• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • رام چندر گہا کا کالم: جلیاں والا باغ –جس نے انگریزی حکومت کے زوال کی کہانی لکھ دی …

رام چندر گہا کا کالم: جلیاں والا باغ –جس نے انگریزی حکومت کے زوال کی کہانی لکھ دی …

جلیاں والا باغ : اس قتل عام کے بعد ہندوستانیوں کو بھلے برے کی تمیز ہونے لگی تھی اور وہ اب مزید جی حضوری نہیں کرنا چاہتے تھے۔

13 اپریل 1919، یعنی آج سے ٹھیک سو سال پہلے، ‘ریجینل ڈائر’ نام کے برٹش بریگیڈیئر جنرل نے جلیاں والا باغ میں جمع لوگوں پر فائرنگ کا آرڈر جاری کر دیا۔ یہ مقام امرتسر میں واقع سورن مندر سے زیادہ دور نہیں ہے۔اس فائرنگ میں پانچ سو سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ عوام الناس کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ پھر بھی چند سو لوگوں کو ہی اس طرح مار دیا جانا دہشت ناک ہے، وہ بھی تب کہ مار دیے جانے والے نہتے اور پر امن لوگ ہوں۔ پنجاب کے آمریت پسند لیفٹننٹ گورنر مائیکل او ڈائر کی پشت پناہی نے ریجینل ڈائر کو اس وحشیانہ قدم کے لیے اکسایا تھا۔

جلیاں والا باغ قتل عام نہ صرف برٹش راج شاہی بلکہ ہندوستانی قوم پرستی کی تاریخ میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔اس بہیمانہ واقع کی ایک صدی پوری ہونے پر کئی کتابیں پیش کی جا رہی ہیں۔ ان میں کچھ سنجیدہ تحقیقی کام ہیں، کچھ تمثیلی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ مارٹرڈم ٹو فریڈم: 100 ایئرس آف جلیاں والا باغ نام کی کتاب میں آپ کو دونوں طرح کا مواد مل جائے گا۔ پنجاب کے تاریخی اور (میں کہتا ہوں جرأت مند)بےحد مؤقر انگریزی اخبار د ٹربیون کے ایڈیٹر راجیش رام چندرن نے مذکورہ بالا کتاب مرتب کی ہے۔

کتاب کے پہلے حصے مارٹرڈم ٹو فریڈم میں مختلف دانشوران (ان میں ناچیز بھی شامل ہے)کے مضامین شامل ہیں۔یہ مضامین خصوصی طور پر لکھوائے گئے ہیں۔ اس میں سب سے اہم ماڈرن پنجاب کے مؤرخ وی این دتا کا انٹرویو ہے۔یہ انٹرویو دتا کی بٹیا نونیکا سی ایکس دتا نے لیا ہے۔ نونیکا خود ایک معتبر و خاصی شائع ہونے والی اسکالر ہیں۔ وی این دتا کا جنم جلیاں والا باغ قتل عام کے چند سال بعد امرتسر میں ہوا۔ باغ سے تھوڑی دوری پر ہی ان کا بچپن گزرا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپریل 1919 میں جائے حادثہ پر کوئی باغ نہیں تھا، بلکہ وہاں کچرا ڈالا جاتا تھا۔ دتا نے اس حادثے کا خصوصی مطالعہ کیا ہے اور ان کا شمار اس کے معتبر مؤرخین میں ہو تا ہے۔

اپنے اس انٹرویو میں وہ کہتے ہیں؛

‘ڈائر نے یہ قدم کیسے اٹھا لیا اسے سمجھنے کے لیے آپ کو اس دور کے حالات سمجھنا ہوں گے۔ پہلی جنگ عظیم جیت جانے کے بعد انگریزوں کا دماغ ساتویں آسمان پر تھا اور وہ من مانا برتاؤکرنے کے عادی ہوتے جا رہے تھے۔’ وہ اس کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ‘اسے یاد رکھیے کہ ڈائر نے دہلی میں ایک فساد پر قابو پایا تھا اور اس نے شمال مغربی سرحدی علاقوں کے لیے ٹریننگ بھی لے رکھی تھی…[جلیاں والا باغ میں] ڈائر اپنے فوجیوں کو اوپر نیچے، سامنے، دائیں بائیں، کنویں کے نزدیک جیسی ہدایات دے رہا تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

وی این دتا اس واقعے کو ملک کا ماحول بدل دینے والا قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے بعد انگریزی حکومت کو ہندوستان میں ناقابل قبول مانا جانے لگا۔ جلیاں والا باغ قتل عام کے بعد ‘ہندوستانیوں نے سوچ لیا تھا کہ نسل پرستی کو کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا نیز ڈائرزم اور او ڈائرزم کو جانا ہی چاہیے۔ ایک مہذب معاشرے میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔اس قتل عام نے برٹش سامراج کے لازمی تنزل کو طے کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی گاندھی کے ذریعے تیار کی گئی نئی لیڈرشپ بھی قومی منظرنامے پر نظر آنے لگی تھی۔’ یا جیسا کہ وی این دتا کے والد، جو شاعر بھی تھے، بیان کرتے ہیں کہ اس قتل عام کے بعد ہندوستانیوں کو بھلے برے کی تمیز ہونے لگی تھی اور وہ اب مزید جی حضوری نہیں کرنا چاہتے تھے۔

کتاب کے دوسرے حصے مارٹرڈم ٹو فریڈم میں د ی ٹری بیون کے منتخبہ مضامین شامل ہیں۔ ان دنوں د ی ٹری بیون کے ایڈیٹر بنگال کے ایک پرباسی(مہاجر) کالی ناتھ رے ہوا کرتے تھے۔ ان کے ایک ہم عصر نے رے کا حال حلیہ کچھ یوں بیاں کیا ہے، ‘چھوٹے قد کا اونی ٹوپی لگایا ایک شخص۔ برسوں پہلے اپنے رنگ چھوڑ چکے کشمیری ٹویڈ کے کوٹ میں ملبوس۔ جس پر فش کری، دودھ، رس گلے کی چاشنی اور دال بھات کے کئی دھبے بے خیالی کی نشانی پیش کرتے ہوئے۔ دو تین جگہ دھاگوں سے بندھے اسٹیل کے فریم میں جکڑے موٹے شیشوں کے پیچھے چھپی ہوئی ان کی آنکھیں۔ کم سخن، ایک دم خاموش سا انسان۔’

اپنی کم گوئی اور سادہ بلکہ کچھ بے ہنگم سے حال حلیے کے باوجود رے ایک باحوصلہ اور عزم و استقلال کے مالک انسان تھے۔ اس مشکل وقت کا اخبار دی  ٹری بیون ان کی صلاحیت اور ہمت کا گواہ ہے۔ سرکار پر کی جانے والی مستقل تنقید سے تنگ آ کر پنجاب حکومت نے اخبار کو دیے جانے والے اشتہارات بند کر دیے تھے۔ یہی نہیں بعد میں اس کے ایڈیٹر کو جیل میں بھی ڈالا گیا۔

ایسے اخبار کے اس دور کے اداریے اور مضمون پیش کرنے کی بہت اہمیت ہے۔ انہیں پڑھنا ایک الگ دنیا سے وابستہ ہونا ہے۔ قابل نفرت رولٹ ایکٹ جس نے پنجاب کا یہ سانحہ دیا، اس کے بارے میں دی  ٹری بیون نے لکھا؛

‘اس بل کے پاس ہو جانے کے بعد لوگوں کو حاصل تھوڑی بہت آزادی بھی سلب کر لی گئی اور حاکموں کو مزید اختیارات مل گئے۔’ حریت پسند محبان وطن، جو اس بل کی مخالفت کر رہے تھے، ان کے بارے میں اخبار نے لکھا: ‘گاندھی جی کے بارے میں ایک بار گوکھلے نے کہا تھا، (ان کی آمد سے) ہندوستان کی انسانیت پایہ تکمیل کو پہنچ گئی، اپنے لوگوں کے بارے میں انہیں گہری جانکاری ہے اور جو دیگر لیڈران کے مقابلے ان کے بیچ (کیونکہ وہ فقیر منش ہیں) بےحد مقبول ہیں…’

فوٹو بہ شکریہ:Wikimedia Commons

فوٹو بہ شکریہ:Wikimedia Commons

یہ باتیں 6 اپریل 1919 کے شمارے میں شائع ہوئی تھیں۔ اس کے اگلے اتوار کو قتل عام ہو گیا، لیکن اس کے بارے میں کوئی رپورٹ نہ چھپ سکی، کیونکہ پنجاب میں مارشل لا لگا دیا گیا تھا۔ پریس سنسرشپ ہٹائے جانے کے بعد، دی ٹری بیون نے ہنٹر کمیشن کی کارروائی کو چھاپنا شروع کیا۔ انگریز حکمرانوں نے یہ کمیشن، قتل عام کی جانچ کے لیے بنایا تھا۔ جب جنرل ڈائر کمیشن کے سامنے پیش ہونے والا تھا، تب اخبار نے اپنے کالم کے ذریعے ان کے سامنے پانچ سیدھے سوال رکھے تھے۔ کیا وہ اسے جائز ٹھہرا سکتے ہیں کہ،

 لوگوں  کو جمع ہونے سے روکا نہیں گیا

بغیر وارننگ کے فائرنگ شروع کر دی گئی

پہلی گولی کی آواز آتے ہی لوگ تتر بتر ہونا شروع ہو گئے تھے، تب بھی فائرنگ نہیں روکی گئی

اسلحہ ختم ہو جانے تک فائرنگ کی جاتی رہی، تب تک پانچ سو لوگ مارے جا چکے تھے

زخمیوں کو وہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا؟

افسوس کہ ہنٹر کمیشن نے یہ سوالات ڈائر کے سامنے نہیں رکھے۔ پھر یہ ہوا کہ امرتسر کے قصاب کو صرف نوکری سے الگ کیا گیا، جسے دی  ٹربیون نے ‘بالکلیہ ناموزوں’ ٹھہرایا۔ اس سب کے بیچ ڈائر کے سنگدل باس مائیکل او ڈائر کو بے داغ خلاصی دی گئی۔ کالی ناتھ رے نے ہنٹر رپورٹ کو ‘لیپا پوتی والا دستاویز’ قرار دیا۔

مارٹرڈم ٹو فریڈم والے حصے میں جلیاں والا باغ میموریل کو لے کر کچھ دلآویز حقائق بھی بیان کیے گئے ہیں۔ جیسے شہیدوں کے لہو میں ڈوبے اس میدان کو کانگریس نے حاصل کر لیا اور اسے قوم کی میراث بنا دیا۔ اس میموریل کے لیے فنڈ جمع کرنے میں پنڈت مدن موہن مالویہ، سوامی شردھانند، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور خود مہاتما گاندھی نے اہم کردار ادا کیا۔

شہیدوں کی اس یادگار پر آج عقیدت مندوں کا میلہ لگا رہتا ہے۔ چناؤ آتے ہی یہاں رہنماؤں کی آمدورفت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے لیے صنعتی گھرانوں سے فنڈ جمع کیا جاتا ہے، جبکہ ابتدا میں اس کی تعمیر کے لیے فرداً فرداً فنڈ جمع کیا گیا تھا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں سے لے کر ملک بھر میں جگہ جگہ اس کے لیے فنڈ یکجا کیا گیا۔ اس میں لدھیانہ کے لوگوں نے 7 ہزار تو وردھا (مہاراشٹر) والوں نے ساڑھے سات ہزار؛ بمبئی والوں نے 20 ہزار اور کلکتہ والوں نے 26 ہزار روپے جمع کیے تھے۔ (قابل غور بات یہ ہے کہ یہ رقم اس وقت جمع کرائی گئی تھی، جب اس کی قدر آج سے بہت زیادہ تھی۔)

اس مہم کے بارے میں گاندھی جی نے اپنے اخبار ینگ انڈیا میں لکھا، ‘معصوم لوگوں کی شہادت کی یہ یادگار مقدس مقام کی شکل میں یاد کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر قوم ہی اس کا رکھ رکھاؤ کرے گی۔’ آگے انہوں نے لکھا، ‘کیا یہاں ہندو اور مسلمان کا لہو آپس میں مل نہیں گیا ہے؟ سکھوں کا لہو سناتنیوں اور سماجوادیوں کے لہو میں مل نہیں گیا ہے؟ یہ یادگار ہندو مسلم اتحاد کی ایک واضح اور مستقل نشانی ہونی چاہیے۔’

گاندھی کو جس سے بڑی امیدیں تھیں، تقسیم کے سانحے نے پنجاب میں ہماری تہذیب کی اس مشترکہ اساس کو تباہ و برباد کر دیا۔ جلیاں والا باغ قتل عام کے سو سال بعد ہم دی  ٹری بیون کے صوبے میں اور اس سے بھی آگے اس اتحاد کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

(انگریزی سے ترجمہ: جاوید عالم)

بشکریہ دی وائر

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *