مکالمہ کے سو دن پر

عمر بیت جاتی ہے پھوپھیاں منانے میں
تیاریاں ہیں زورو شور سے جاری۔
اور مصروف ہیں سب مکالمہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے سفر میں
کہ اچانک ہی چل نکلا ذکرِ خیرپھوپھیوں کا۔
قطع نظر اس کے کہ ہمیں کسی کی براہ راست یا بلا واسطہ پھوپھی ہونے کا شرف حاصل نہیں۔
لیکن مشاہدہ بتاتا ہے کہ اس ذکرِ خیر میں کہیں کہیں جھوٹ اور زیادہ تر سچ ہی سچ ہے۔
سب سے پہلے تو ذکر ٹھہرا پھوپھیوں کے روٹھنے منانے کا وہ بھی عین شادی کے موقع پر۔
یوں تو زیادہ تر پھوپھیاں اس بات کی قائل ہوتیں ہیں کہ کوئ موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے
مگر شادیوں کا ماحول تو وہ پسندیدہ ترین ماحول ہے جب انہیں اہمیت جتانے کا پورا موقع ملتا کہ
جی ہم ہیں دلہا کی پھوپھی
اور پھر بقول شاعر
رسمِ دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
آسماں ایسے ایسے رنگ دیکھتا ہے پھوپھیوں کے روٹھنے کے اور منانے کہ، کہ توبہ ہی بھلی
اور پھوپھیوں کا شادی میں آنا بھی ایسے ہے جو نہ نگلتے بنے اگلتے
اس لئے طوہاً کرہاً ان کے مطالبوں کے آگے ہار مان کر ان کی شادی کے موقع موجودگی کو ممکن بنایا جاتا ہے ۔
کیونکہ بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ناراض رہ کر چنگاریوں کا شعلہ بننے کا موقع فراہم کرنے کے بجائے ان کو شادی والے گھر ہی لے آیا جائے۔ تاکہ شادی کے شُرلی پٹاخوں کے ساتھ پھوپھیوں کے شُرلی اور پٹاخوں کو بھی نظروں کے سامنے رکھ کر کسی ان دیکھے شَر سے بچا جا سکے۔
یہ الگ بات کہ خیر کے ہزاروں رنگ تو شر کے لاکھوں سو پھوپھیوں کے روٹھنے منانے کا سلسلہ تقریبات کے اختتام کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
کہیں سُوٹ من پسند نہ ملنے کا غم، کہیں بھائی کی توجہ نہ ملنے کا رولا
کبھی دلہن کے گھر پروٹوکول نہ ملنے پہ شور تو کہیں کھانے میں بوٹی نہ ملنے کا شکوہ
کہاں تک سنو گے کہاں تک سُناؤں
پھوپھیوں کے مسئلے میں کیا کیا بتاؤں
مکالمہ نے بھی ایک ایسی ہی شادی میرا مطلب ہے کانفرنس کا بیڑا اٹھایا ہے
دائیں، بائیں، آگے پیچھے پھوپھی جیسے کئی رشتے ہیں کہیں دوست، کہیں احباب کہیں استاد تو کہیں کئی بڑے نام
وقت ہے محدود اور فہرست ہے طویل، پینل ہے بڑا اور سوالات کم
دیکھتے ہیں کانفرنس کے اختتام تک کتنے لوگ پھوپھیوں کی فہرست میں آتے ہیں۔
بس کانفرنس خیریت سے انجام پائے۔
ہماری دعائیں مکالمہ ٹیم کے ساتھ ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

Sent from my iPhone

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

ثمینہ رشید
ہم کہاں کہ یکتا تھے، کس ہنر میں دانا تھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply