بیان ریکارڈ کرا دیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء منگل (30 اگست کو) گواہ کے طور پر نیب کے لاہور آفس میں پیش ہوئے اور انہوں نے شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس کے سلسلے میں نیب حکام کے سوالات کے جواب دیے۔یاد رہے کہ نیب لاہور کے افسران نے واجد ضیاء کو مکمل پروٹوکول فراہم کیا جہاں وہ ڈی جی نیب کی سربراہی میں کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو بیان رکارڈ کروانے کے لیے پیش ہوئے تھے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے آفیسر واجد ضیاء سے دستاویزات، ان کی صداقت اور دستاویزات کے ذرائع سے متعلق پوچھے گئے۔ذرائع کے مطابق واجد ضیاء، ڈی جی نیب لاہور اور ان کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے تین گھنٹے تک موجود رہے، اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سے منظور شدہ سوالنامہ پیش کیا گیا اور انہوں نے تمام سوالات کے تحریری جوابات دیے۔واجد ضیاء نے تمام ریکارڈ کی جانچ پڑتال، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور تمام مواد کی ترتیب سے آگاہ کیا، اس کے علاوہ نیب کی ٹیم کو انکوائری رپورٹس اور انکم ٹیکس ریٹرنز سمیت تمام دستاویزات کے فورینزک معائنے سے بھی آگاہ کیا گیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ نے نیب کو 28 گواہوں کے بیانات کے بارے میں آگاہ کیا، اور بیرونی ممالک سے باہمی قانونی مشاورت اور والیم 10 کی تفصیلات بھی فراہم کیں جبکہ واجد ضیاء نے گواہان سے منی ٹریل، قرضوں کی تفصیل، تحفوں اور جائیدادوں سے متعلق دستاویزات سے بھی نیب ٹیم کو آگاہ کیا۔خیال رہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء گذشتہ روز گواہ کے طور پر نیب کے راولپنڈی آفس میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس کے سلسلے میں نیب حکام کے سوالات کے جواب دیے تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *