• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے کے اقتدار کے آخری ایام؟۔۔۔۔آصف جیلانی

برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے کے اقتدار کے آخری ایام؟۔۔۔۔آصف جیلانی

یورپ سے علیحدگی کے مسئلہ نے برطانیہ کی سیاست کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم اپنی ناکامی کے حصار میں گھر کر بے بسی کا شکار ہیں اور آخر کار اپنی ٹوری پارٹی کے باغی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہوگئی ہیں ،جنہوں نے الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہوں ورنہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کر کے انہیں ان کے عہدہ سے ہٹا دیا جائے گا۔

ٹوری پارٹی کے ان اراکین کا مطالبہ تھا کہ ٹریسا مے اپنے استعفی کی تاریخ کا فی الفور اعلان کریں۔ ٹریسا مے نے وعدہ کیا ہے کے جون کے پہلے ہفتہ میں بریگزٹ کے قانون کی منظوری کے بعد وہ اپنے عہدہ سے دست بردار ہو جائیں گی۔ اس دوران وہ کوشش کریں گی کہ انہوں نے یورپ سے علیحدگی کے بارے میں جو سمجھوتہ طے کیا ہے اسے پارلیمنٹ سے قانون کی شکل میں منظور کرا لیں گی لیکن عام خیال ہے کہ کوئی معجزہ ہی ہوگا اگر یہ قانون منظور ہو گیا۔ کیوں کہ پارلیمنٹ بھاری اکثریت سے یہ سمجھوتہ تین بار مسترد کر چکی ہے۔

ابھی جب کہ ٹریسا مے نے صرف استعفی کا وعدہ کیا ہے کہ وزارت اعظمی کے دعوے داروں کی پوری ایک فوج میدان میں اتر آئی ہے۔جن میں سب سے پہلے وزیر اعظم کا انتخاب لڑنے کا اعلان سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے کیا ہے۔ ان کے علاوہ 30 کے لگ بھگ ٹوری اراکین پارلیمنٹ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ ٹریسا مے کی جانشینی کے امیدوار ہیں۔ ان میں موجودہ وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ، وزیر داخلہ ساجد جاوید، ماحولیات کے موجودہ وزیر مایکل گواور دار العوام کی لیڈر آف دی ہاوس اینڈریہ لیڈسم نمایاں ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں وزارت اعظمی کی دوڑ میں امیدوار ہیں کہ انہیں مشہور گھڑ دوڑ گرینڈ نیشنل کے گھوڑوں سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ ایک سو اسی سال پرانی اس گھڑ دوڑ میں غیر معمولی تعداد میں گھوڑے حصہ لیتے ہیں اور باڑھیں پھلانگتے ہیں نتیجہ ہر دوڑ میں تین چار گھوڑے گر کر مر جاتے ہیں۔اب تک اس دوڑ میں ۲۸ گھوڑے باڑ پھلانگتے ہوئے جان دے چکے ہیں۔ اس بار گرینڈ نیشنل میں چالیس گھوڑے دوڑ رہے ہیں۔ وزارت اعظمی کی دوڑ میں حصہ لینے والے امیدواروں سے دس گھوڑے کم۔

حکمران ٹوری پارٹی کے لیڈر کے انتخاب کا اہتمام کرنے والی ۲۲۹۱ کمیٹی ان امیدواروں میں سے صرف دو منتخب کرے گی جن کے درمیان اصل مقابلہ ہوگا۔ بہر حال ٹریسا مے کے جانشین کے انتخاب کے نتیجہ کے لئے عوام کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ بس جون کے پہلے ہفتہ تک۔ لیکن ٹریسا مے کے جانشنین کے انتخاب کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ نیا وزیر اعظم بریگزٹ کا بحران کس طرح حل کرتا ہے۔

آصف جیلانی
آصف جیلانی
آصف جیلانی معروف صحافی ہیں۔ آپ لندن میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بی بی سی سے وابستہ رہے۔ آپ "ساغر شیشے لعل و گہر" کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *