فاصلے ۔۔۔ معاذ بن محمود

 

پہلی ڈوبتی سوچ:

زیادہ نہیں۔ میں فقط اتنا چاہتا تھا کہ میری اولاد، میری آنکھوں کی ٹھنڈک، میری محدود سی کل کائنات کا جانشین، میرا بیٹا۔۔ اس راہ کا انتخاب کرے جس میں اس کی بہتری ہو۔ لیکن ہمارے درمیان اختلاف ہی رہا۔ وہ جس راہ پر چلنا چاہتا تھا وہاں ایک اداس شام تھی۔ ویسی ہی شام جو میری زندگی میں رہی۔ اندھیرے کی جانب گامزن اس شام کے بعد اماوس کی ایک رات تھی۔ گہرے اندھیرے بھری ایک رات۔ میں چاہتا تھا وہ اس رات تک پہنچنے میں جلدی نہ کرے۔ میرا خون جلتا تھا جب میرا خون میرا بیٹا میرے تجربے سے مستفید ہونے کی بجائے اپنے جذبات کے زیر اثر ایک دلدل میں دھنستا دکھائی دیتا۔

ہاں یہ ٹھیک ہے کہ میں نے ساری زندگی اسے سختی سے صراطِ مستقیم پر چلائے رکھا۔ یقیناً اسے برا محسوس ہوتا ہوگا جب وہ رات بھر کتابیں سامنے رکھے اپنے مستقبل کی تیاری پر مجبور ہوتا ہوگا، شاید میری ناراضگی کے پیش نظر۔ لیکن اسے محسوس کرنا چاہئے تھا کہ یہ سب اسی کی بہتری کے لیے ہے ورنہ یہ ظالم دنیا اسے رزق کے حصول میں خوب ستائے گی۔ یہ سماج، جس زاویے سے میں اسے دیکھتا، ایک جاہل یا کم تعلیم یافتہ شخص کو مستقبل میں ساتھ بٹھانے سے بھی انکاری ہوتا۔ اسے غصہ بھی آتا ہوگا جب اس کی دوسری پوزیشن پر میں اسے پہلی پوزیشن حاصل نہ کی یاد دہانی کرواتا رہا۔ لیکن اسے سمجھنا چاہئے تھا کہ کل کو اس کے ساتھ پوری دنیا یہی رویہ رکھے گی۔ کیا اسے زمانے کی سرد مہری کے لیے تیار کرنا میری ذمہ داری نہیں تھی؟

پھر چاہے میرا کردار ایک منفی ولن والا ہی کیوں نہ رہا ہو؟

جوانی کے سفر میں قدم رکھتے ہی اسے ایک لڑکی سے عشق ہوگیا۔ ویسے ہی جیسے کبھی مجھے ہوا تھا۔ اس کے عشق میں کوئی خامی نہ تھی۔ ویسے ہی جیسے میرا عشق کامل تھا۔ میں بس اس خاندان کو جانتا تھا۔ وہ سب میرے آزمائے ہوئے تھے اور ناکامیوں کی انتہاء کو چھوتے تھے۔ ویسے ہی جیسے میرے عشق کا نسب ناکام تھا۔ میں اسے اپنے تمام تر تجربات بتا چکا تھا مگر وہ تھا کہ ماننے سے انکاری۔ وہ اجتماعیت پر مبنی دلائل کو دیوار پر دے مارتا۔ وہی دلائل جو میرے نزدیک میری زندگی کا نچوڑ تھے۔ وہ ہر فرد کو یکتا دیکھتا۔ میں کیسے اسے اس راہ پر چلتا دیکھ سکتا تھا جس پر میں چل چکا تھا۔ میں کیسے اسے ایک دن زخمی دل کے ساتھ آخری سانسیں لیتا سوچ سکتا تھا۔

ویسے ہی جیسے میں ابھی لے رہا ہوں۔ میں نے دنیا میں بحیثیت باپ اپنا کردار اس کے حق میں دان کر دیا تھا۔ یقیناً وہ سوچتا ہوگا کہ اس کا باپ ایک سخت گیر شخص تھا۔

یہ میری آخری سانسیں ہیں۔ میرے پاس میرا کنبہ موجود ہے مگر وہ نہیں۔

وہ اپنی ضد پوری کر کے اپنی دنیا الگ بنا چکا تھا۔ وہ وہی راہ اختیار کر چکا تھا جس پر چلنے سے میں اسے روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ ہاں اس نے مجھ سے معافی ضرور مانگی تھی جب وہ میری نسل کی بقاء کے ساتھ اور اپنے عشق کے ساتھ میرے پاس ہاتھ جوڑنے آیا تھا۔ بھلا ایک باپ کیسے خدا کی کتاب کے سامنے بیٹھ کر ہاتھ جوڑتے بیٹے کو معافی دینے سے انکار کر سکتا ہے؟ میں نے اسے معاف کر دیا تھا۔

لیکن کیا واقعی میں اسے معاف کر پایا؟

مجھے نہیں معلوم۔ شاید ہاں۔ شاید نہیں۔ ایک خلش موجود ہے لیکن کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ اب اپنی راہ کا مسافر ہے۔ شاید ایک دن وہ اپنا محاسبہ کرے۔ شاید وہ ٹھیک ہو میں غلط۔ شاید میں حق پر ہوں اپنی اولاد کا راستہ چننے کو؟ اب فقط چند گھڑیاں ہی تو ہیں یہ بار کاندھوں پر اٹھائے اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونے کو۔ وہ فیصلہ کرنے والا ہے، نیت کا حال جاننے والا ہے۔ یقیناً اس کا فیصلہ منصفانہ ہی ہوگا۔

میری نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا ہے۔ ڈاکٹر میرے گھر والوں کو بری خبر سنا چکے ہیں۔ یہ وہ آخری تلخ حقیقت تھی جو میرے دماغ نے میرے شعور کو بتائی۔ اب شاید دماغ کا یادداشت سے منسلک حصہ فعال ہے۔ اور شاید وہ بھی غیر فعال ہونے کو ہے۔ آخری احساس جو میں محسوس کر رہا ہوں وہ دوری اور فاصلے پر مبنی ہے۔ کاش وہ میرے پاس ہوتا۔ مگر وہ نہیں۔

(اندھیرا)


دوسری ڈوبتی سوچ:

میں ان کی اولاد تھا۔ پہلی اولاد۔ یقیناً ان کی دنیا میں رنگ اور خوشیاں لے کر آیا ہوں گا۔ یقیناً مجھے پہلی بار دیکھ کر چھو کر ان کے آنسو نکلے ہوں گے۔ جیسے میرے نکلے تھے۔ اپنی پہلی اولاد کر دیکھ کر۔ یقیناً انہوں نے دنیا بھر کی خوشیاں میری جھولی میں ڈالنے کا عہد کیا ہوگا۔ جیسے میں نے کیا تھا اپنی نسل کو دیکھ کر۔ یقیناً انہوں نے سوچا ہوگا ان راستوں پر جن پر میں نے چلنا تھا۔ یقیناً وہ چاہتے ہوں گے کہ میں ان سے بہتر راستے کا انتخاب کروں۔ یقیناً وہ مجھ سے محبت ضرور کرتے ہوں گے۔

لیکن میں ان کی محبت کا طریقہ نہیں سمجھ پایا۔ جس وقت مجھے محبت کی ضرورت ہوتی مجھے پڑھنے کا کہا جاتا۔ مجھے کہا جاتا محنت کرو ورنہ دنیا میں پیچھے رہ جاؤ گے۔ لیکن میری دنیا کیا تھی؟ کیا میرے ماں باپ بہن بھائی میری دنیا نہیں تھے؟ پھر میری دنیا کا وہ حصہ جہاں سے مجھے سب کچھ سیکھنا تھا، وہ اتنا سرد مہر کیوں تھا؟ شاید مجھے مستقبل کے وہ تھپیڑے برداشت کرنے کے لیے جن کا مقابلہ میں نے کرنا تھا، جن کا مقابلہ میں نے کیا۔ شاید میرا مستقبل سنوارنے کو؟ لیکن بہترین مستقبل کی قیمت بدترین حال کیوں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مستقبل کسی نے نہیں دیکھا؟ پھر ان دیکھے وقت کو بہتر کرنے کے لیے دکھائی دینے والے وقت کی قربانی کیوں؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میرا مستقبل اسی حال کی قربانی کی وجہ سے بہترین رہا۔ پر اس سودے کی قیمت کیا رہی؟ ایک باپ کے لیے بیٹے سے بہترین تعلقات؟ ایک بیٹے کے لیے باپ کی بھرپور محبت کا اظہار؟

میں ساری زندگی نہ چاہتے ہوئے وہ راستہ اختیار کرتا رہا جو انہوں نے چاہا۔ لیکن مجھے اس راستے سے نفرت تھی۔ شاید اب نہیں۔ تب مگر ضرور تھی۔ مجھے غصہ آتا جب محلے کے بچے کرکٹ کھیل رہے ہوتے تھے مگر میں کتابیں سامنے رکھے پڑھائی کر رہا ہوتا۔ تب مجھے خوب غصہ آتا۔ ہاں یہ بھی تو سچ ہے کہ اسی تعلیم نے مجھے تب سہارہ دیا جب اپنے آنکھیں پھیر گئے؟ جن دوست یار پیارے سبھی پرائے ہوگئے۔ میرا دل ٹوٹ جاتا جب میں دوسری پوزیشن لے کر انعام دکھا رہا ہوتا اور ابا پہلی پوزیشن والی کی جانب اشارہ کر کے کہتے یہاں تم بھی کھڑے ہوسکتے تھے اگر ذرا سی محنت اور کرتے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ رویہ تو پوری دنیا نے برقرار رکھا۔ بہت کم تھے جو کامیابی پر خوش ہوتے۔ باقی سب تو نیچے گرانے میں جتے رہتے تھے۔

کیا میرا باپ ایک ولن تھا؟ یا ایک ایسا ہیرو جس نے تمام کہانی میں اپنے کردار کی عظمت کو میرے بہتر مستقبل کی خاطر فنا کر ڈالا؟

جواں سالی میں قدم رکھتے ہی مجھے اس لڑکی سے عشق ہوا۔ جوانی کے ٹھاٹھیں مارتے خون نے مجھے مجبور کیا کہ میں سیدھا لڑکی کے خاندان سے پوچھ بیٹھا۔ مجھے کیا کرنا ہوگا محبت کی یہ داستان مکمل کرنے کی خاطر؟ جواب آیا کچھ خاص نہیں بس کچھ بن کے دکھا دو۔ ہاں اگلے کئی سال میرے اور ابا کے مختصر المیعاد اہداف ایک رہے۔ تعلیم کا حصول وہ بھی اعزاز کے ساتھ۔ شاید کچھ بننے کا راستہ یہی تھا۔ یہی راستہ ابا کو بھی پسند تھا۔ لیکن ابا کو میرے آخری ہدف سے اختلاف تھا۔

انہیں اس خاندان سے اختلاف تھا۔ آخر وہ بھی اسی خاندان سے تعلق جوڑ بیٹھے تھے جس سے میں نے جوڑنا چاہا۔ وہی خاندان جس کے دیے گئے چیلنج کے باعث میں نے کچھ بن کر دکھایا۔ ننھیال ددھیال کے اس مقابلے کی چکی میں آخر میں کیوں اپنی زندگی قربان کرتا؟ ابا نے ہمیشہ مجھے ہر وہ چیز دلائی جس کی میں نے خواہش کی۔ پھر سب سے قیمتی شے کے حصول سے انکار کیوں؟ شاید اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ ایسا دیکھتے ہوں جو میں نہ دیکھ پاتا۔ لیکن کیا سب انسان ایک سے ہوتے ہیں؟ کیا یہ ضروری ہے کہ میں اسی اداسی کا شکار بنتا جو ابا میرے لیے محسوس کرتے؟ کیا یہ لازمی ہے کہ ایک ہی طرح کے حالات میں دو انسانوں کا تجربہ ایک سا رہے؟

ہاں میں نے اپنا راستہ خود چنا۔ اور ہاں میں نے اس کی قیمت چکائی۔ وہ قیمت ماں باپ بہن بھائی سب کو چھوڑ کر ایک نئے سرے سے زندگی کا آغاز تھا۔ اس سفر میں مجھے اپنوں نے حقیقی رنگ دکھائے۔ غیروں نے نقصان پہنچایا۔ لیکن میں اس کے لیے پہلے سے تیار تھا۔ یہ سب تو ابا مجھے سکھا ہی چکے تھے۔ اپنی محبت کے اظہار کی قیمت پر۔ مجھے اختلاف تھا ان کے اظہار محبت کے اس طریقے سے۔ یہ سچ ہے کہ میرا ماضی ایک تلخ یادوں پر مبنی کتاب تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ کرب ناک کتاب پڑھے بغیر آگے کی زندگی بہتر گزارنا شاید ناممکن تھا۔

میں نے اپنی اولاد کے لیے بہترین مستقبل پر بہترین حال کو فوقیت دی۔ میں نے اپنے بیٹے کو وہ پوری آزادی دی جس کی اس نے خواہش کی۔ میں نے اپنا پرانا حال قربان کرنے کی کبھی قیمت چکائی تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک بار پھر تاریخ خود کو دوہرائے۔ لیکن میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون سا راستہ ٹھیک تھا۔ وہ جو ابا نے منتخب کیا میرے لیے یا وہ جس کا انتخاب میں نے اپنی اولاد پر چھوڑ کر منتخب کیا۔ میں بس ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ جہاں وہ گرتا میں اسے سہارہ دیتا۔ جہاں وہ روتا میں اس کے آنسو پونچھتا۔ وہ کئی بار رویا۔ اس سے کہیں زیادہ جتنا کبھی میں روتا۔ لیکن چلتا رہا۔

میں نے ابا سے معافی بھی مانگی تھی۔ وہ قرآن پڑھ رہے تھے۔ تلاوت سے فارغ ہوکر انہوں نے مجھے خوب سنائیں۔ اپنا دل ہلکا کیا۔ اور پھر اماں کو کہا کھانا لگا دو اس کے لیے۔ کیا ہی حسین روح تھے وہ۔ ان کے بقول وہ مجھے معاف کر چکے تھے۔

لیکن جانے کیوں پھر بھی ایک کسک سی باقی ہے دل میں۔ آج تک جب میں بستر مرگ پر ہوں۔ میری سوچ کا سورج ڈوبنے کو ہے۔ مجھے اس جرم کا احساس ہے کہ میں ان کے آخری وقت میں ان کے ساتھ نہ تھا۔ میری اولاد بھی اس وقت ان سے دور تھی۔ میں جانتا ہوں کہ وہ ساری زندگی خصوصاً آخری وقت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ پھر بھی میں ان کی اکھڑتی سانسوں کا سہارہ نہ بن سکا۔ میرے فیصلے میرے راستوں کا انتخاب خدا جانے سہی تھا یا غلط۔ اس کا فیصلہ کچھ ہی دیر میں ہونے کو ہے۔ میں نے ابا کا دل تو دکھایا لیکن وہ ہدف ضرور حاصل کیا جس کے لیے وہ ساری زندگی اپنا دل دکھاتے رہے۔

وہ۔۔۔ ایک ہیرو تھے۔ مگر شاید میں ایک ولن۔

میرے سامنے اندھیرا ہے۔ شاید کبھی ایسا ہی اندھیرا ان کے سامنے تھا۔ شاید کبھی ایسی ہی دوری اور فاصلے ہمارے درمیان تھے۔ کاش یہ فاصلے ہم اپنی زندگیوں میں ختم کیے رکھتے۔ وہی فاصلے جو اب ختم ہونے کو ہیں۔

(اندھیرا)

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *