جلیانوالہ باغ قتلِ عام کے سو سال۔۔۔۔وقار احمد شیخ

ٹائی ٹینک فلم سے کون واقف نہیں؟ 1997 میں جب یہ فلم پردہ اسکرین پرجلوہ گر ہوئی تو تاریخ سے دلچسپی نہ رکھنے والوں کو بھی علم ہوا کہ یہ فلم ایک حقیقی حادثے پر بنائی گئی ہے، وہ حادثہ جو ’’عظیم الشان‘‘ ٹائی ٹینک جہاز کے ساتھ پیش آیا، جس سے متعلق کہا جارہا تھا کہ اسے کبھی حادثہ پیش نہیں آئے گا لیکن وہ اپنے پہلے ہی سفر میں غرقاب ہوگیا۔

ٹائی ٹینک کا یہ حادثہ 14 اپریل 1912 کو اٹلانٹک اوشین میں پیش آیا تھا۔ 2012 میں اس حادثے کی سوویں برسی کے موقع پر نہ صرف مزید فلمیں بنائی گئیں بلکہ کئی انگلش چینلز پر منی سیریلز بھی بطور یادگار پیش کی گئیں۔ آج کی نسل اس واقعے کی جزئیات سے ایک صدی گزرنے کے بعد بھی واقف ہے تو اس کی بڑی وجہ یہی میڈیمز (فلم و انٹرنیٹ) ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ ٹائی ٹینک کے حادثے میں پندرہ سو اموات ہوئیں، ایک ایسا حادثہ جو انسانی غلطی کا شاخسانہ تھا۔ لیکن اس واقعے کے محض سات سال بعد 13 اپریل 1919 کو اٹلانٹک اوشین سے کوسوں میل دور ’’انسانی سفاکیت‘‘ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں ہزار سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جی ہاں! یہ تذکرہ ہے امرتسر، پنجاب کے جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا۔ایک ایسا سانحہ جہاں پرامن احتجاج کرنے والوں اور بیساکھی کا تہوار منانے کے لیے اکھٹا ہونے والوں کو اندھادھند فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کردیا گیا۔

نوجوان نسل میں سے کتنے افراد اس ’’سانحہ‘‘ سے واقفیت رکھتے ہیں؟ بمشکل چند ہی افراد جانتے ہوں گے؛ کیونکہ نہ تو اس واقعے پر کوئی فلم بنائی گئی اور نہ ہی دیگر میڈیمز پر اس کا تذکرہ ہے۔ انٹرنیٹ پر اس واقعے کی جزئیات بطور خاص ’’سرچ‘‘ کرنے والے ہی دیکھ پاتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں محض حب الوطنی پر بنائی گئی چند ایک فلموں اور ڈراموں میں اس واقعے کو فلمایا گیا اور قابل افسوس امر یہ ہے کہ ان فلموں کو دیکھنے والے شائقین بھی برائے نام ہی ہیں۔

آج کے نوجوانوں سے ٹائی ٹینک کے بارے میں پوچھا جائے تو فر فر بتادیں گے کہ ٹائی ٹینک کیا تھا؟ کیوں ڈوبا؟ کتنے مسافر سوار تھے اور کتنے حادثے کی نذر ہوگئے۔ لیکن چند ایک ہی بتا پائیں گے کہ جلیانوالہ باغ کا سانحہ کیوں پیش آیا؟ کتنی انسانی جانیں محض فرد واحد کی’’سفاک سوچ‘‘ کے باعث موت کے گھاٹ اتار دی گئیں۔

ہندوستان کی تاریخ کے سب سے سیاہ دنوں میں سے ایک، جلیانوالا باغ کا قتل عام ہے ، جس کی آج سوویں برسی ہے۔ 13 اپریل 1919 کو بریگیڈیئر جنرل ریگنالڈ ڈائر نے امرتسر کے جلیانوالا باغ میں بیساکھی کے موقع پر جمع ہزاروں نہتے ہندوستانیوں پر اندھا دھند گولیاں چلوا دی تھیں۔ اس بھیڑ میں خواتین اور بچے بھی تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک تھے جو پنجابیوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکاء بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لا نافذ ہے۔ باغ کا رقبہ 6 سے 7 ایکڑ کے قریب تھا اور اس کے پانچ دروازے تھے۔ ڈائر کے حکم پر فوجیوں نے مجمع پر دس منٹ گولیاں برسائیں اور زیادہ تر گولیوں کا رخ انہی دروازوں سے نکلنے والے لوگوں کی جانب تھا۔ برطانوی حکومت نے ہلاک شدگان کی تعداد 379 جبکہ زخمیوں کی تعداد 1200 بتائی لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ دیگر ذرائع کے مطابق جلیانوالہ باغ کے سانحے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نہتے انسانوں کا خون بہانے والے جنرل ڈائر نے اس قتل عام کو درست ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قتل عام دور رس اثرات کے لیے ضروری تھا۔ یہی نہیں، اس نے تسلیم کیا کہ اگر اور گولیاں ہوتیں تو فائرنگ اور دیر تک جاری رہتی۔ جنرل ڈائر کی بے رحمی اور سفاکیت کی مزید داستانیں تاریخ کے صفحات میں بکھری ہوئی ہیں۔ لیکن اس واقعے کا ’’مجرم‘‘ صرف ڈائر کو ہی قرار دینا مناسب نہیں بلکہ ریاست برطانیہ ہی اصل مجرم ہے جس نے جنرل ڈائر جیسے سفاک و بے حس انسان کو ہندوستانیوں کو سزا دینے اور اپنا خوف دلانے کے لیے تعینات کیا تھا۔

مضمون کی ابتدا میں ٹائی ٹینک کے حادثے کا تذکرہ کیا گیا تھا، قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ٹائی ٹینک اور جلیانوالہ باغ کے سانحے کا کیا تقابل؟ کیا قدر مشترک ہے؟ کچھ بھی نہیں، سوائے ایک صدی کے۔ ہاں ایک صدی کا ہی تو قصہ ہے۔ لیکن ٹائی ٹینک کے سو سال مکمل ہونے پر جس طرح اس کا چرچا کیا گیا آخر کیوں جلیانوالہ باغ کا تذکرہ نہیں کیا جاتا؟ ہم خود پر قابض ریاستوں کے مظالم کا ذکر کیا اس لیے نہیں کرتے کہ کئی اذہان میں آج بھی وہ ریاستیں ’’سپریئر‘‘ ہیں؟

جلیانوالہ باغ کے سانحے کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا لیکن نسل نو کو اس سے واقفیت دینا ضروری ہے، کیونکہ برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کو اس واقعے کے بعد مہمیز ملی۔ اپنی تاریخ سے انحراف قطعی درست طرز عمل نہیں۔

بشکریہ ایکسپریس بلاگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *