کڑوا سچ۔۔۔۔عزیز خان/قسط1

نوٹ:عزیز اللہ خان صاحب ریٹائرڈ ڈی ایس پی جبکہ حالیہ  ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ہیں ۔یہ کالم ان کی یاداشتوں پر مشتمل ہے۔

نومبر 1997 کو میں بطور ایس ایچ او کوٹ تھانہ سمابہ  میں تعنات تھا اور میری بطور انسپکٹر نئی نئی  پروموشن   ہوئی تھی، کیونکہ میں نے چوہدری صادق گجر شہید انسپکڑ کے قاتل جبار سندھی جو کہ لشکر جھنگوی کا رکن تھا،او ر  جسے   اب سزائے موت ہو چکی ہے۔۔۔نے شاہسوار ، ستار اور ابو بکر کے ساتھ ملکر صادق گجر کو شہید کیا تھا، کو گرفتار کیا تھا۔۔ صادق گجر ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا عظیم سرمایہ تھے اُن جیسے افسر بہت کم پیدا  ہو تے ہیں۔۔اور اسی سلسلہ میں میری  بطور  انسپکٹر ون سٹیپ پروموشن  ہوئی تھی۔

اُن دنوں ہمارے آئی جی  جہانزیب برکی تھے اور ڈی آئی جی  بہاول پور ملک اشرف مرحوم تھے جن کو بعد میں اُن کے ڈرائیور اور گن مین نے قتل کر دیا تھا، کیونکہ موصوف اپنے ماتحتوں کو بلا جواز گالیاں دیا کرتے تھے ،یہ واقعہ بھی محکمہ پولیس کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے اور ایک پوری کہانی ہے جس کا ذکر آئندہ کسی کالم میں کروں گا۔۔

ایک دن میں اپنے تھانے  کے آفس میں موجود تھا کہ محرر تھانہ نے  کسی ایم پی اے کے فون کی اطلاع دی، ، میں نے فون اٹینڈ کیاایم پی  اے  صاحب نئے نئے باہر سے پڑھ کہ آئے تھے، مرکز میں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ برجمان تھے اور شہباز شریف  ایم پی اے  کی دوستی نواز شریف کے بیٹوں سے بہت تھی جن کی وجہ سے خاصے با اثر جانے جاتے تھے

جوانی کا جوش اور اقتدار کا نیا نشہ ان کے اندازِ  گفتگو  سے صاف ظاہر تھا!

فون پر موصوف نے مجھے  کہا  کہ آپ نے ہمارا ایک ووٹر پکڑا ہے، اُسے چھوڑ دیں ۔میں نے کہا سر اُس سے دو کلو افیون  برآمد ہوئی ہے، تو فرمانے لگے۔۔ خان صاحب اس کے بچے رو رہے ہیں، میں نے کہا سر جن کو یہ منشیات بیچتے ہیں اُن کے بچے بھی روتے ہیں۔

میں منشیات فروش نہیں چھوڑ سکتا جس پر ایم پی اے  غصہ میں آگیا  اور بولا ، میں آئندہ آپ کو کال نہیں کروں گا اور نہ ہی کوئی کام کہوں گا ۔میں نے بھی جواب دیا۔۔ آپ کی مرضی سر !اور فون بند کر دیا۔۔اس کے بعد میں   میٹنگ کے لیے رحیم یار خان چلا گیا۔

اُس دن اعظم جوئیہ ایس ایس پی صاحب لاہور گئے ہوے تھے اور چارج کرنل فرمان صاحب  ایس پی  کے پاس تھا، جونہی میں اُن کے آفس میں داخل ہوا، مجھے کہنے لگے، عزیز آپ نے کیا کِیا ہے۔۔۔ میں نے  کہا ، سر میں نے تو کچھ نہیں کیا۔۔

کہنے لگے فیکس آئی ہے، آپ کا تبادلہ رینج آفس بہاول پور کر دیا گیا ہے اور ڈی آئی جی کا حکم ہے کہ ابھی وہ فوری چارج چھوڑ دے، شام تک بہاولپور پولیس لائنز حاضری کرے، اور اگلے دن اُن کے  سامنے پیش ہوں۔

پہلے تو مجھے سمجھ نہ آئی کہ میرا تبادلہ کیوں ہوا، بعد میں مجھے خیال آیا کہ آج میں نے جو   ایم پی اے کی شان میں  گستاخی کی ہے  اور ان کا کہا نہیں مانا، یہ اُسی کا نتیجہ ہے، اور باہر آنے کے بعد اس کی تصدیق سید تصدق بخاری نے بھی کر دی۔۔۔

میں نے اُسی وقت حکم کی تعمیل کی چارج رپورٹ پر دستخط کیے اور آفس سے باہر آگیا۔۔

کیونکہ میرے بچے رحیم یار خان میں پڑھ رہے تھے، اُن کو اکیلا چھوڑ کر بہاول پور جانا میرے لیے مسئلہ تھا۔۔
اور دوسرا کیونکہ جو ملزمان ہم نے پکڑے تھے اُن کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا جنہوں نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہوئی تھیں اور سب سے زیادہ بُرا میرے ساتھ یہ کیا گیا کہ میرے گن مین لے لیے  گئے اور سرکاری گاڑی بھی تھانے  بھجوا دی گئی۔

مجھےکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کل تک میرے موبائل فون پر آئی جی اور  ڈی آئی جی  شاباش دے رہے تھے اور آج اُنہوں نے پوچھا ہی نہیں کہ بات کیا ہے ؟

کل تک جان ہتھیلی پہ رکھ کر پشاور علاقہ غیر سے دہشت گرد کو پکڑنے والا عزیز خان جس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ہیں، اُس کا کیا ہو گا؟

مگر یہ تو افسران بالا ہیں یہ تو خود اپنی کرسیاں اور پوسٹنگ بچاتے ہیں۔۔۔

زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے یہ سوچ کر میں اپنی کار پر بہاولپور روانہ ہونے لگا۔۔۔۔جب میں گھر سے نکل رہا تھا تو میرے دو گن مین کانسٹیبل نذیر نیازی اور کانسٹیبل قاسم گھر آگئے اور  بولے سر بے شک ہماری نوکری چلی جائے، ہم دونوں آپ کے ساتھ رہیں گے۔۔۔
قاسم بولا کہ وہ یہاں گھر رہے گا اور بچوں کی حفاظت کرے گا اور نذیر نیازی میرے ساتھ بہاول پور جائے گا۔

میں اور نذیر نیازی بہاول پور روانہ ہو گئے۔ شام کو پولیس لائنز میں حاضری  لگوائی، اپنے ایک دوست کے ہاں رہے، کیونکہ ہماری پولیس میں   اعلیٰ افسران کے   لیے  اُس وقت لائنز میں کوئی ریسٹ ہاوس نہ تھا۔

اگلے دن میں تیار ہو کر ڈی آئی جی صاحب کے آفس  پہنچ  گیا، تقریباً دو گھنٹے بعد مجھے بلوایا گیا ،میں اندر گیا ،سلام کیا تو اُس دن تو اُن کا رویہ ہی کُچھ عجیب تھا ،شدید غصے میں بولے ۔۔۔اوئے تمہاری اتنی شکایتیں ؟؟

مجھے بڑا عجیب لگا اور مجھے کُچھ دن پہلے کا سین یاد آگیا جہاں اسی کمرہ میں میاں عرفان انسپکٹر ڈی ایس پی اسلم غوری میں اور پوری رینج کے سات آٹھ کام کرنے والے کرائم فائٹرز افسران معہ تینوں اضلاع کے ایس ایس پی صاحبان موجود ہوتے تھے اور ہمارے لیے چائے کھانے آرہے ہوتے تھے اور بار بار یہی کہا جا رہا  ہوتا تھا بچڑے بس صادق گجر کا قاتل ٹریس کر دیں اور ملزمان پکڑ دیں۔۔

ڈی آئی جی  صاحب نے جب کسی سے کام کروانا ہوتا تھا تو اُسے پیار سے بچڑا کہتے تھے اور جب غصہ آتا تھا تو بلا تفریق رینک گالیاں دیتے تھے اس میں ایس ایس پی صاحبان بھی شامل تھے۔
مجھے بھی پیار سے بچڑا ہی کہتے تھے ۔۔۔پر اُس دن تو۔۔

میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا سر میرا قصور کیا ہے؟۔۔۔ بولے چیف منسٹر آفس سے اُن کے  پی ایس او مہدی صاحب کی کال آئی تھی کہ اس انسپکٹر کی بہت شکایتں ہیں اس کو بہاول پور رکھیں اور کوئی پوسٹنگ نہ دیں۔

تمہاری کوئی چھٹی نہیں اگر جانا ہو گا تو مجھ سے چھٹی لو گے اور تم ابھی جا کر چودھری علی اکبرگجر  ڈی ایس پی کے آفس رپورٹ کرو تمہارے خلاف شکایتیں اور چارج شیٹ چیف منسٹر آفس سے آئے گی اور پھر میں تم جیسے کرپٹ انسپکٹر کا علاج کروں گا۔

اور مزید فرمایا اوے تم موبائل فون استعمال کرتے ہو ؟۔۔۔
میں نے عرض کیا سر یہ وہی فون ہے جس پر دن میں دس بار جناب اور پانچ بار جناب آئی جی صاحب فون کر کے پشاور میں اور باقی جگہ ملزمان کی گرفتاری کی رپورٹ لیتے تھے۔
یاد رہے کہ اُن دنوں موبائل فون پر کال کرنا اور سُننا بہت مہنگا تھا اور رحیم یار خان کے چند افراد کے پاس موبائل ہوتے تھے۔

لیکن کسی بھی پولیس افسر کے پاس اُس وقت موبائل ہونا کتنا ضروری تھا اور یہ عیاشی نہ تھی بلکہ ضرورت تھا۔۔

میں علی اکبر گجر ڈی ایس پی جو کہ کافی ایماندار مشہور تھے اور بہت ہی سخت گیر بھی ،کے سامنے  پیش ہوا، انہوں نے بھی  ڈی آئی جی والی بات دہرائی کہ اگر جان کی امان چاہتے ہو تو صُبح آٹھ بجے سے دفتر رینج کرائمز آجایا کرو اور مغرب کے بعد جایا کرو غیر حاضری پہ سزا صرف نوکری سے برخواستگی ہے۔

میں حیران و  پریشان سوچ رہا تھا ،یا اللہ میں نے ایسا کیا جرم کیا ،ایک  ایم پی اے  کو ایسا بندہ چھوڑنے سے انکار جس کو چھوڑنے کی  نہ قانون اجازت دیتا ہے  نہ میرا ضمیر۔۔۔میرے بچے رحیم یار خان میں تھے اور میں یہاں بہاول پور۔۔
افسر ان بھی چیف منسٹر سے ڈر گئے ؟؟کسی نے بھی اُنہیں یہ نہیں بتایا کہ جناب یہ وہی انسپکٹر ہے  جس نے محکمہ کی عزت کے لیے  اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔۔
جس کو بہاول پور ائر پورٹ پر آپ نے خود  پچھلے ماہ اپنے ہاتھوں سے پروموشن کے بیج لگائے تھے اور آج یہ کرپٹ بھی ہو گیا اور بُرا بھی؟۔۔ بس بیٹھا سوچتا رہا۔۔

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *