سکھاندرو (ٹرینی) وزیر خزانہ۔۔۔۔۔علی اختر

ہماری کمپنی میں بھی دوسری اچھی کمپنیوں کی طرح ہر سال مختلف انجیئنرنگ یونیورسٹیوں سے فائنل ایئر اسٹوڈنٹس کو ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد جاب آفر کی جاتی ہے۔ کمپنی جوائن کرتے ہی انکو ٹرینی انجینئر کا ڈیسگنیشن دیا جاتا ہے ۔ دو سال انکا کام محض پلانٹ پر گھومنا پھرنا ، مختلف میٹنگز میں بیٹھنا اور لیکچر سننا ہوتا ہے ۔ اسے کسی مشین کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ہاں اگر کچھ پوچھنا چاہے تو مشین آپریٹر یا شفٹ انچارج وغیرہ سے پوچھ سکتا ہے ۔ یہ ٹریننگ پیریڈ دو سال کا ہوتا ہے ۔ ان دو سالوں کے دوران بہت سے تو پہلے مہینے ہی جاب چھوڑ جاتے ہیں اور دو سال گزرنے تک صرف دس فیصد ہی باقی بچتے ہیں انہیں آفیسر کے رینک پر ترقی دے کر پھر آہستہ آہستہ زمہ داریاں ٹرانسفر کی جاتی ہیں ۔

سوچنے کی بات ہے کہ  کمپنی نے ایک کوالیفائیڈ انجینئر کی  نوکری دی اور پھر دو سال کی ٹریننگ بھی دی پھر کہیں جاکر اسے مشین کو ہاتھ لگانے، آپریٹ کرنے کی اجازت دی ۔ کیا وجہ ہے کہ  کمپنی دو سال بغیر کچھ کام لیئے ایک آدمی کو بٹھا کر تنخواہیں دیتی ہے؟ ۔

تو بھائی  لوگ ! جس پلانٹ پر اسے شفٹ انچارج، مینٹیننس انچارج، پروڈکشن انچارج وغیرہ کی ذمہ داری اٹھانی ہے اسکی اور اس پر پراسس کیئے جانے والے مال کی قیمت کروڑوں میں ہوتی ہے ۔ پلانٹ ایک دن کسی کی بیوقوفی کی وجہ سے بند ہو تو کمپنی پر کروڑوں کا برڈن اور تمام آرڈرز ایک دن لیٹ ہوجانے پر ساکھ خراب ہونے کا نقصان الگ ۔ اسکے علاوہ بہت سے مزدور وغیرہ بھی ہر پلانٹ پر کام میں مصروف ہوتے ہیں اور ذرا سی غفلت سے انکے زخمی ہونے یا جان سے جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے ۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر کمپنی چند ہزار کی تنخواہوں کا نقصان برداشت کر لیتی ہے بہ نسبت آگے جا کر کروڑوں کا نقصان اور ساکھ کی خرابی الگ ہو اور مکمل ٹریننگ کے بعد ہی کسی کو اس قابل سمجھتی ہے کہ  اسے یہ بھاری زمہ داری دی جائے۔

اب تک تو ایک چھوٹی سی کمپنی میں  ذمہ داری دینے کے حوالے بات ہو رہی تھی جس میں نقصان کروڑوں کا اور متاثر ہونے والوں میں چند سو یا ہزار افراد شامل تھے ۔ اب سوچیں کہ  ایک ملک ہے جسمیں پچیس کروڑ لوگ رہتے ہیں معاملات اربوں اور کھربوں کے ہیں ۔ آپکے کیئے گئے ایک فیصلے سے وہ کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔ اربوں کا  سرمایہ ملک میں آ سکتا ہے لیکن نکل بھی سکتا ہے ۔ اب اس صورت حال میں خود اندازہ لگا لیں کہ  کس قدر ٹرینڈ، تجربہ کار، منصوبہ بندی کا ماہر معیشت دان وزیر خزانہ کے طور پر درکار ہوتا ہوگا ۔ جس وزارت کا ڈائریکٹ امپیکٹ لوگوں کے دسترخوان اور دواؤں تک جاتا ہو اور جسکی پالیسیوں کی کسوٹی پر لوگ براہ راست حکومت کی کارکردگی کا اندازہ لگاتے ہوں ۔

میں وزیر اعظم صاحب سے مؤدبانہ گزارش کرونگا کے اگر آپ نے اقتدار میں آنے سے مہینوں پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ  محترم اسد عمر صاحب کو ہی یہ وزارت دینی ہے تو انکی اچھی طرح گرومنگ، ٹریننگ وغیرہ کراتے اور کسی اچھے معیشت دانوں پر مشتمل ایک پینل سے انٹرویو ٹیسٹ وغیرہ کرا لیتے پھر فیصلہ کرتے ۔ اتنی جلدی صرف اس بات پر فیصلہ لینے کی کیا ضرورت تھی کہ  یہ بندہ اینگرو میں بہت زیادہ تنخواہ لیتا تھا ۔ یقیناً  قابل بھی ہوگا ۔

آپ اگر خود انصاف سے پی ٹی آئی  اور نون لیگ کے وزارت خزانہ کے نمائندوں کی قابلیت پر نظر ڈالیں تو آپ کو گربہ و شتر (بلی اور اونٹ) کا فرق نظر آئے گا ۔ ایک جانب 1974 میں انگلینڈ سےاور 1975 میں پاکستان سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی کوالیفیکیشن لینے والا ، لیبیا کے آڈیٹر جنرل ڈپارٹمنٹ، ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک میں کی پوسٹس پر کام کرنے والا ، چیئر مین بورڈ آف انویسٹمنٹ لاہور چیمبر آف کامرس کا صدر، وزیر تجارت ، وزیر خزانہ رہنے والا جو ملکی اور عالمی سطح کاتجربہ اور پی آر رکھتا ہے اور دوسری جانب “جی یہ صاحب اینگرو کے سی ای او تھے اور سب سے زیادہ تنخواہ لیتے تھے باقی ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں ۔ ” جناب آپ بھی اسحاق ڈار صاحب کے مقابلے کا کوئی  بندہ لاتے ،کوئی  سفید بالوں والا ، کوئی  پڑھ  پڑھ  کے موٹا سا چشمہ لگانے والا ، کوئی  کفیوز سی چال والا ، بیٹھے بیٹھے کھو جانے والا تو کچھ بات بنتی ۔

بصد احترام عرض ہے کہ  آپکا سب سے قابل کھلاڑی سات ماہ میں ہی بغیر کوئی  رن بنائے ٹیم کو پریشر میں چھوڑ کر پویلین لوٹ چکا ہے ۔ اس بار کسی سکھاندرو (ٹرینی ) کے بجائے یہ قلمدان کسی تجربہ کار قابل شخص کے حوالے کیا جائے کہ اس وزارت سے صرف آپکا ہی نہیں پچیس کروڑ عوام کا گھر اور کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ  عوام کو اتنے زیادہ سبز باغ نہ دکھائے جائیں کہ  جب آپ وہ سب ڈلیور نہ کر سکیں تو عوام کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے ۔ معصوم بچوں کو عمر و عیار کی طلسم ہوشربا داستانیں نہ سنائی جائیں کہ ایماندار حکومت بنتے ہی بیرون ملک مقیم پاکستانی اربوں کا سرمایہ لے کے ملک لوٹ آئیں گے اور حیرت ان پر جو یہ سن کر دھرنوں میں بھنگڑے ڈالتے تھے ۔ میرے بھائی  ! کوئی  اپنا لگا یا کاروبار، گھر، دوکانیں، صاف ستھرا معیاری طرز زندگی چھوڑ کر ٹوٹی سڑکوں پر سفر کرنے اور اندھیرے میں ہاتھ کا پنکھا جھلنے کیوں آئے گا ۔ تیسری اور آخری بات یہ کہ  ملک کا معاشی نظام چلانا اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک کا معاشی نظام چلانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تو اگلی بار چاہے اور وزارتیں ر یوڑیوں کی مانند بانٹ دیں اس وزارت پر انٹر نیشنل لیول پر اچھی پی آر رکھنے والے آدمی کی سچی مچی کے میرٹ پر تقرری کی جائے ۔ شکریہ

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *