• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک لیونگ لیجنڈ فنکار کی دلچسپ داستاں۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

ایک لیونگ لیجنڈ فنکار کی دلچسپ داستاں۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

فنون لطیفہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی گواہی ہے۔انسان اور دنیا کی دوسری مخلوقات میں بنیادی فرق اظہار کا ہے ۔انسان اپنی قلبی اور جسمانی کیفیات کا اظہار کرنے پہ قادر ہے ۔قدرت نے یہ صلاحیت انسان کو بخشی ہے ۔انسان اپنی صلاحیتوں کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتا آیا ہے ۔اپنے حواس خمسہ سے حاصل کردہ علم کو اظہار کے قالب میں ڈھالنے کی یہ خصوصیت قدرت نے انسان کو ودیعت کی ہے ۔انسان کے وجود میں آنے سے لیکر آج تک یہ سفر جاری ہے ۔انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ فنون بھی ارتقاء کی منزلیں طے کرتے رہے ۔فنون لطیفہ انسان کے جذبات کا وہ اظہار ہیں جس سے دوسرے انسان لطف اور تسکین حاصل کرتے ہیں ۔فنون لطیفہ کی مختلف اقسام ہیں ۔مصوری شاعری موسیقی سے لے کر جمناسٹک ڈرامہ نگاری اور آواز کا موسیقی سے ملاپ سب فنون لطیفہ کے زمرے میں آتا ہے ۔انسان کو بہرحال فنون لطیفہ کے اظہار کے لئے قدم قدم پر مشکلات کا سامنا رہا۔کہیں مذہب کے نام پر کبھی روایات کے نام پر ۔انسان اپنی ابتدا سے ہی مختلف طریقوں سے اپنے فن کو ظاہر کر کے انفرادیت ظاہر کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔البتہ ہر انسان کی دلچسپیاں مختلف ضرور ہو سکتیں ہیں۔تمہید  خاصی طویل ہو چکی ۔
موسیقی کو فنون لطیفہ میں امتیازی حثیت حاصل ہے ۔برصغیر میں موسیقی کو عمومی طور پر برائی تصور کیا جاتا ہے ۔مگر عوام کی اکثریت موسیقی سے لطف بھی اٹھاتی ہے اور اس کو برائی یا گناہ کے مترادف بھی سمجھتی ہے ۔حالانکہ اس طرزعمل کو منافقت کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے ۔

اک خوشحال زمیندار گھرانے کا اک کم سن لڑکا موسیقی اور گائیکی سے جنون کی حد تک رغبت کی بناء پر گلوکار بننا چاہتا ہے ۔وہ سمجھتا ہے موسیقی روح کی غذا ہے ۔مگر جس گھرانے میں اس کا جنم ہوا وہ گلوکاری کو معیوب سمجھتے ہیں ۔اور لڑکے کو منع کرتے ہیں۔مگر عشق کی حد تک لگاؤ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے خاندان بھر کی مخالفت مول لے کر  گھر سے نکل کھڑا ہوتا ہے ۔اپنے شوق کی خاطر میٹرک تک تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بس کنڈیکٹر بن جاتا ہے ۔پھر ٹرک ڈرائیور ساتھ میں سفر کے دوران گائیکی اس کی ہم سفر رہتی ہے ۔اس سارے سفر میں اس کو مزدوری سے لے کر ویٹر تک تمام مصائب جھیلنے پڑتے ہیں ۔مگر اس کا جنوں اس کی ہمت کو قائم رکھتا ہے ۔سال بیتتے جا رہے ہیں کہ اک دن اس ویٹر کو ریسٹورنٹ کا مالک اپنے ہوٹل میں گانے کی اجازت دیتا ہے ۔وہ گاتا ہے اور لوگ متاثر ہونے لگتے ہیں ۔ٹیپ ریکارڈر کا زمانہ ہے اور واحد سرکاری ٹی وی چینل ۔مگر یہ لڑکا ہمت نہیں ہارتا اور ایک دن اس کی کیسٹ ریکارڈ ہو کر مارکیٹ میں آجاتی ہے ۔اس کے بعد کامیابی ہی کامیابی اس کا مقدر بنتی ہے ۔کراچی سے خیبر تک ملک کے کونے کونے میں اس کی آواز اور منفرد گائیکی کے تذکرے ہیں ۔ٹرکوں پر اسکی قد آدم تصاویر بنا کر لگائی جاتی ہیں۔نوجوانوں سے لیکر بڑوں تک سب اس کے گرویدہ ۔اب یہ فنکار خواتین اور مرد دونوں میں یکساں مقبول ہے ۔شہرت اور عروج کی انتہا اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہے

مستنصرحسین تارڑ جیسی ادبی شخصیت چار گھنٹے کا طویل پروگرام واحد سرکاری ٹی وی چینل کے لئے ریکارڈ کرتی ہے ۔اور پروگرام بلاک بسٹر جاتا ہے ۔چار گھنٹے کے طویل پروگرام میں سامعین دم بخود بیٹھ کر اس کو سنتے ہیں۔اب تک آپ لوگ جان چکے ہوں گے  کہ کس گلوکار کی بات ہو رہی ہے ۔جی ہاں لوک موسیقی کا بے تاج بادشاہ جس نے اردو میں بھی گائیکی کر کے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔عطاء اللہ خان عیسی خیلوی ۔سادگی جس کی پہچان ہے ۔عروج کی انتہا دیکھنے کے بعد بھی عاجزی سے بات کرنا جس کا شعار ہے ۔ملک سطح سے مشہور ہو کر پوری دنیا گھومنے والا یہ فنکار جس کی شہرت سے پڑوسی ملک بھارت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔
عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی بے شمار دھنوں کو بھارتی موسیقاروں نے استعمال کیا۔

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی نے ثابت کیا کہ لگن اور جذبے کے ساتھ محنت کی جائے تو کامیابیاں مقدر بنتی ہیں ۔اور پھر وہی معاشرہ جو آپ کا مخالف ہوتا ہے ۔آپکی شہرت اور عروج کے بعد آپکی عزت بھی کرتا ہے اور آپکو بے پناہ محبت سے بھی نوازتا ہے ۔عطاء اللہ عیسی خیلوی کی شخصیت ہمہ جہت ہے ۔انہوں نے میانوالی کے اک قصبے سے سکینڈے نوین ممالک ناروے تک اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں ۔عطاء اللہ عیسی خیلوی نے اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔عطاء اللہ عیسی خیلوی کے بچے انتہائی اعلی تعلیم یافتہ اور پروفیشنل ہیں ۔عطاء اللہ عیسی خیلوی اک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے تھے مگر انہوں نے سخت محنت سے جو مقام حاصل کیا اس کو قائم رکھا ۔عمومی طور پر پاکستان میں فن کار بڑھاپا  انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزارتے ہیں ۔اور ان کی زندگی کا اختتام بے چار گی کے عالم میں ہوتا ہے ۔مگر عطاء اللہ خان عیسی خیلوی نے اپنے مقام اور عروج کی بلندی کو محفوظ رکھا ۔آج عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی بیٹی لاریب فاطمہ ہالی ووڈ کی فلموں میں گرافکس ڈیزائنر ہے اور کثیر معاوضے پر ہالی ووڈ انڈسٹری ان کی خدمات حاصل کرتی ہے ۔بیٹا سانول بھی انتہائی اعلی تعلیم یافتہ  ہے ۔عطاء اللہ عیسی خیلوی اپنی مٹی سے محبت کرنے والا سادہ انسان اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے بعد اپنی جنم بھومی میں واپس لوٹتا ہے ۔اک شہنشاہ بن کر ۔عیسی خیل میں واقع ان کا فارم ہاوس ان کے فینز کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے ۔دھرتی کا یہ سادہ اور سچا فنکار عاجزی سے لوگوں سے ملتا ہے شام کا وقت اپنے مہمانوں کےلئے وقف کرتا ہے ۔ان کی دلجوئی اور میزبانی جی جان سے کرتا ہے ۔یہ مضمون عطاء اللہ خان عیسی خیلوی جیسے عظیم فنکار کی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ان کے ہر گانے اور نغمے نے مقبولیت کے ریکارڈز قائم کئے ۔چند مشہور گانے ۔
عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں۔کس قدر چوٹ کھائے ہوئے ہیں۔
کنڈیاں تے ٹر کے آئے تیڈے کول پیر و وانے۔
میری زندگی کے مالک میرے دل پہ ہاتھ رکھ دے۔
رنگ لے دل پیار نال رنگ لے ۔
قمیض تیڈی کالی سوہنے پھلاں والی۔
ذکر جب چھڑ گیا ان کی انگڑائی کا ۔ان کے مشہور گانوں کی تعداد بلاشبہ ہزاروں میں ہے ۔اک جیتے جاگتے فنکار کو خراج تحسین پیش کرنے کی اس ادنی کاوش کو ضرور پڑھیں ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *