رائیونڈ مارچ اور رشتہ مانگتا لیڈر۔۔۔ڈاکٹر اسمارا مرتضی

ایک پنجابی محاورہ ہے

نانی نے کهسم کیتا برا کیتا

کرکےچھڈ دیتا، ہور برا کیتا

( ترجمہ نانی نے بڑھاپے میں شادی کرلی اچھا نہیں کیا لوگ کیا کہیں گے خود کے لیے اچھا کیا چلو ٹھیک فیصلہ تها، لیکن شادی کرکے اس عمر میں چهوڑ دیا یہ پہلے فیصلے سے بھی برا فیصلہ کیا )

سیاسی لیڈر اپنے بروقت صیح فیصلوں کی وجہ سے پہچانیں جاتے ہیں جیسے بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا بروقت فیصلہ کیا-قائد اعظم محمد علی جناح نے ہندو مسلم اتحاد کو چهوڑ کر مستقبل میں ہندو اکثریت کے ملک میں مسلمان اقلیت کا سوچا- کرپشن اکیلے عمران کا مسئلہ نہیں سارے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ لیکن اس کے لیے سڑکوں پر نکلنا ہی آخری آپشن تھا تو وقت کا تعین بہت اہمیت کا حامل تھا۔ اب جب کہ مسئلہ کشمیر اور اڑی حملہ ساری دنیا اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تو خان صاحب سولو فلائیٹ لے کر رائیونڈ مارچ کے لیے نکل پڑے ہیں۔ ان حالات میں بظاہر میاں صاحب کے لیے کوئی خطرہ نظر نہیں رہا ہے۔ عمران کو اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر پہلے اپنی صفوں کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔ اسی طرح بلاول جو دائيں بغل میں راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ اور بائیں بغل میں یوسف رضا گیلانی اور رحمان ملک جیسے کرپشن کے ٹائیکون کو بٹھا کر کرپشن کے خلاف پریس کانفرنس کریں تو یہ کانفرنس اپنے اندر ہی ایک بہت بڑا لطیفہ لگتی ہے۔ ویسے بھی میری رائے میں پیپلز پارٹی کا کرپشن کے خلاف بات کرنا خود ایک مضائقہ خیز بات ہے۔ ۔ یہ نہیں کہ کرپشن پہ بات نہیں ہونی چاہیے ضرور ہونی چاہیے لیکن اس سے پہلے ہم کو اپنے گریبانوں اور پیپلز پارٹی کو خاص کر کل سینٹ میں ہونے والی سینٹر مشاہد اللہ کی تقریر ضرور سن لینی چاہیے تھی۔

دراصل ہم ٹھہرے بھولے بادشاہ، سیاستدانوں کی کرپشن کے خلاف تحریکیں، جلسے جلوس اور مارچ بھی اکثر اوقات سیاست ہی کا شاخسانہ ہوتے ہیں جن میں مرتے جلوس نکالتے تو کارکن ہیں لیکن مفادات سیاسی ٹولے کے اپنے ہی ہوتے ہیں جس کا پارٹی منشور یا ملکی مفادات سے بعض دفعہ دور دور تک بھی تعلق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے میگا اسکینڈلز کی خبریں ہمیشہ گرما گرم ہوتی ہیں اور احتساب ہمیشہ ٹھنڈا ٹھار۔

مسئلہ یہ ہے کہ کون کس کا احتساب کرے گا ؟ ہم سب در اصل کسی نہ کسی حد تک کرپٹ ہیں۔ لیکن ہم کبھی نہیں مانتے تو کوئی دوسرا کیونکر مانے گا بھئی۔ معاشرے میں پھیلا گند سیاستدانوں کی بدولت نہیں ہماری اس گند پر خاموشی اور بار بار انہی لوگوں کو اقتدار سونپنے کا مطلب ہے کہ ہم سب بھی اس میں برابر کے حصے دار ہیں اور یہ گند ہمیں انفرادی طور پر خود بھی صاف کرنا ہوگا۔

میرا مقصد کسی بھی جماعت کے گُن گانا بالکل نہیں لیکن سابقہ پانچ سالہ دورِ حکومت بھی تو یاد کریں جب کوئی دن بھی بم دھماکوں اور خودکش دھماکوں سے خالی نہیں جاتا تھا۔ کبھی آٹا بلیک تو کبھی گھی کبھی چینی کا قحط تو کبھی حج اسکینڈل اور ایفیڈرین اسکینڈل سامنے آتا تھا۔ جنہوں نے حج جیسے فریضے کو نہیں بخشا وہاں عوام کی کیا حیثیت ہے عوام اندھی ہو تو ڈیزرو بھی کرتی ہے۔ بے چینی، افراتفری، بے سکونی کا یہ عالم تھا کہ مارکیٹ میں آٹے کے پانچ کلو کی خاطر لوگوں الجھتے لڑتے دھینگا مشتی کرتے دیکھا، میں خود گواہ ہوں اس بات کی کہ غریبوں کو چینی کے ایک ایک پاؤ کیلئے لمبی قطاریں بھی لگانا پڑیں۔ اتنی نحوست اور بے چینی تھی جو اب کم از کم اُس طرح تو نہیں ہے۔ خامیاں آج بھی ہیں، اس میں شک نہں کرپشن بھی بہت ہے، لیکن اس طرح ہر روز ناکام دھرنوں ، جلسے جلوسوں کے باوجود دوبارہ وہی عمل دہرا کے ملک کو مزید افراتفری اور انتشاری کیفیت میں لے جانا بھی کوئی عقل مندی نہیں۔

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ سب کو کرپشن یا دونمبری کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔ لیکن پیارے کارکنو، جیسے ہر چیز کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے اسی طرح دھرنے تحریکوں اور مارچ کا بھی ایک مناسب وقت ہوتا ہے۔ میں نے اور میرے شوہر نے 2013 کے الیکشن میں فیملی مخالفت کے باوجود تحریکِ انصاف کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن افسوس صد افسوس کے عمران کے ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں نے 2013 کی تحریکِ انصاف کو یرغمال بنا کے عمران کو ضائع کر دیا۔ عمران جیسے لیڈر کا ایسے اپنی زبان اور بزنس سلوگن کے ہاتھوں ضائع ہونے کا شاید مجھے آپ سے بھی زیادہ افسوس ہے۔

میرے مطابق تو عمران کا گراف اسی دن سے نیچے آنا شروع ہوگیا تھا جس دن دھرنا ختم ہوا تھا۔ یا تو وہ دھرنا کسی صورت بھی ختم نا کیا جاتا اور اگر کر ہی دیا تھا تو کے پی کے کو مثالی بنا کر منہ توڑ جواب دیا جاتا کہ 2018 میں آپکو اقتدار میں آنے کے لیے کوئی چیز نہ روک پاتی۔ لہذا اب کرپشن کے خلاف مارچ میرے نزدیک بے وقت اور بے موقع ہے۔ ان کو اتنی تو عقل ہونی چاہیے کہ جب ان کی تحریک اور دھرنے عروج پر تھے، تب کامیاب نہیں ہو سکے تو اب کونسا انقلاب آنے والا ہے؟ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کے بعد ایک ٹائم ایسا تھا کہ ن لیگ شہباز شریف اور رانا ثنااللہ کا استعفیٰ دینے تک رضامند ہو گئ تھی اور قادری صاحب اور عمران نواز شریف کے استعفیٰ پہ اٹکے ہوئے تھے۔ سیاست میں فیصلے بروقت کرنے ہوتے ورنہ یہ بے رحم سیاست ایک رات میں ہیرو سے زیرو بنا دیتی ہے۔

اب تو عمران نُون لیگ سے ایک کونسلر کا بھی استعفیٰ مانگیں تو وہ نہیں دیں گے تو وزیرِ اعظم کو ہلانے کا تو سوال ہی فضول ہے۔ اور چلو فرض ہی کرلو کہ یہ کچھ ہلانے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو کیا اس آخری ڈیڑھ سال میں ان کو سیاسی شہید بنا کر مظلوم بنانا خان کی سیاسی بصیرت ہوگی؟ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس تبدیلی کے لیے لوگوں نے خان کو 67 لاکھ ووٹ دیے تھے، خان نے اپنے غلط رویے اور بے تکی سیاست سے اس مینڈیٹ کا بھڑکس نکال دیا ہے ۔ اس لیے 67 لاکھ والو، تبدیلی نہ آنی تھی نہ آئے گی البتہ خان کی حرکتوں کی وجہ سے 2018 میں نون لیگ کی حکومت دوبارہ ضرور آ جائے گی۔

بظاہر تو لگ رہا کہ عمران کے ہاتھ سے پتے نکل چکے لیکن ابھی بھی اگر تحریکِ انصاف ہوش کے ناخن لے اور اپنی تمام تر توانائیاں، بولڈ سٹیپ کے پی کے میں اٹھائے تو ایک لیڈر کے لیے ڈیڈھ سال کا عرصہ بھی بہت ہوتا بشرطیکہ بندہ لیڈر ہو نہ کہ رشتے مانگنے والا ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”رائیونڈ مارچ اور رشتہ مانگتا لیڈر۔۔۔ڈاکٹر اسمارا مرتضی

  1. عمران کو اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر پہلے اپنی صفوں کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔ اسی طرح بلاول جو دائيں بغل میں راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ اور بائیں بغل میں یوسف رضا گیلانی اور رحمان ملک جیسے کرپشن کے ٹائیکون کو بٹھا کر کرپشن کے خلاف پریس کانفرنس کریں تو یہ کانفرنس اپنے اندر ہی ایک بہت بڑا لطیفہ لگتی ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *