عید قربان اور مما تحبون

لن تنالو البر حتی تنفقو مما تحبون۔
تم اس وقت تک بھلائی نہ پاؤ  گے جب تک اپنی محبوب اشیاء اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دو۔۔
میں کوئی مفتی یا کوئی عالم تو نہیں ایک گناہ گار جاہل بندہ ہوں۔۔پھر بھی اپنی ناقص رائے دینے کی جرات کرتا ہوں کہ اسی آیت کے پس منظر میں آپ قربانی والا جانور بھی سوچ سکتے ہیں۔۔وہ کیسے؟ ذرا ملاحظہ ہو۔۔
قربانی کا جانور عید قربان سے کم از کم پندرہ سے بیس دن  پہلے گھر لایا جائے۔۔۔اس کا خیال رکھا جائے،اس کی خوراک ، اس کی نیند کا، اسے بیماریوں سے بچانے کا، اسے روزانہ صاف کیا جائے، نہلایا جائے یعنی مختصراً یہ کہ اس کی خدمت کی جائے۔وہ آپ کا آپ اس کے عادی ہو جائیں۔اسے آپ سے آپ کو اس سے انسیت ہو جائے۔۔۔پھر ہی قربانی صحیح معنوں میں قربانی کہلاتی ہے کہ آپ نے اپنی ایک محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربانی کر دی۔۔عیدالاضحیٰ سے ایک رات  پہلے جا کر جانور خرید لانا اور اگلے دن چھری پھیر دینی یا عید کی نماز پڑھ کر جانا جانور خرید لانا اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد اس پر چھری پھیر دی ۔ یہ پیسوں کی قربانی تو ہو سکتی ہے لیکن جانور کے معاملے میں تو کم از کم اسے ذبیحہ( ذبح) ہی سمجھتا ہوں۔قربانی کا وہ جذبہ، وہ دکھ اور خوشی کے آنسو کہاں ہیں؟ دکھ اس بات کا کہ اس جانور سے پیار سا ہو گیا تھا۔ خوشی اس بات کی کہ اللہ کی راہ میں قربان کے ہم سرخرو ہو گئے۔۔۔
اس معاملے ہمارے دیہی علاقوں والے بازی لے جاتے ہیں جو بعض اوقات قربانی کے جانور کو پورا سال پالتے ہیں، اس کی خوب خدمت کرتے ہیں ،اس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔اس کو باقاعدہ ایک نام دیتے ہیں اور کئی کیسسز میں تو جانور کو گھر کا فرد ہی تصور کیا جاتا ہے اور پھر خدا کی خوشنودی کو قربان کر دیتے ہیں۔۔۔یہی ہے صیح معنوں میں”مما تحبون”!

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *