علم کی ناموس کا مسئلہ ۔۔۔ محمد تہامی بشر علوی

احمد جاوید صاحب کو ناگزیر لگا کہ بزبان خود تصریح کر دی جائے ، سو فرمایا: “غامدی صاحب سے میرا اختلاف، درست اور غلط کا ہے اور غلام احمد پرویز سے میرا اختلاف، حق اور باطل کا۔” یہ محض ایک جملہ نہیں، فکرواخلاق میں مستور حسن کا پرتو ہے۔ علم کو علم ہی کی نظر سے دیکھنے والی نظر، اس اہتمام سے بے نیاز نہیں ہو سکتی کہ اختلاف ِفکر و نظر کا ہر ہر لمحہ اخلاق و مروت کے پیمانوں پر تول تول کر نبھا لیا جائے۔ جناب احمد جاوید کو یہ بھی بتانا پڑا کہ، “میری تمام باتیں رد کر دیں، لیکن خدارا انہیں فرقہ پرستی کی منحوس دلدل پر بننے والے بلبلے نہ سمجھیں۔” وہ کہ جن کے خمیرمیں علم و استدلال کی روح ، پوری طرح ڈھل چکی ہو، وہ علم کے دودھ کو نفرت و تعصب کے خون و گوبر سے بے آمیز رکھ سکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ صافی علم کا خالص دودھ ہے ، جو اپنے پینے والوں کے لیے خوش ذائقہ اور تروتازگی کاحامل ہوتا ہے۔ یہی دودھ علم کے کسی سچے جویا کے تن میں اتر آئے تو آنکھوں میں استدلال کی چمک ابھر آتی ہے۔ اس چمک کے روبرو، آنکهوں پر سے تعصب کے اندھیروں کی لپٹیں ،سکڑتے سکڑتے رخصت ہی ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے علم کا ظاہر و باطن ،علم ہی کے رنگ روپ میں دکهائی دیتا ہے۔ علم کو یوں دیکھ سکنے کی اہلیت کے پیچھے، پیہم ریاض کی داستاں چھپی ہوئی ہے۔علم کو دیکھ سکنا تو یہ رہا، پر علم میں بول سکنے کو ریاض، کچھ اس سے بهی سوا چاہیے۔کوئی جاننا چاہے تو کسی علم کے جویا کے شب و روز سے خود کو آگاہ کر دے۔

مخدوم مکرم جناب احمد بشیر طاہر اپنے استاذ کا واقعہ سناتے ہیں کہ، “میں نے بے تکلفی میں، غامدی صاحب کو فون پر کہا کہ اس بار پاکستان آنے پہ مجھے الگ سے وقت دینا ہو گا، مجھے بہت سے اختلافات کرنے ہیں آپ سے۔ ہنس کر فرمانے لگے ، جی ضرور۔ استاذ جب لاہور آئے تو ملاقات طے پائی۔ وقت مقررہ پر، مقررہ جگہ استاذ پہلے آ موجود ہوئے۔ ٹریفک اس قدر جام ہو کر رہی کہ قریبی وقت میں میرا پہنچنا محال ہو کر رہا۔ سو کال پر آگاہ کیا کہ میرا جلد پہنچنا ممکن نہیں، معذرت قبول کیجے اور آپ اپنے اگلی مصروفیت نمٹا لیجیے۔ استاذ بولے بھئی اب میں جانے کا نہیں، آپ آئیے، میں اگلی صبح تک بھی منتظر رہنے کو تیار ہوں، کیا معلوم آپ ہی کے طفیل میری کوئی غلطی مجھ پر واضح ہو جائے۔ پھر سلسلہ گفتگو میں استاذ کا کہنا تھا کہ، میرے کسی موقف پر آپ کسی بھی فورم پر نقد کر گزرنے سے کبھی نہ گھبرانا”۔علم کو اپنی خو بنا دینے والا،اپنے اخلاقی وجود کی کس حد تک تہذیب کر گزرتا ہے ، وہ کن نفسیات میں جیتا اور کن احساسات میں شب و روز گزارتا ہے،اس کی مکمل داستان، استاذ شاگرد کی اس روداد سے نچوڑی جا سکتی ہے۔ مگر وہ کہ جنہیں اپنے نفس پر اس قدر ریاض گراں گزرتا ہے، وہ علم کو جنگ اور جنگ میں سب حلال کر جانے کوہی آسان جانتے ہیں۔ علمی معرکے کو کوئی ناگزیر جنگی معرکہ باور کرتے اور اضطرار کے عالم میں تعصب و بہتان کے “خنزیر” کو حلال کر گزرتے ہیں۔ پهر اس حلال کردہ خنزیر میں سے ہر “مجبور” بقدر ضرورت کهاتا اور چکھ گزرتا ہے۔ پھریہ اضطرار کا دسترخوان “مجبوری” کے اٹھنے تلک بچھا رہتا ہے۔ نامی گرامی “بھوکےمجبوروں” کی ٹولیاں آتیں ،اور قطار اندر قطار حسب ضرورت تناول فرما کر نکلتی چلی جاتی ہیں۔ اس مائدۂِ اضطرار پر اس قماش کے بھوکوں کی بہتات، سچ یہ ہے کہ بے حد ہو چکی۔ مجھے خدشہ ہو چلا ہے کہ مبادا حرام ختم ہو چلے اور بھوک مٹنے سے پھر رہ جائے۔ اس وبائے عام میں وہ کہنا بہت برمحل تها اور ناگزیر بهی، جو صاف لفظوں میں جناب احمد جاوید کہہ گزرے۔ جس نے پیہم ریاض سے “حلال علم” کمایا ہوں، وہ جناب احمدجاوید کی طرح، کیونکر اس میں “نجس اغراض” کے چھینٹے سہہ سکتا ہے؟جس نے علم کی تحصیل میں خونِ جگر تک پگھلا ڈالا ہو، وہ علم کو اپنے روبرو یوں نجاست میں لتھڑا دیکھنے کوآخر جگر کہاں سے لائے ؟

بازار تو علم کا تها، کہ جہاں علم و استدلال کی رونق لگتی۔ یہاں وہی پھٹکتے جو علم و ہنر کے رسیا اور اخلاق مروت کے جویاہوچلے ہوں۔پر شومئی قسمت کہ بازارِ علم پرقبضہ کر گئے وہ جو تعصبات کی سوداگری کے سوا کچھ جانتے نہ تهے۔ اخلاقی خساست کا یہ عالم کے بہتان در بہتان کو مذاق جانتے اور تسلسل سے روا رکھتے ہیں۔ جو جس گناہ سے نا آشنا، اسے اس میں ملوث کہہ گزرتے ہیں۔”معصوم گوشت” کو ایسا منہ لگا چکے کہ جہاں دیکھتے ہیں نوچ ڈالتے ہیں۔خساست کی چاٹ لگی بھی تو ایسی کہ انسانی شرف کھو لینے پر بلاتکلف آمادہ ہو چلے۔ ہاتھ اور منہ میں غلاظت دابے، کسی کے سفید کپڑوں پر پھینکنے کو، ہر لحظہ نئی آن و نئی شان کے ساتھ ،مچلتے رہتے ہیں۔ ناہنجار کسی کے سفید کپڑے تو ایک طرف، خود اپنی لمبی ڈاڑھیوں کے آلودہ ہو رہنے سے بهی نہیں چوکتے۔

فیس بک پر آج جو آیا تو خبر ہوئی ،سرحد کے اُس پار کے ایک ذی وقار صاحبِ علم کا احساس زخمی کر دیا گیا۔ سرحد کے اِس پار کے مجاہد نےبقائمی حوش وحواس ، اخلاقی گراوٹ کی حد کر دی۔ حیرت یہ کہ اس جسارت پر آفرین کے ڈونگرے برسانے چندروحیں ،گویا پہلے سے بے تاب مچلتی تھیں۔ داد کے نذرانوں سے من اپنا بہلائے رکھنے کے خوگر سچ یہ ہے کہ علم و سماج کے مستقبل کی تاریکی میں اضافہ کیے جا رہے ہیں۔انسانوں کی جنگ ابھی چھڑنے نہ پائی تھی کہ یہاں کا مجاہد” انسانیت “پر ہلا بول بیٹھا۔فکرو نظر کی ہر بحث کو یوں آلودہ کر گزرنے والوں سے،اب لازم ہے کہ علم کے جویا بیزار رہیں ۔ جنہوں نے ریاض سہہ کر علم کا نور پا لیا ہو، ان پر علم کے اس نور کا یہ قرض ہے کہ اب “علم کی ناموس” کے سچے پہرے دار بنیں۔علم کے نور کی اس حرام گند کے ذروں سے،اب خود ہی حفاظت کریں۔اپنے دائیں بائیں نظر رکهیں کہ کوئی بدروح “نورِعلم “میں تععصبات کی ملاوٹ نہ کر گزرے،منہ اندهیرے ملاوٹ کے خوگر اپنے اپنے بلوں میں جا گھسیں تو کون ان کے درپے ہو؟  پر مگر دن دھاڑے پوری ڈهٹائی کے ساتھ، علم کے دودھ میں بہتانات کی نجاست ملا کر اپناکاروبار چمکانے والوں سے برات لازم ہے۔

علم اور اہلِ علم کے ہر سچے رتبہ دان پر لازم ہے کہ احمد جاوید صاحب کے کہے کی اہمیت بروقت جان لے۔یہ معاملہ محض چند شخصیات کا نہیں ، علم و اہل علم کی آبرو کا ہے۔”علم کی ناموس” خطرے میں ہے۔اب خامشی نہیں،جناب احمد جاوید کی طرح تصریح لازم ہے۔ تعصبات کے سوداگر، خامشی کوبھی، تعصبات کی آگ کا ایندھن بنا لینے کی مہارت خوب رکھتے ہیں۔ تحریر کے مدعا پر توجہ لازم ہے۔ وگرنہ یقین مانیے پھر چراغ سب کے بجھیں گے یہ ہوا کسی کی نہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *