جنسی ہراسمنٹ۔۔۔۔۔عزیز خان

دنیا میں سب سے پہلے جنسی ہراسمنٹ کی جو تاریخ میں نظیر ملتی ہے وہ حضرت یوسف علیہ سلام اور زلیخا کی ہے۔

پر مزے کی بات ہے کہ یہ ہراسمنٹ زلیخا کی طرف سے تھی یعنی ایک عورت کی مرد کو ہراسمنٹ ۔۔ اُس کے بعد شاید عورت ہراس کرنا بھول گی یا اس کا ذکر اب تک میری نظر سے نہیں گزرا۔۔

ہمارے مُلک اور دنیا کا قانون بھی عجیب ہے۔ مرد کو عورت کو ساتھ چھیڑنے پہ سزا ہے پر عورت کیلئے ایسی کوئی سزا نہیں اور میں نے قذف میں بھی کسی عورت کو سزا نہیں ہوتے دیکھی۔

میں نے اپنی پولیس سروس میں بھی جتنی بھی FIR زنا ،اغوا یا جنسی ہراسمنٹ کی درج ہوتی دیکھیں تو دیہات میں لڑکی کو رفع حاجت پہ صبح کھیتوں میں سے اغوا ہوتے دیکھا یا اُس کے ساتھ زنا ہوتے دیکھا۔

شاید مرد کیلئے اس سے بہتر کوئی ٹائم نہیں ہوتا۔۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ سارا کُچھ عورت کی مرضی کے خلاف ہو رہا ہوتا ہے۔

لیکن مرد کا عورت کو ہراساں کرنا تو ہمیشہ سُنا بھی دیکھا بھی اور پڑھا بھی پر یہ ہراسمنٹ ہوتی کیسے ہے، کرتا کون ہے اور کیوں ہوتی ہے اس پر کسی نے غور نہیں کیا ۔۔

آج کل چئیرمین نیب کا طیبہ فاروق کو جنسی ہراس کرنے کا قصہ سوشل میڈیا پر عام ہے، قِسم قِسم کی باتیں اور پوسٹس سُنی اور دیکھی جا سکتی ہیں۔

لیکن یہاں اس بات پر کسی نے غور نہیں کیا کہ طیبہ فاروق کیسی باتیں کر رہی ہے، بن ٹھن کر کسی غیر مرد کے سامنے اپنے کام کیلئے جانا ذومعنی جملے کہنا، کیا درست فعل ہے؟ اور مرد تو مرد ہے
چھوڑتا وہ ہے جس کو ملتی نہیں۔۔

اور چئیرمین صاحب بھی انسان ہیں فرشتہ نہیں!

یورپی ممالک میں مردوں کی عورتوں سے اور عورتوں کی مردوں سے جنسی ہراسمنٹ عام ہے ،اسی طرح پرائیویٹ اور سرکاری دفاتر میں خواتین کو ہراساں کیا جانا بھی عام پایا جاتا ہے لیکن ابھی تک پاکستان میں عورتوں کا مردوں کو ہراساں کرنے کی کوئی خبر نہیں آئی؟؟

ہمارے مُسلم ممالک اور خاص طور پر پاکستان میں یہ وبا بھی عام پائی جاتی ہے، میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ یہ سب کیوں ہے پر آپ کو یہ پڑھ کے شدید حیرت ہو گی کہ پاکستان پوری دنیا میں سب سے زیادہ  پورن فلمیں دیکھنے والا دوسرا مُلک ہے۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ ہراسمنٹ کی بھی دو قسمیں ہیں بالرضا اور بلارضا۔۔ اب آپ یہ سوچیں گے کہ بالرضا تو رضامندی ہوتی ہے تو یہ وہ ہراسمنٹ ہے جو آپ کو جوس کارنرز کے پردوں کے پیچھے ہوٹلز ،گیسٹ ہاوسسز ،کافی شاپس ،سینما ہالز ،اور پارکوں میں اکثر نظر آتی ہے۔

یہ ہراسمنٹ ہوتی کس کو ہے یہ امر قابل غور ہے۔۔

سیاست اور سیاستدانوں میں بھی یہ وبا عام پائی جاتی ہے اور شکایات سُنی بھی جاتی ہیں اور دیکھی بھی جاتی ہیں، سیاستدان اس ہتھکنڈے  کو اپنے مُخالف سیاستدان کو ذلیل اور رُسوا کرنے کیلئے استعمال بھی کرتے ہیں۔

عائشہ گلا لئی کی ہراسمنٹ میں بھی پہلے رضامندی اور پھر زبردستی کی ہراسمنٹ نظر آئی۔۔

طیبہ فاروق اور چئیرمین نیب کی ہراسمنٹ بھی اسی زمرہ میں آتی ہے کہ ایک عورت نے اپنے ناجائز کام کیلئے اپنی خوبصورتی کو استعمال کیا

ان تمام باتوں سے قطع نظر اصل جنسی ہراسمنٹ تو شاید ہمیں نظر بھی نہیں آتی اگر آتی بھی ہے تو شکایت کرنے والی کو اس بے دردی سے دبا دیا جاتا ہے اور یہ وہ طاقتور اور با اثر مافیا کرتا ہے جس کے سامنے کوئی بول بھی نہیں سکتا ۔

کُچھ عرصہ قبل اخبار میں ایک خبر لگی تھی کی پولیس کالج سہالہ میں ٹرینی لڑکیوں کو جنسی ہراس کیا گیا انکوائری ہوئی اور انکوائری کا نتیجہ وہی نکلا جو پاکستان میں ایک طاقتور شخص کے خلاف کی گئی انکوائری کا ہوتا ہے۔

کس لڑکی کی جرات تھی کہ وہ ان طاقتوراور با اثر افسران کے خلاف بیان دیتی!

اس انکوائری سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا 1996 میں sho رکنپور ضلع رحیم یار خان تھا ہمارے SSP تحسین انور شاہ صاحب تھے اور ملازمین  کےساتھ بدتمیزی اُن کا وطیرہ تھا۔

ہمارے بہت ہی سینئر اور اچھے پولیس انسپیکٹر رانا ثنا الحق sho صدر رحیم یار خان تھے کو میری موجودگی میں SSP کا ٹیلی فون آیا اور اُنہوں نے اپنی عادت اور طبیعت کے مطابق رانا صاحب سے بدتمیزی کی۔

رانا صاحب نے بھی واپسی اسی طرح جواب دیا اور فون بند ہو گیا رانا صاحب نے روزنامچہ میں اس واقعہ کی رپٹ بھی لکھی
میں اس بات کا گواہ بھی تھا اس میں انسپیکٹر کا کوئی قصور نہ تھا SSP نے فوری طور پہ اُنہیں معطل کر دیا۔

انکوائری میں کس کی ہمت تھی کہ انسپکٹر کے حق میں بیان دیتا رپورٹ بھی کام نہ آئی اور DIG نے رانا صاحب کو نوکری سے برخواست کر دیا۔اور وہ بعد میں سروس ٹربیونل سے بحال ہوئے۔

چھری خربوزہ پہ گرے یا خربوزہ چھری پہ کٹتا تو خربوزہ ہی ہے۔

اس محکمہ میں سینئر کو اور psp کو خاص طور پر ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے چاہےجس جس محکمہ میں خواتین کام کرتی ہیں باقی محکموں میں بالعموم اور پولیس اور موٹر وے میں بالخصوص خواتین آجکل جنسی حراسمنٹ کا شکار ہو رہی ہیں۔

غلط پوسٹنگ غلط شوکاز نوٹس سزائیں معطلی نوکری سے برخواستگی یہ ایسے اختیارات ہیں جس سے بڑے آرام سے کسی خاتون کو ہراس کیا جاسکتا ہے۔

آج سے دو دہایاں قبل پولیس کی نوکری کرنا عورتوں میں معیوب سمجھا جاتا تھا مگر بے روزگاری اور گھریلو مسائل کی وجہ سے اب نوجوان اور پڑھی لکھی لڑکیاں اس محکمہ میں آرہی ہیں۔

کُچھ دن قبل میرے نوٹس میں یہ بات بھی آئی کہ موٹر وے پولیس کی ایک لڑکی کا  تبادلہ جان بوجھ کر ایسی خراب بیٹ میں کیا گیا کہ وہ سینئر کی منت سماجت کرے۔

باقی آپ خود سمجھدار ہیں!

میرے کافی دوستوں نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ اب سے پہلے ایسے کالم لکھنے کی میں نے ہمت کیوں نہیں کی ؟؟

میرے کالمز لکھنے کا مطلب صرف ایسے مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو شاید میں اس سے قبل اپنی ملازمت کی وجہ سے نہ لکھ سکا۔

مگر میرے ساتھ نوکری کرنے والے پولیس افسران اور میرے جوان جانتے ہیں کہ بہُت سے افسران کو ان کے مُنہ پر بھی غلط کہا جس کی وجہ سے سزائیں، معطلی اور دوردراز کے علاقوں میں پوسٹنگز بھی میرا مُقدر بنیں۔اور  میں اس بات کا بھی دعویٰ کرتا ہوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آج تک کسی ریٹائرڈ افسر نے ایسی ہمت نہیں کی اور یہ ہمت مجھے میری تعلیم اور میرے ایڈوکیٹ ہونے نے بھی دی ہے۔

میرے آج کے کالم کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کو حوصلہ دینا ہے کہ اگر کسی کو کوئی باس یا افسر ہراساں کر رہا ہے تو اس بات کو اپنوں سے ڈسکس کریں اور اس کے خلاف آواز آٹھائیں ۔۔
اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو کسی بھی محکمہ میں پڑھی لکھی خواتین آنے سے گھبرائیں گی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *