لیپ لینڈ سے۔۔جاوید چوہدری

SHOPPING
SHOPPING

آپ اگر دنیا کا نقشہ سامنے رکھ کر دیکھیں تو آپ کو زمین کے بالکل اوپر آخری سرے پر ایک تکون سی نظرآئے گی‘ آپ کو تکون کے بعد سفید برفوں اور نیلے آسمان کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے گا‘ یہ تکون تین ملکوں کا نقطہ اتصال ہے‘ ناروے‘ فن لینڈ اور روس‘ آپ اگر ناروے سے قطب شمالی کی طرف چلیں تو آپ آخر میں تکون کے سرے پر پہنچ جاتے ہیں‘ آپ اگر فن لینڈ اور روس میں بھی شمال کی طرف چلتے رہیں تو آپ آخر میں اسی تکون کے آخری سرے پر آئیں گے‘ یہ تکون دنیا کا شمالی قطب ہے۔

زمین یہاں پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے‘ اس سے آگے برف اور منفی 70 سینٹی گریڈ کے علاوہ کچھ نہیں

ہوتا‘ ہم اگر اس تکون پر کھڑے ہو کر دائیں طرف دیکھیں تو ہمیں روس کے منجمد علاقے دکھائی دیں گے‘ دنیا کا سرد ترین گاؤں اومیاکان بھی اسی ڈائریکشن میں ہے‘ یہ روس کا علاقہ ہے اور اس کا درجہ حرارت سردیوں میں منفی 67 درجے تک چلا جاتا ہے لیکن آپ کمال دیکھیے انسان اس کے باوجود اس گاؤں میں رہتے بھی ہیں اور معمولی کے کام بھی کرتے ہیں‘ آپ اگر بائیں طرف دیکھیں تو ناروے کے قطب شمالی کے علاقے شروع ہو جاتے ہیں‘ ان علاقوں کے بعد نارویجن سی آ جاتا ہے اور اس سمندر میں گرین لینڈ اور آئس لینڈ کے جزیرے آ جاتے ہیں‘ میں قطب شمالی کو ناروے کی سائیڈ سے دیکھ چکا ہوں‘ اللہ نے مجھے آئس لینڈ کی برفوں میں بھی گھومنے کی توفیق عطا فرمائی‘ فن لینڈ اور روس کی سائیڈ رہ گئی تھی چناں چہ میں اس سال فن لینڈ پہنچ گیا‘ میرے دونوں دوست مخدوم عباس اور جہانزیب اس مہم میں بھی میرے ساتھ ہیں‘ جہانزیب ناروے میں ہوتے ہیں جب کہ مخدوم عباس آج کل پرتگال میں مقیم ہیں‘ یہ بزنس کرتے ہیں اور بزنس کی وجہ سے ملک بدلتے رہتے ہیں‘ یہ کبھی کینیڈا میں جا بستے ہیں‘ کبھی جرمنی‘ کبھی سویڈن اور کبھی لندن‘ یہ آج کل پرتگال میں ہیں‘ ہم تینوں سال میں ایک بار کسی اجنبی اور دل چسپ جگہ کا انتخاب کرتے ہیں اور وہاں آ ملتے ہیں‘ فن لینڈ ان سردیوں میں ہماری منزل تھا۔

آپ اگر فن لینڈ کے نقشے کو زوم کریں تو آپ کو شمال کی جانب برفیں ملیں گی‘ ہر برفستان لیپ لینڈ کہلاتا ہے‘اولو اس کا بڑا شہر اور ائیر پورٹ ہے‘ علاقہ سردیوں میں برف میں دفن ہو جاتا ہے‘ یہ جوں ہی برف میں گم ہوتا ہے تو دنیا بھر کے پاگل اس کا رخ کر لیتے ہیں‘ یہ اپنے شدید موسم کی وجہ سے ناقابل برداشت ہوتا ہے‘ اولو شہرمیں اس وقت درجہ حرارت منفی دس سینٹی گریڈ ہے۔ آپ اس سے قطب شمالی کے آخری سرے کا اندازہ کر لیجیے‘ سردی کی وجہ سے رین ڈیئر نیچے آ جاتے ہیں۔

پولو بیئر (قطبی ریچھ) بھی جنگلوں میں پھرنے لگتے ہیں اور روسی کتوں کی خوف ناک نسل ہسکی بھی عام نظر آنے لگتی ہے‘ لیپ لینڈ میں جنگل میں برف کے درمیان برف کے ہوٹل بن جاتے ہیں‘ یہ ہوٹل برف کاٹ کر بنائے جاتے ہیں‘ آپ جب ان ہوٹلوں میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو مین گیٹ سے کمرے‘ ڈائننگ ہال‘کافی شاپس‘ شاپنگ سنٹرز اور بارز تک برف کے ملتے ہیں‘ برفانی ہوٹلز چار ماہ رہتے ہیں‘ اپریل میں پگھلنا شروع کرتے ہیں اور پھر گرمی کے ساتھ ساتھ بہہ جاتے ہیں۔

جنگلوں میں برفوں کے عین درمیان شیشے کے خیموں کے عارضی شہر بھی آباد ہو جاتے ہیں‘ یہ خیمے اگلو کہلاتے ہیں‘ یہ نیم دائرے یا آدھے گنبد جیسے ہوتے ہیں‘ آپ زمین پر لیٹ کر اوپر اور دائیں بائیں دیکھیں تو آپ کو کائنات کے سرے اور آسمان سے گرتی برف نظر آتی ہے‘ یہ خیمے شمالی روشنیاں (ناردرن لائیٹس) دیکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں‘ پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں اور خیموں میں لیٹ کر آسمان پر ناردرن لائیٹس دیکھتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو دولت‘ صحت اور فرحت دے رکھی ہے اور آپ نے اگر اس کے باوجود شمالی روشنیاں نہیں دیکھیں تو پھر آپ سے بڑا بدنصیب کوئی نہیں۔

آپ ذرا تصور کیجیے آپ دنیا کے آخری سرے پر سفید جنگل میں‘ برف کے عین درمیان اگلو میں لیٹے ہیں اور آسمان پر سبز روشنیاں نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے کی طرف برس رہی ہیں اور فضا میں ہسکی کتوں اور رین ڈیئر کی وحشی آوازیں ہیں اور پوری کائنات دم سادھ کر یہ منظر دیکھ رہی ہے اور آپ بھی اس منظر کا حصہ ہیں‘ وہ لمحے کتنے قیمتی‘ کتنے یادگار ہوں گے! سردیوں میں ہسکی کتے لیپ لینڈ میں ٹرانسپورٹ بن جاتے ہیں‘ برف میں سلیج چلتی ہیں۔

ہسکی کتے انہیں کھینچتے ہیں اور آپ اس سلیج پر بیٹھ کر برف میں سفر کرتے ہیں‘ لیپ لینڈ میں ”آئس بریکر“ بحری جہاز بھی چلتے ہیں‘ یہ فیریز ہیں‘ ان کے سامنے لوہے کی مضبوط نوکیں ہوتی ہیں‘ یہ نوکیں برف توڑتی جاتی ہیں اور جہاز آگے بڑھتا چلا جاتا ہے‘ یہ بھی ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے‘ قطب شمالی پر ایک اور دل چسپ تجربہ بھی ہوتا ہے‘ ایک بحری جہاز برف کے نیچے بھی چلتا ہے‘ لیپ لینڈ میں برف کے اندر سرنگیں ہیں‘ سرنگوں کے آخر میں پانی ہے اور اس پانی میں بحری جہاز کھڑا ہوتا ہے‘ لوگ سرنگ کے ذریعے جہاز تک پہنچتے ہیں اور جہاز مسافروں کو لے کر برف کے نیچے چلتا ہوا روس پہنچ جاتا ہے۔

میرے پاس روس کا ویزہ نہیں تھا لہٰذا میں تین سال کی کوشش کے باوجود اس تجربے سے محروم رہا لیکن میں ان شاء اللہ 2021ء میں روس کی سائیڈ سے قطب شمالی جاؤں گا اور زیر برف سفر کا تجربہ بھی کروں گا‘ لیپ لینڈ میں برف توڑ کر مچھلیاں بھی پکڑی جاتی ہیں‘ منجمد سمندر اور منجمد جھیلوں کے اوپر کھڑے ہو کر برف میں سوراخ کیے جاتے ہیں اور ان سوراخوں میں کانٹا اور ڈوری ڈال دی جاتی ہے‘ برف کے نیچے موجود مچھلیاں خوراک کی تلاش میں کانٹے کے قریب پہنچ جاتی ہیں۔

یہ کانٹے کو منہ مارتی ہیں اور ڈور میں پھنس جاتی ہیں‘ شکاری انہیں نکال کر برف پر پھینک دیتے ہیں‘ مچھلیاں پانی کی تلاش میں تڑپتی رہتی ہیں اور تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہیں اور شکاری ان کے ٹکڑے کر کے باربی کیو بنا کر کھا جاتے ہیں‘ برف پر باربی کیو کی انگیٹھیاں رکھی ہوتی ہیں اور ہر انگیٹھی کے پاس شکاری مچھلیاں بھون رہے ہوتے ہیں‘ دھواں‘ مچھلی کے گوشت کی بو اور سردی تینوں مل کر ماحول کو خواب بنا دیتی ہیں‘ قطب شمالی کی صبح بھی ایک دل چسپ تجربہ ہوتا ہے۔

آپ برف کے درمیان کھڑے ہیں‘ دور دور تک برف کی سفیدی بکھری ہے‘ دھند‘ سردی اور برف کے پرندے آپ کوتاحد نظر کہرے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا‘ اس منظر میں آسمان کے ایک سرے کو آگ لگ جاتی ہے اور پھر ٹھٹھرتی ہوئی صبح پورے ماحول میں گھل جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ آسمان کا پورا مشرقی سرا پگھلے ہوئے سونے میں تبدیل ہو جاتا ہے‘ زمین کے ہر سرے پر صبح طلوع ہوتی ہے‘ مجھے فجی کے انتہائی دور دراز جزیرے تویونی کی صبح دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا اور میں نے پیٹرا کی سرخ چٹانوں پر بھی سورج کو اگتے ہوئے دیکھا۔

میں نے سورج کو قطب جنوبی کے قریب پہنچ کر بجھتے بھی دیکھا اور اسے وادی سینا میں بکھرتے بھی اور چولستان کی ریت پر تڑپتے ہوئے بھی دیکھا لیکن قطب شمالی کی برفوں کے اندر سے سورج کا نکلنا اف خدایا! یہ بھی کیا منظر ہوتا ہے‘ آپ جہاں تک دیکھتے ہیں آپ کو سفیدی ہی سفیدی نظر آتی ہے‘ آپ کے ہاتھ‘ پاؤں‘ بال حتیٰ کہ پلکیں تک سفید ہو چکی ہیں اور پھر مشرق کے سرے گرم ہونے لگتے ہیں اور پھر برف کے ریگستان پر پگھلا ہوا سونا بکھرنے لگتا ہے اور پھر‘ پھر اور پھر برف سرخ ہو جاتی ہے‘ یہ لمحہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔

آپ اربوں روپے خرچ کر کے بھی یہ ایک لمحہ نہیں خرید سکتے اور آپ اگر اس لمحے برف کے قلعے میں کھڑے ہوں‘ آپ کے سامنے رین ڈیئر ہوں‘ برف میں ہسکی کتوں کی گاڑیاں دوڑ رہی ہوں اور فضا میں برفانی پرندوں کی مہین آوازیں ہوں اور آپ کی ٹھٹھرتی سانسیں ہوں‘ کیا انسان کو زندگی‘ کیا دنیا میں مزید بھی کچھ چاہیے ہوتا ہے؟ مجھے نہیں لگتا انسان کی خواہشیں اس کے آگے بھی جا سکتی ہیں۔ہیلسنکی ہماری پہلی منزل تھا‘ یہ فن لینڈ کا دارالحکومت ہے اور نسبتاً گرم ہے۔

درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ تھا لیکن لوگ بھاری جیکٹوں میں ملفوف تھے‘ برف پگھل چکی تھی مگر فضا میں برف کی خوشبو تاحال موجود تھی‘ ہیلسنکی کے دسمبر سے فروری تک تین مہینے مشکل ہوتے ہیں‘ مارچ میں فضا کھلنا شروع ہو جاتی ہے اور اپریل مئی میں دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہیں‘ ہم نے ہیلسنکی سے اولو کی فلائیٹ لی‘ اولو دور ہے‘ ہیلسنکی سے سوا گھنٹے کی فلائیٹ ہے‘ یہ شہر خلیج بوتھانیا پر واقع ہے‘ خلیج کی دوسری طرف سویڈن ہے‘ آپ اگر خلیج میں سفر کرنا شروع کر دیں تو آپ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم سے ہوتے ہوئے بالٹک سی میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ہیلسنکی سے بحری جہاز کے ذریعے روس کے خوب صورت شہر سینٹ پیٹرز برگ بھی جایا جا سکتا ہے اور اسٹونیا‘ لٹویا‘ لتھونیا اور پولینڈ بھی‘ لیپ لینڈ اولو سے شروع ہوتی ہے‘ سیاح اولو آتے ہیں اور پھر گاڑیوں اور بحری جہازوں پر سفر کرتے ہیں‘ آپ لیپ لینڈ میں جوں جوں آگے بڑھتے جاتے ہیں آپ دائیں جانب روس اور بائیں جانب ناروے کو محسوس کرتے جاتے ہیں‘ تینوں ملکوں کی سرحدیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن برف کی وجہ سے انہیں شناخت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

راستے میں گھنے جنگل اور جھیلیں بھی آتی ہیں لیکن یہ سب برف میں دفن ہوتی ہیں‘ آپ زمین پر ہیں یا پانی پر آپ اندازہ نہیں کر سکتے‘ ہم نے پہلی رات اولو میں گزاری‘ اولو بھی منجمد تھا‘ درجہ حرارت منفی پانچ تھا لیکن ہوا کی وجہ سے سردی منفی بارہ تھی‘ جسم کا جو حصہ جیکٹ‘ مفلر یا ٹوپی سے باہر ہوتا تھا وہ جم جاتا تھا‘ برف شیشے کی طرح شفاف اور سنگ مرمر کی طرح پھسلانی تھی‘ قدم سنبھال کر چلنا بھی مشکل تھا‘ برف کی تہہ پاؤں کے نیچے ٹوٹتی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا ہم جیسے بلب کی کرچیوں پر چل رہے ہیں۔

پورا شہر شام آٹھ بجے سنسان ہو چکا تھا‘ سڑکوں اور گلیوں میں لوگ نظر نہیں آ رہے تھے‘ ٹریفک تک ٹھٹھری ہوئی اور کہرے کی شکار تھی اور ہم اس کہرے‘ اس ٹھٹھرے ماحول میں بھوتوں کی طرح چل رہے تھے‘ ہم اس وقت برف میں برف کے قطرے محسوس ہو رہے تھے۔

SHOPPING

جاوید  چوہدری

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *