بلوچ تحریک کی جدلیات۔۔۔ فاروق بلوچ

بلوچ خطہ قدرتی وسائل مثلاً قدرتی گیس، تیل، کوئلے، تانبے، سلفر، فلورائیڈ اور سونے سے مالا مال علاقے میں کم ترین ترقی یافتہ خطہ ہے. پاکستان میں صوبہ بلوچستان، ایران میں سیستان و بلوچستان صوبہ، جنوبی اور جنوب مغربی افغانستان کا بلوچ علاقہ گزشتہ لمبے عرصے سے جاری مختلف تحریکوں کی وجہ سے بدحالی، بدامنی، جنگ اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔پاکستان میں بلوچستان یا بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ریپبلکن آرمی، لشکرِ بلوچستان، بلوچستان لبریشن یونائیڈڈ فرنٹ، ڈاکٹر اللہ نذر والی بی ایس او (آزاد)، اور مہران مری والی یونائیڈڈ بلوچ آرمی وہ تنظیموں ہیں جو پاکستان سے علیحدگی کی تحریک میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں. یہ تمام تنظیمیں ریاستِ پاکستان کی طرف سے کالعدم قرار دی جا چکی ہیں. اِن تمام تنظیموں کے اندازاً دس ہزار جنگجو اِس تحریک کا حصہ ہیں جبکہ پاکستان آرمی اور ایف سی کے پچاس پچاس ہزار فوجی اُن کے مقابل ہیں. 2005ء سے لیکر اب تک بارہ سو سے زائد علیحدگی پسند جنگجو اور نو سو سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں. جنگجوؤں اور فوجیوں کے علاوہ تین ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے. اسی طرح بلوچستان نیشنل موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی، حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی وغیرہ جیسی سیاسی جماعتیں بلوچ قوم پرستی کی بنیاد پہ سیاسی عمل میں شریک ہیں. بلوچستان میں سیاسی قوم پرستی اور قومیت کی بنیاد پہ علیحدگی پسندی دونوں طرح کی جدوجہد جاری ہے۔

قومیت کی بنیاد پہ جاری یہ جنگ اور جدوجہد اگر جیت لی جائے تو کیا ہو گا؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اگر علیحدگی پسند اپنی جنگ جیت جائیں اور ریاست پاکستان جنگ ہار جائے تو کیا ہو جائے گا؟ یہ جدوجہد کن بنیادوں پہ جاری ہے؟ انگریز کو دیس نکالا ہوا، ہندوستان آزاد ہوا، عوام کو کیا ملا؟ دسیوں بیسیوں کروڑ لوگ ہندوستان میں خطِ غربت سے نیچے سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں. نہ زندگی اپنی نہ موت اپنی ہے، ہر لمحہ اذیت، ہر لحظہ عذاب!!! دنیا بھر میں غریبوں کی ایک تہائی تعداد ہندوستان میں رہتی ہے لیکن ہندوستان آزاد ہے۔ تحریک آزادی ہندوستان کے مشہور گوریلا جنگجو بھگت سنگھ نے کہا تھا کہ “ہمارے فلسفہ آزادی کا مطلب گورے آقاؤں کو ہٹا کر کالے آقاؤں کو لانا نہیں ہے”. سونے کی چڑیا، وسائل سے مالا مال وغیرہ وغیرہ جیسے الفاظ تو اُس وقت ہندوستانی قوم پرست سیاستدان اور راہنما بھی بولا کرتے تھے. آزادی ملنے کے بعد وہ وسائل اور سونے کی چڑیا کا کیا ہوا؟ جو وسائل انگریز لوٹ رہا تھا وہ کیا ہوا؟ عوام تو وہیں کی وہیں کھڑی ہے. وسائل سے مالا مال ہندوستان کی عوام کی ذلتوں اور تکلیفوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے، کہاں گئے آزادی کے وہ ثمرات جو قوم پرست سیاستدانوں کی تقریروں کی زینت ہوا کرتے تھے؟

چلیں مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش کی مثال سامنے رکھتے ہیں. وہاں کے وسائل پہ مغربی پاکستان کی طرف سے لوٹ مار کی باتیں کی جاتی تھیں. اُس وقت کے بنگالی قوم پرست کہا کرتے تھے کہ جب تک ہم پاکستان سے آزادی حاصل نہیں کر لیتے ہماری حالت جوں کی توں رہے گی. اُن قوم پرستوں کو اسلام آباد میں بنگالیوں کے خون کی بو آیا کرتی تھی. وہاں قوم پرست سیاست اور علیحدگی پسند جنگجوؤں کی نعرے بازی ایسے ہی تھی جیسی آج بلوچستان کے سیاستدانوں کی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ بنگلہ دیش کی صورت میں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے آزادی مل گئی. اب کیسے حالات ہیں؟ ایک تہائی سے زیادہ بنگالی خط غربت سے نیچے ہیں۔ حتیٰ کہ پچیس فیصد بنگالیوں کو بجلی کی سہولت دستیاب نہیں ہے. کیا آزادی کے ثمرات مل گئے؟ وسائل سے مالا مال “آزاد” بنگلہ دیش کی عوام کی تکالیف بڑھ چکی ہیں۔

بلوچ قوم پرستوں اور قوم پرست جماعتوں کے کارکنان اور علیحدگی پسند جنگجوؤں سے ایک سیدھا سادہ سوال ہے کہ کیا آپ بھی ایسی ہی آزادی چاہتے ہیں؟ آزاد بلوچستان حاصل کرکے آزادی کے ثمرات کیلیے آپ کی پلاننگ کیا ہے؟ موجودہ ظالم حکمرانوں سے جان چھڑوا کر آپ کونسے حکمران لانا چاہتے ہیں؟ بلوچ جاگیردار، بلوچ سرمایہ دار اور بلوچ بورژوازی سے آپ یہ امید لگائیں کہ وہ بلوچ رعایا، بلوچ محنت کش اور بلوچ پرولتاریہ کے حالات بدل دیں گے تو یہ ایک خام خیالی ہے، یہ دیوانے کا خواب ہے، یہ تاریخی طور پہ انتہائی واہیات سوچ ہے. میں ایسی کسی قوم پرست تحریک کی حمایت نہیں کر سکتا جو سماج کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر اُس کا متبادل نظام نافذ کرنے کی صلاحیت اور لائحہ عمل سے عاری ہو۔

ایک بات یاد رکھیں “مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں کا کوئی ملک نہیں ہوتا، اُن کی کوئی قوم نہیں ہوتی، اُن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا”. ایک امیر ہندو اور ایک غریب ہندو دو مختلف طبقات ہیں، اُن کا مشترکہ مفاد کچھ بھی نہیں ہوتا. ایک امیر مسلمان پنجابی ایک غریب مسلمان پنجابی کے مفادات ایک دوسرے کے متصادم ہوتے ہیں. ایک امیر بلوچ اور ایک محنت کش غریب بلوچ ایک دوسرے کے مخالف درجے ہیں. وسائل سے مالا مال بلوچستان چاہے انگریز کے قبضے میں ہو، چاہے پاکستان کا حصہ ہو یا پھر آزاد بلوچستان ہو، عوام کی تکالیف اُس وقت دور ہوں گی جب ذرائع پیداوار پہ چند لوگوں کے قبضے کی بجائے پورے سماج کا قبضہ ہو گا. بلوچستان کے عوام کی زندگی میں بہتری اُس وقت آئے گی جب بلوچ محنت کش ذرائع پیداوار پہ سامراج، سامراجی گماشتوں، مقامی اور غیرمقامی سرمایہ داروں و جاگیرداروں کے قبضے کا خاتمہ کرتے ہوئے پورے سماج کی ملکیت قائم کریں گے. بلوچ جمہوریت، بلوچ قوم پرستی جیسے لالی پاپ بلوچستان کی تقدیر کو بدلنا دور کی بات تھوڑا سا بھی بہتر نہیں کر سکتے. اِس کا واحد حل خطے میں محنت کش عوام کی آمریت کا قیام ہے۔

بلوچ عوام کو چاہیے کہ وہ اُس تحریک کا ساتھ دیں جو جاگیرداری اور سرمایہ داری کو اپنی تکلیفوں کا سبب سمجھتے ہیں. بلوچستان کے عوام کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا اصل سبب سرمایہ داری اور جاگیرداری ہیں. اُن کے دشمن نہ پنجابی ہیں، نہ پاکستانی ہیں، نہ ہندوستانی ہیں، نہ ایرانی ہیں، نہ چینی ہیں بلکہ اُن کا اصل اور حقیقی دشمن سرمایہ دار اور جاگیردار ہیں. غیر سوشلسٹ جدوجہد اگر کامیاب بھی ہو گئی تو بلوچستان کے وسائل پہ مقامی سرمایہ دار اور جاگیردار قابض ہو جائیں گے، عوام ویسے کے ویسے ہاتھ مَلتے رہ جائیں گے۔

قومیت کی بنیاد پہ خودمختاری ایک یوٹوپیا ہے اور یہ کوئی غیرمادی مافوق الفطرت معاملہ نظر آتا ہے. ایک طاقتور قوم ایک کمزور قوم پہ کس بنا پر قابض ہو سکتی ہے، سوائے سرمائے کی طاقت کے کوئی ایسی طاقت نہیں ہے. بلوچ عوام اور دنیا بھر کی تمام عوام کو اپنی غلامی اور اپنے ہمہ قسمی استحصال کی وجہ کو سمجھنا ہو گا. مارکس نے ہنگری اور پولینڈ کی قوم پرست تحریک کی اِس لیے حمایت کی تھی کہ اُن کی تحریک کی بنیاد طبقاتی جدوجہد پہ مبنی تھی، جبکہ چیک اور کروشیا کی قوم پرست تحریک کی مخالفت کی کیونکہ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی طرح طبقاتی بنیادوں سے عاری جدوجہد تھی. ایسی تحریک جس کی بنیاد طبقاتی جدوجہد پر ہوتی ہے اُس کی کامیابی سماجی ترقی، عوامی خوشحالی اور غیرطبقاتی سماج جیسے ثمرات لیکر آتی ہے جس کیلیے ضروری ہے کہ ذرائع پیداوار کو چند انسانوں کی اقلیت سے چھین لیا جائے. جبکہ ایک ایسی تحریک جس کی بنیاد طبقاتی جدوجہد پہ نہیں رکھی جاتی وہ مالکوں، آقاؤں اور ظالموں کے نام اور چہرے تو ضرور بدل دیتی ہے مگر محنت کش عوام کو غلامی سے نجات نہیں مل پاتی.

قومی ریاست اور قومی شناخت جیسی اصطلاحات اور ایسے نظریات دراصل بورژوازی نظریات ہیں. یہ جبر کے آلہ کار ہیں. دنیا بھر میں صرف دو قومیں ہیں؛ امیر اور غریب، بورژوا اور پرولتاریہ، سرمایہ دار اور محنت کش مزدور. بورژوا انتہائی محدود اقلیت ہیں، جبکہ پرولتاریہ ایک وسیع اکثریت ہیں. بلوچستان کی قوم پرست سیاسی تحریک اور قومی پرست علیحدگی پسند تحریک اُس وقت تک سودمند نہیں ہو سکے گی جب تک اُن کی تحریک کی بنیاد طبقاتی جدوجہد نہیں ہے۔ طبقاتی جدوجہد یعنی سوشلسٹ ایجنڈے کے بغیر کسی بھی قوم پرست تحریک کا حصہ یا حامی بننا قرین انصاف و دانش نہ ہو گا۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بلوچ تحریک کی جدلیات۔۔۔ فاروق بلوچ

  1. Azadi k ehsas ka madi tarqi k sath mawazna nai Kia ja sakta… aur Han mere Khyal me India British govt se ziyada behter zindagi guzar raha hai aur Bangladeshi Pakistan se ziyada puraman aur achi zindagi guzar rahe hain… ap ki jagirdari k khelaf utne wali awaz ki taheed karte hain…

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *