• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • کیا انسان کا ارتقاء ابھی بھی جاری ہے؟۔۔۔۔ترجمہ و تلخیص: سلطان محمد

کیا انسان کا ارتقاء ابھی بھی جاری ہے؟۔۔۔۔ترجمہ و تلخیص: سلطان محمد

اگر ارتقاء لاکھوں کروڑوں سال سے جاری تھا تو آج یہ رک کیوں گیا ہے؟ کیا آئندہ انسان ارتقاء کی بدولت ہم سے مختلف ہوں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سوچنے سمجھنے والے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں اور اکثر علمی گفتگو میں بھی اٹھائے جاتے ہیں۔
ان سوالات کا مختصر جواب یہ ہے کہ جی ہاں ارتقاء آج بھی جاری و ساری ہے، بلکہ شاید اس سے زیادہ تیزی سے جتنا آپ خیال کرتے ہیں۔ آج کا انسان قریبی زمانے کے اپنے آبا و اجداد سے کس طرح مختلف ہے۔ ذیل میں ان تبدیلیوں کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے:

۱- اس کی آنکھیں نیلی ہیں: آج سے دس ہزار سال پہلے نیلی آنکھیں ناپید تھیں۔ چھ ہزار سے دس ہزار سال قبل کسی ایک فرد میں جینیٹک میوٹیشن کی وجہ سے یہ نیلا رنگ ظاہر ہوا اور نسل در نسل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا۔ آج دنیا کی آبادی میں سترہ فیصد لوگ نیلی آنکھوں والے ہیں۔ محسن نقوی فرماتے ہیں:

ریشم زلفوں نیلم آنکھوں والے اچھے لگتے ہیں
میں شاعر ہوں مجھ کو اجلے چہرے اچھے لگتے ہیں

۲- وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دماغ کا حجم کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے آباء واجداد کے دماغ (پندرہ سو مکعب ملی میٹر) کے مقابلے میں آج ہمارے دماغ کا حجم (تیرہ سو پچاس مکعب ملی میٹر) دس فیصد کم ہے۔

۳- عقل داڑھ کسی زمانے میں ہمارے اجداد کو سخت خوراک (شاخیں اور جڑیں وغیرہ) چبانے کے لئے ضروری تھیں۔ آج خوراک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے اور پکا کر کھانے کی وجہ سے عقل داڑھ کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے دنیا میں پینتیس فیصد انسان عقل داڑھ کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسانی جبڑے کا سائز بھی چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں میں عقل داڑھ بہت آگے جا کر نمودار ہوتی ہے اور ان میں بھی یہ تکلیف کا باعث بنتی ہے جسے آپریشن کرکے نکال پھینک دیا جاتا ہے۔

۴- پہاڑی علاقوں میں، جہاں ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے، جینیٹک ميوٹیشن کی وجہ سے لوگوں میں ہیموگلوبن پروٹینز زیادہ مقدار میں بنتے ہیں تاکہ دستیاب آکسیجن سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکے۔ سمندری علاقوں میں یہی مظہر زیرِ آب زیادہ وقت گزارنے والے لوگوں میں بھی دیکھا گیا ہے لیکن وہاں تلی یا سپلین اضافی آکسیجن فراہم کرنے کا وظیفہ سرانجام دیتی ہے۔

۵- افریقہ کے بعض علاقوں میں، جہاں پہلے ملیریا سے لوگ کثرت سے بیمار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے تھے، لوگوں کی جینز میں ایسی میوٹیشنز آگئی ہیں جن کی وجہ ان میں ملیریا کے خلاف قدرتی طور پر مزاحمت پیدا ہو گئی ہے۔ یہی بات افریقہ میں ایڈز کے وائرس کے لئے بھی درست ہے۔

۶- انسان قدرتی طور پر بڑا ہونے کے بعد دودھ میں موجود لیکٹوز کو ہضم نہیں کرسکتا (اسے ليکٹوز ان ٹولیرینس کہتے ہیں اور چینی آبادی میں یہ عام ہے)۔ مگر آج دنیا کی اکثر آبادی جینیٹک ميوٹیشنز کی وجہ سے اسے ہضم کرنے پر قادر ہوتی جا رہی ہے۔

ان شواھد کے ہوتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ارتقاء نہ صرف یہ کہ آج بھی جاری ہے بلکہ (بقولِ کارل ساگان) آئندہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے ہماری موجودہ انسانی نوع ہومو سیپینز نہیں، شاید اس سے ملتی جلتی کوئی اور مخلوق ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *