فن پاروں کا سفر ۔۔۔۔ عائشہ اذان

دنیا بھر میں ایک زمانے سے یہ رواج چلا آرہا ہے کہ فن پاروں کی بولی لگائی جاتی ہے۔ پوری دنیا سے فن پارے اکٹھے کئے جاتے ہیں اور نیلامی کے بعد عالیشان ڈرائینگ رومز میں لوگوں کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ اپنی شان و شوکت دکھانے کے لیے لٹکائے جاتے ہیں ۔ مرضی کا فن خریدنے کی خاطر اونچی سے اونچی بولی لگائی جاتی ہے تاہم آج ہم اس زمانے سے آگے نکل کر ایک ایسے وقت میں قدم رکھ چکے ہیں جہاں فن کی بجائے فن کاروں پہ بولی لگائی جاتی ہے۔ جو جتنا نامور اس کی اتنی ہی اونچی بولی۔ اس کے فن کی قدر کم اور اس کے برانڈ سے داد سمیٹنے کی دھن زیادہ۔

سوشل میڈیا بھی اب ایسی ہی ایک جگہ ہے جہاں فن سے زیادہ فنکار کو سراہا جاتا ہے جو ایک لحاظ سے تو اچھی علامت ہے کہ فنکار کو ایک بار پذیرائی مل جائے تو اسکے فن پاروں میں مزید نکھار آ جاتاہے لیکن شومئی قسمت کہ ہوا اس کے الٹ۔ جیسے ہمارا الیکٹرانک میڈیا پہلے آزاد ہوا اور پھر بالکل ہی مادر پدر آزاد ہو گیا، ویسے ہی سوشل میڈیا بھی ایسی جگہ بن گیا جہاں کوئی پابندی کبھی تھی ہی نہیں۔ جب لوگ متوجہ ہونے لگیں تو دل کی باتیں سٹیٹس بنیں اور پھر “جوک در جوک” فلاسفر پیدا ہونے لگے۔ یہ ایک خوبصورت عمل تھا۔ لوگوں کا ایک جگہ اکٹھے ہونا اور سیکھنا سکھانا ایک خوبصورت بات ہوتی ہے تاہم جب وہ لوگ لکھنے لگیں جنھیں ابھی پڑھنا چاہیے اور ان کے مقابل وہ ہوں جن کا وسیع مطالعہ ہو تو ایسے میں آپسی ٹکراؤ ہونا ایک فطری عمل ہے۔ البتہ اتنے لکھنے والوں کے میدان میں آجانے سے یہ امید بھی بندھتی ہے کہ کوئ منٹو یا ممتاز مفتی نہ بھی بن سکا تب بھی اردو پڑھنے والوں کو چند اچھے نام ضرور مل جائیں گے۔

اگر ہم اپنے سماج پر نظر ڈالیں تو علم ہوتا ہے کہ برصغیر کے لوگوں کے مزاج میں شدت پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اسی لیے ہر معاملے میں انتہاپسندی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی بت پرستی ہمارے مزاج کا حصہ ہے، چاہے وہ اپنی انا کا بت ہو یا کسی دوسرے کی علمیت کا۔ معاملہ کرکٹ کا ہو یا مزہب کا، جنونیت ہمارے لوگوں کی پہچان رہی ہے۔ اور وہی حال اب سوشل میڈیا پہ بیٹھے دانشوروں کا ہے۔ وہ بات بے بات ایسی انتہا پسند سوچ پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ اس پر مستزاد الیکٹرانک میڈیا کی طرح سوشل میڈیا کے لکھاریوں کو خریدنے والے بھی میدان میں آگئے ہیں۔ بھلا لکھنے والے کی زبان کو کوئی کیسے خرید سکتا ہے ؟ لکھنا ایک قدرتی صلاحیت ہے اور اچھا لکھنا ایک انعام ہے۔ لیکن دکھ تو اس بات کا ہے کہ اچھا لکھنے والے ایک دوسرے کے کام کو سراہنے کی بجائے بولی لگانے والوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔تنقید اور بحث کے سلسلے لمبے ہو گئےہیں۔ ان لکھاری فنکاروں کے درمیان خریدار ازل سے موجود ہیں۔ بھلے وقتوں میں خریداری کا یہ سلسلہ صرف فن پاروں تک محدود تھا لیکن اب قلم کاروں تک پہنچ چکا ہے۔

قلم کو قلمکار سمیت خریدنے کی یہ روش تاریخ میں بھی ملتی ہے جب درباروں کے شاہی مورخ بادشاہ وقت کی  کی مرضی سے ہر جانب چین ہی چین لکھتے تھے اور آج کی جدید دنیا میں بھی قلمکار کی خرید و فروخت پرپیگنڈے کا ایک اہم حصہ شمار کی جاتی ہے۔ فرق ہے صرف طریقہ کار کا۔ کمیونسٹ یا آمریت زدہ معاشروں میں یہ کام بزور طاقت کیا جاتا ہے تو سرمایہ دار دنیا میں سرمائے کے بل بوتے پر۔ البتہ ان ممالک اور ہمارے درمیان فرق یہ ہے کہ یہاں لوگ وقت کے ساتھ بلکہ اگر کہا جائے کہ حکومت کے ساتھ نظریات بھی تبدیل کر لیتے ہیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ یہاں کتنی ہی مثالیں ہیں ایسے قلمکاروں کی، جو آمروں کے لیے بھی (مناسب معاوضے پر) خدمات سرانجام دیتے رہے اور ان کے دور حکومت گزرنے پر اپنا قلم اٹھائے جمہوری حکمرانوں کے در پر بھی پڑے رہے۔ انہوں نے ہر دو ادوار میں اپنا قلم ہی نہیں، ایمان بھی بیچا اور اپنا ذہن بھی ۔۔۔۔ گویا خود کو بیچ ڈالا۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ قلمکار نہیں جنس بازار ہیں۔ جو کوئی ان کی بڑی بولی لگائے، وہ انہیں خرید کر اپنے ڈرائینگ روم میں لٹکا سکتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”فن پاروں کا سفر ۔۔۔۔ عائشہ اذان

  1. I like the point you are trying to mention the way you express its beautiful please write another piece related to aj kay kharidaar ??you are brilliant as always

  2. بہت عمدہ تجزیہ کیا آپ نے نام نہاد حاکم نگاروں پر. بہت اچھی کاوش ہے. اس کو جاری و ساری رکھیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *