دیالو قوم کے منگتے ۔۔۔۔ شاد مردانوی

اس کی آٹھ ماہ کی بچی ضیق النفس کے عارضے میں ابتلاء سے گزر رہی تھی. ہر گزرتا دن بیماری کو بڑھاوا دے رہا تھا. اور ہر نیا دن اس کی ایک اور امید کا قاتل بن کر طلوع ہوتا رہا. وہ رفتہ رفتہ سرکاری ہسپتال سے نجی ہسپتال اور نجی ہسپتال سے پرائیویٹ کنسلٹنٹ کی طرف جانے پر مجبور ہوچکا تھا.

میری اس سے ملاقات تب ہوئی. جب وہ معالجے کے اخراجات کیلئے اثاث البیت فروخت کرنے کی حد تک آچکا تھا. یومیہ اخراجات تو کسی قطار شمار میں نہیں آتے وہ تنخواہ دار ملازم فی گھنٹہ اخراجات سے عاجز آچکا تھا. ایسے میں مجھے ایک صاحب دل اور صاحب ثروت کا دھیان آیا. اور بچی اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کا تذکرہ کیا. زبان حال سے بچی کے والد کی دادرسی کا طلب گار ہوا.

انہوں نے ادویہ کی ہامی بھری. بچی کے والد کو جامژدہ سنایا. اور میں نے خوشی کے آنسو چمکتے دیکھے. لگے ہاتھوں ایک واقف کار فارمیسی والے سے ان کا تعارف کرایا. ضمانت دی کہ جتنی ادویات لے جانا چاہتے ہیں. ان سے جرح نہ کیا کریں. بس بل بناکر اپنے پاس ایک کاپی محفوظ کیا کریں.

ان سے اجازت لی اور اپنے بکھیڑوں میں الجھ گیا.

اگلے ہفتے زرا فراغت نصیب ہوئی تو بچی کی عیادت واسطے جاپہنچا. معلوم ہوا بفضلہ تعالی صحتیاب ہوکر گھر منتقل کرلی گئی. واپسی میں فارمیسی گیا. سوچا علیک سلیک بھی ہوجائے گی. اور لین دین کا بھی پوچھ لونگا.

خلاف معمول انہوں نے آؤ بھگت میں زیادہ گرم جوشی دکھائی. جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتی تھی. دم واپسیں انہوں نے ہاتھ ملاتے کچھ رقم پکڑائی. میں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر گنی تو وہ پانچ ہزار روپے تھے. سبب پوچھا تو معلوم ہوا. پانچ دن میں کل بائیس ہزار کی دوائیں استعمال ہوئیں . بچی کے والد کی ایماء پر بل لیکن پینتالیس ہزار کا بنایا گیا. جس پر فارمیسی والے صاحب کا مطالبہ ہوا کہ دس ہزار اوپر لونگا. اور اب فارمیسی کا مالک نہایت ایمانداری اور خلوص سے میرا حصہ مجھ تک پہنچارہا ہے.

یہ سب دیکھا اور سمجھ آگئی کہ میرے ملک میں اگر غریب پروری عروج پر تو منگتو مزاج بھی نرالے ڈھنگ رکھتے ہیں.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *