تعلیم اور ہماری ترجیحات ۔۔۔۔ عائشہ جاوید چودھری

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ، جو بھی حکومت میں آیا ،نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگا کر غریب عوام کو خواب دکھا کر چلتا بنا۔ نہ کسی نے تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کی، نہ اس پر سوچا۔ البتہ جھوٹے وعدوں اور اعداد کے ہیر پھیر سے قوم کی آنکھوں میں دھول ضرور جھونکی۔ نہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے۔

اس جدید دور میں سروائیو کرنے کیلئے اور آنے والی نسل کو جدید دور کیلئے تیار کرنا بہتر تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اس معاملے میں محلات میں بیٹھے دولت مندوں اور گاوں میں بیٹھے فاقہ کشوں کی خواہش ایک سی ہے۔ اگر کوئی خود نہیں پڑھا تو اسکی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو اچھی تعلیم ضرور دلوائے تاکہ اس کی اولاد جدید دور میں درپیش مسائل کا باآسانی مقابلہ کر سکے۔ واضح رہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام ہر چڑھتے سورج کے ساتھ تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ اسکی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سر فہرست پچھلے تیس سال سے اس ملک میں آنے والے ہر حکمران کی عدم دلچسپی ہے۔ خیرات کی طرح تعلیم کو بجٹ، اور سوتیلی ماں جیسی مینجمنٹ دے کر اپنی زمہ داریوں سے بری ہونے والے یہ حکمران تیس سال سے ایک نئی انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کی یونیورسٹی بنانے سے قاصر رہے ہیں۔

نصاب کی بات کی جائے تو نیپال، سری لنکا، انڈیا، جیسے ایشیائی ممالک سے ہم کہیں پیچھے نظر آتے۔ اس چیز کا اندازہ وہ پاکستانی بخوبی لگا سکتے جو بیرون ملک روزگار یا تعلیم کے سلسلے میں موجود ہیں۔ اور تو اور اسلامی ملک ہونے کے ناطے آج تک اسلامیات کے نصاب پر اتفاق نہیں ہو سکا جو ہر تیسرے سال ترمیم کا نشانہ بنتا ہے پچھلے دو عشروں میں بہت سی آیات اور احادیث کو نکال کر اسلامیات کو جدید بنیادوں پر تحریر کیا گیا۔ علم زیادہ سے زیادہ جاننے کو کہتے ہیں لیکن حکومت کی یہ منطق سمجھ سے باہر ہے۔

اختلاف ہو سکتا ہے لیکن میرا ماننا ہے جب بھی کسی ملک نے ترقی کی ہے اس نے اپنے مضبوط تعلیمی نظام سے ابتدا کی۔ اور ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔ جن ممالک نے اب تک ترقی کی اس نے سلیس بنانے میں اپنی زبان کو ہی ترجیح دی۔ اور ترقی کا راز بھی یہ ہی معلوم ہوتا ہے . اس کے برعکس اپنا جائزہ لیا جائے تو ”علاقائی زبان میں ہم تعلیم بانٹتے ہیں اور نسل کی بنیاد پر لوگ” جو کہ صدیوں پرانا فامولا ہے جو اب ختم ہو چکا۔ اس تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے چند اقدامات اٹھائے جائیں تو جلد یہ لڑکھڑاتا نظام پٹری پر آ سکتا۔

1: پورے ملک میں اردو زبان رائج کر دی جائے تاکہ ہر پاکستانی کو علاقائی یا صوبائی زبان کی بجائے قومی زبان میں تعلیم دی جا سکے۔

2: ہر پاکستانی کو شروع دن سے ایک ہی سلیبس پڑھایا جائے تاکہ اس قوم کی خدمت کرنے کا جب موقع آئے تو کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہ ہو۔

3: آئین پاکستان میں ترمیم کر کے شق ڈالنی چاہیئے کہ ہر سرکاری آفیسر، ہر عوامی نمائندے پر لازم ہو گا کہ وہ انٹرمیڈیٹ تک اپنے بچے سرکاری سکول میں پڑھائے۔

4: اساتذہ کی مراعات بڑھا دی جائے تاکہ انہیں گھر چلانے کیلئے پرائیویٹ پڑھانا نہ پڑے۔

5: اساتذہ سے صرف تعلیم کے متعلق کام لیا جائے تاکہ نئی نئی ریسرچز کر کے وہ طلباء کو بہتر تعلیم دے سکیں۔

6: دفاع کے بعد سب سے زیادہ بجٹ تعلیم اور صحت کیلئے رکھا جائے۔ تاکہ سکالرشپ پر ہم اپنے بچوں کو جدید سے جدید تعلیم دلوا سکیں۔

اگر کوئی حکمران اس قوم کے ساتھ مخلص ہو تو یہ سب ناممکن نہیں۔ اگر ممکن ہو جائے تو اس ملک کو چند سالوں میں صف اول کے ترقی یافتہ ممالک میں پائیں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *