داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط 17

پیش لفظ!
اسلام آباد چالیس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ صاف ستھرا اور دی بیوٹی فُل سٹی تھا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی ملک کو فتح کرنا ہو تو اس کے دارالحکومت پر قبضہ کر لو۔ تو یہاں اقتدار کے سب شیدائی  اپنے ساتھ اپنی اپنی غلاظت لے کر وارد ہوئے۔ جس سے تعفن پھیلا۔ جو مکیں یہاں آیا یہیں مقیم ہو گیا۔ ماحول میں سکون ناپید ہے مایوسی فضا میں معلق ہے۔۔

نئی قسط۔
پھر ایک روز خالد شاہ فرحی اور اس کا منگیتر ایمبیسی میں ملنے آئے۔ خالد پنج تارہ ہوٹل میں جاب دلوانے کے شکریہ کی مٹھائی  لایا اور ساتھ آنے والے اپنی ہونے والی شادی کی دعوت دینے آئے۔ آؤٹر ریسپشن میں ملاقات کی،لیکن چانسری میں چہ مگوئیاں اور بھنبھناہٹ قابل شنید تھی۔ ہم چپڑاسی سے مٹھائی  کا ڈبہ اٹھوا کے کچن میں گئے۔ ایڈمن اتاشی کو مطلع کیا کہ ذاتی مہمان ہیں۔ چائے کے ساتھ ہر دفتر میں مٹھائی  کی پلیٹ  دینے کا حکم بیرے کو دیا ۔ ہمارے ریسپشن پہ  واپس پہنچنے تک سب کولیگ تانک جھانک کے فرحی سے مشرف بہ زیارت ہو چکے تھے۔ خواتین تو بالمشافہ مل چکی تھیں۔
ہمارے ذہن میں وسوسے تھے کہ ہماری پیار کہانی نہ نکل آئے ۔ محتاط گپ شپ کی تو خالد شاہ مدعا زبان پہ  لے آیا۔۔۔

اس کے ہوٹل میں فنکشن کے ریٹ میں رعایت درکار تھی جو وہ کرنے سے قاصر تھا ۔ منگیتر اور فرحی شیخ فیملی کم خرچے میں چوکھے رنگ کے خواہاں تھے۔ موقع  غنیمت تھا ،ہم نے فرحی کے بزرگ کا رُوپ دھارا، چائے مٹھائی  کے ساتھ حل بھی پیش کر دیے ۔ وہاں بیٹھے ایک دوست کو فون کیا۔ جس کا کمرشل مارکیٹ میں ویڈنگ ہال تھا ،مہندی اور بارات کے  فنکشن اصل لاگت پہ  کرنے کی ہدایت کر دی۔ ولیمہ کے لیے  خالد کے ہوٹل کے مالک سیٹھ کے پرسنل سٹاف آفیسر کو کال کی۔ اس نے بہت مزے کی بات کی،کہنے لگا۔۔ بڑے صاحب سے کہہ کے کمپلیمنٹری نہ کرا دوں !
ہم نے شکریہ کہہ کر  کہا کہ پچیس پرسنٹ سپیشل ڈسکاؤنٹ کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی۔
وہ جو کہتے ہیں اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ! فرحی کے منگیتر کو یقین ہو گیا ہو گا کہ ہمارے ان سے گہرے فیملی مراسم ہیں۔

فرسٹ سیکرٹری صاحب کے ساتھ

سفیر صاحب نے اپنے لیے  نئی فلیگ کار، اولڈز موبیل ، اپنے ملک سے منگوا لی۔ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو تھی اس وقت اسلام آباد میں اکثر سفارت کاروں کی کاریں لیفٹ ہینڈ ہوتی تھیں۔ پرانی بیوک فارن آفس کی ہدایت پر کراچی قونصلیٹ  بجھوائی ۔ اسے بھیجنے میں ہمارا کونسلر جنرل صاحب سے ڈائریکٹ رابطہ ہو گیا،جس کی وجہ سے ہماری ڈیوٹی  ان کے ڈرنکس کے ایگزمشن سرٹیفکیٹ فارن آفس سے جلدی اور کوٹے سے فالتو مقدار میں منظور کرانے کی  لگ گئی۔
اور وہ ہر کھیپ سے بانڈ سٹور کی اسلام آباد برانچ سے ایک آدھ کیس مجھے گفٹ کروا دیتے۔۔۔
دوسری پرانی کار شیورلے امپالا ،کنورٹیبل کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا، باڈی پارٹس ملتے نہ تھے وہ گیراج میں بند تھی۔سفیر صاحب اور فرسٹ سیکرٹری صاحب سے مشاورت اور اجازت سے وہ انشورنس کمپنی سے انشورڈ پرائز  میں کچھ کمی کر کے ان کے حوالے کروا دی، انشورنس کمپنی کے مالک بھی   احسان مند  ہو گئے،ایمبیسی کے لیے  اس کا متبادل چھ سیلنڈر نسان پٹرول جیپ امپورٹ ہوئی  جو واقعی پٹرول پہ  چلتی تھی۔اب ڈاج سٹیٹ کار بیچنے کے لیے  سفیر صاحب کے علم اور اجازت سے ڈرائیورز کو کھلا ہاتھ دیا۔

اسلام آباد میں ہمارا پڑوس۔
ہمارا شاپنگ ایریا

رونق یہ لگ گئی کہ دن بھر کسی ڈرائیور کی معرفت لوگ دیکھنے، چیک کرنے، چانسری کے باہر جمع رہتے ۔ تین چار دن بعد حکم ملا کہ یہ ڈرامہ ختم کیا جائے۔ ہم نے چار پارٹیاں اکٹھی بلا کے بولی کی۔ لیکن پہلے یہ وضاحت کر دی کہ جو بھی خریدے ہمارے تین ڈرائیورز کو تین تین ہزار روپے چابی کمیشن دے گا۔ یہ بھی بک گئی پر ڈرائیور پیسے لے کے بھی ہم سے خوش نہ ہوئے۔ ایک ناکام بولی دہندہ نے ہماری کار 16ہزار میں خرید لی۔۔
ڈاج کی جگہ سٹاف ڈیوٹی کے لیے  ٹیوٹا کریسیڈا سٹیٹ کار منگوائی  گئی ۔مرسیڈیز بچ گئی تھی۔ ہم نے سفیر صاحب اور دیگر ڈپلومیٹس سے منظوری لے کے ڈیڑھ لاکھ کی اپنی آفر لکھ کے جمع کرا دی،
بنک سے ایک سال کی سیلری کے برابر لون کی بات ہو گئی تھی۔ کار بیچی تھی اور جمع پونجی ملا کے ایک لاکھ ساٹھ ہزار کا بندوبست کر لیا تھا۔ اگلی صبح ایڈمن اتاشی نے بتایا کہ اسکے پاس ایک لاکھ پچپن ہزار کی آفر آئی  ہے۔ ہنستے ہوئے ہم نے اپنی آفر ایک لاکھ ساٹھ ہزار کر دی۔ دوپہر کو اتاشی نے دوبارہ اطلاع دی کہ دوسری پارٹی کی آفر ایک لاکھ  ستر ہزار ہے۔ میں نے آفر لیٹر مانگے۔ پہلا عام ٹائپ رائٹر پہ  تھا۔ دوسرا الیکٹرک ٹائپ رائٹر پہ  بغیر دستخط کے ۔۔نام اور ایڈریس سیٹلائیٹ پنڈی کا اور مانوس سا تھا،ازبر کر لیا۔ بات بھی سمجھ آ گئی۔ محترمہ لیڈی سیکرٹری کے  پرانے کلاس فیلو نے اپنے والد کے نام آفر ڈرائیور کے ہاتھ جمع کرائی  دوسرا خط ایمبیسی میں ٹائپ ہوا تھا۔
موصوف سے ہمارا بھی تعارف تھا۔ شام کو ہم سکاچ کی بوتل کے ہمراہ اس کے گھر مہمان تھے۔ بیٹھک ڈنر تک چلی  ،طے یہ پایا  کہ  کار ایمبیسی سے اس کے والد صاحب کے نام نکلے گی۔ قیمت وہ دیں گے،ڈرائیور کو بھی راضی کریں گے۔ لیکن فارن آفس سے لیٹر ملنے پر کار کی ڈیلیوری میں لوں گا اور ایک ماہ تک اپنے پاس رکھوں گا۔ وہ میرے اثرو  رسوخ سے واقف تھا، فارن آفس اور کسٹم کلیئرنس میرے تعاون  کے بغیر مشکل تھی۔ دوسرے میں نے اسے بتایا  کہ میرے پاس بھی پارٹی ہے جو مجھے پچیس ہزار منافع دینے کے علاوہ دو سے اڑھائی  لاکھ میں کار لینے پہ  تیار ہے۔
وہ پچیس ہزار دینے، ایک ماہ کار چلانے کے ساتھ دوستانہ منت ترلہ کرنے پر راضی تھا بس یہ درخواست کی کہ میں  لیڈی سیکرٹری اور ڈرائیور بارے نہ کوئی  ایکشن لوں گا نہ ایمبیسی میں کوئی  بات کروں گا۔
تو یوں ہم اس پرائی  مرسیڈیز 280 se پر چار بار نہ  صرف چکوال گئے ۔ پنڈی اسلام آباد گھومے۔ رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے گئے۔جہاں لوگوں نے واہ واہ کی وہاں چند بزرگوں نے بابا جی کی چکوال بیٹھک میں طعن ملامت کی ۔
ان کا کہنا صحیح تھا کہ میرے باپ نے زرعی زمین بیچ کے مجھے لاہور تک پڑھایا تو مجھے کار نہیں  کہیں زرعی اراضی لینی چاہیے تھی۔ اس کا جواب کچھ اور بزرگوں نے یہ دیا۔۔ یہ ابھی بچہ ہے راجپوت تو چالیس سال میں کہیں عاقل اور بالغ ہوتے ہیں یہ چھوٹا ہے شوق پورے کر لے۔ زمین خریدنے کو اس کی عمر پڑی ہے !
اس کار فروشی کے ساتھ ایمبیسی میں نئے ڈپلو میٹس کے لیے  کرایہ پر گھر لینے کو پراپرٹی ڈیلرز کی آمد و رفت بھی بہت تھی۔ اسلام آباد میں سرکاری کوارٹرز اور پرائیویٹ گھر قریباً برابر تعداد میں اس وقت تھے  لیکن اس وقت بھی ہر مالک مکان کی ترجیح گھر کسی سفارت کار کو دینا ہوتی۔ ہم نے بالارادہ خود کو اس سے دور رکھا۔۔۔
کمیشن کا لالچ جن کو تھا یہ کاروائی  ان دیگر کولیگز   کے حوالے تھی۔ لیکن پراپرٹی ڈیلرز میں جاننے والے رابطہ ضرور کرتے۔ ایک روز ہمیں اتاشی کے ساتھ ایف سیکٹر میں ایک پورشن دیکھنے جانا پڑا کارنر پلاٹ پر پانچ بیڈ روم کا ڈبل سٹوری گھر سی ڈی اے کے سٹینڈر نقشے پر بنا تھا، فرسٹ فلور پہ  صرف دو بیڈ روم اور کچن کا پورشن خالی تھا، پچھلے سیٹ بیک میں علیحدہ گیٹ اور کار پارکنگ تھی۔ سٹیر ہال بھی اسی طرف تھا گراؤنڈ فلور گیلری ڈور بند ہو تو  اپر پورشن الگ ہو جاتا۔ ڈیلر کو غلط فہمی تھی کہ گراؤنڈ فلور خالی ہے اتاشی کے لیے  غیر موزوں تھا، ہمارے لیے  کسٹم بلٹ۔ مین ناظم الدین سے نکلتی گلی پہ  بہترین لوکیشن ۔ نچلے پورشن میں پی آئی  اے پائلٹ نئے آئے تھے ملاقات ہوئی  ،تعارف ہوا تو ان کی وساطت سے پورشن ہم نے کرایہ پر لے لیا۔
فرحی کا منگیتر دوبارہ ملنے آیا ۔ فارمل دعوت نامہ دینے۔ ہر کسب و ہنر اور اس سے متعلق ذات کی خصوصیت ہوتی ہے۔۔۔شیخ بچہ تھا ہماری شفقت سے شادی کے خرچے میں ہزاروں کی بچت آسانی سے ہو گئی۔ وہ مصر تھا کہ سارے فنکشن میں شرکت کروں۔ چھٹی کا وقت تھا چائے نہ پلانے پر معذرت کی،مصروفیت ، شفٹنگ اور گاؤں جانے کا نوحہ پڑھتے سڑک پر آ گئے۔ نکاح مہندی سے معذرت کی، ولیمہ اوپن رکھا ۔ ہاں بارات میں حاضری ویڈنگ ہال والے دوست سے دوبارہ فون پہ  بات کرتے کنفرم کر چکے تھے۔ وہ اکیلا بائیک پہ  پنڈی سے صرف مجھے کارڈ دینے آیا تھا لیکن آج وہ
پورا رقیب لگ رہا تھا۔ ہم اشارے سے بائے بائے کرتے کار کھول رہے تھے کہ وہ دوبارہ پاس آ گیا۔ کہنے لگا۔۔
بھائی  جان یہ مرسیڈیز آپ نے خریدی ہے ؟ آپکی ہے یہ ! پلیز بارات کے  لیے مل سکتی ہے؟۔۔
ہمارا دل ویسے جل رہا تھا اب خون بھی کھول اٹھا۔ وہ ہم سے چار پانچ سال بڑا ہو گا ،بھائی  جان ایسے بولا جیسے ہم اس کے چچا کے برابر ہیں ! لیکن ہم جب اپنی زندگی کی بہترین سہیلی اس کے آگے ہار چکے تو ان باتوں سے کیا ہونا  تھا !
ہم نے خود پہ  بزرگی اور شفقت طاری کرتے  ہوئے بڑی محبت سے کہا۔ میری جان پیارے بچو جی یہ کار لی تھی لیکن کل رات کو بیچ دی ہے ۔ آج حوالے کرنی ہے ،دل میں ہم نے یہ سوچا۔۔بے غیرت تُو نے مجھے اسامی سمجھ لیا ہے ۔
کڑی چُپ چاپ چھوڑ دی اب گاڑی بھی مانگتا ہے کمینہ  کہیں کا ۔۔ پتہ نہیں  کدھر سے نازل ہو گیا۔ ۔مردود ۔۔
وہ بائیک سٹارٹ کر کے چلا گیا۔ ہم کافی دیر کھڑے سوچتے رہے کہ یہ ہو کیا رہا ہے ؟
چانسری سے چھٹی کر کے لیڈی سیکرٹری کو آتے دیکھا۔ جھٹ سے کار سٹارٹ کردی ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں  کیوں لگا وہ مجھ سے یہ کار چھین لینا چاہتی ہے۔ ۔
بعض اوقات بندہ سب کچھ پاس ہوتے  ہوئے بھی  کسی شے کا مالک نہیں  ہوتا !
جاری ہے !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *