دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

مجھے یاد ہے کہ کوئٹہ میں وکلاء کے دھماکے میں قتل عام کے بعد نواز شریف نے بلوچستان میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’دہشت گردی میں ملوث مذہبی تنظیموں اور مدارس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔کسی مسلح تنظیم کو استثنیٰ حاصل نہیں… آڑے ہاتھوں نمٹنے کی ضرورت ہے…حکومت کے ساتھ امن مذاکرات نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ کسی کو پرتشدد کاروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت ’نیشنل ایکشن پلان‘ کے نفاذ اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔‘‘ ایسی ہی یا اِس سے ملتی جلتی باتیں موجودہ حکومت بھی کر رہی ہے.۔کیسا نااہل حکمران ٹولہ ہمارے سروں پہ براجمان ہے! کیسی سطحی گفتگو ہو رہی ہے! حکومتی، صحافتی اور ریاستی ٹیپ ریکارڈر میں ایک ہی کیسٹ چلتی رہی اور چل رہی ہے۔ کیا یہ صورتحال ریاست و سیاست کی بے بسی کا اعتراف نہیں ہے؟

کوئٹہ میں دہشت گردی کی ہولناک واردات ہوئی اور دسیوں لوگ مار دئیے گئے۔ ہماری سرزمین پہ خون رنگ منایا گیا۔عام آدمی کا سوال ہے “آخر ہو کیا رہا ہے؟” اور بڑا سوال جو کیا گیا “آخر کب تک؟” سوشل میڈیا پہ اسلام پسندوں پہ الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی جیسے یہ قتلِ عام انہوں نے کیا ہو اور جواب میں “اسلام پسندوں” کی طرف سے صفائیاں۔۔. کچھ بھارت اور کچھ دوسرے سامراجیوں کی طرف انگلیاں اٹھاتے نظر آ رہے ہیں۔ بھانت بھانت کے تجزیے اور طرح طرح کی لن ترانیاں۔ کیسی کیسی موشگافیوں اور ایسی ایسی “فرقہ بازیوں” میں سچ دفن ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے۔سچ کیا ہے آخر؟۔۔

ذرا غور فرمائیے! آرڈیننس پہ آرڈیننس آتا ہے، ایکشن پلان پہ ایکشن پلان دیا جاتا ہے، دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں سے لیکر ملٹری کورٹس تک ترتیب دی گئیں، نئی نئی فورسز اور نئے نئے ادارے ایجاد و دریافت کیے گئے،مگر۔۔۔ ڈھاک کے وہی تین پات ہی کیوں؟

کیونکہ دہشت گردی آج کے عہد کا ایک بہت بڑا مالیاتی کاروبار بن چکا ہے، اس مالیاتی کاروبار کی شرح منافع اتنی ہے کہ ہوش اُڑ جائیں ۔جبکہ ’’سرمایہ کاری‘‘ پر واپسی کی مدت بےحد قلیل۔۔ آئیے مختصراً پورا پراسیس سادگی سے سمجھاؤں۔

ایک ہوتا ہے کارکن یا اُس کو سپاہی کہہ لیں یا فدائی یا پھر حملہ آور، پھر اُس کا کمانڈر اور پھر سپریم کمانڈر، سپاہیوں و فدائیوں کی تعداد بیسیوں سے لیکر سیکڑوں تک ہو سکتی ہے اور بعض اوقات ہزاروں تک، اِس گروہ کا کوئی نہ کوئی نام ہوتا ہے، کسی نہ کسی مذہب و نظریہ یا کسی نہ کسی مسلک سے وابستگی ہوتی ہے، عام کارکن، حملہ آور یا فدائی اُس مذہب، نظریہ یا مسلک کی محبت میں گرفتار ہو کر یا بسااوقات انتقام کی آگ میں جل کر گروپ یا تنظیم وغیرہ میں شامل ہوتا ہے۔ مگر سپریم کمانڈر کو عموماً تمام محرکات سے آشنائی ہوتی ہے۔ جتنا بڑا گروپ، اتنا زیادہ معاوضہ۔

ایسے مسلح جنونی گروہوں کی قیادت کی قوتِ محرکہ مذہب، نظریات اور ’’جنت کے حصول‘‘ سے زیادہ کالا دھن ہوتی ہے۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ ’’نان سٹیٹ ایکٹر‘‘ نہیں ہیں بلکہ سامراج اور علاقائی ریاستوں کے ’’اسٹریٹجک مفادات‘‘ اِس خونی کھلواڑ کی حرکیات کا تعین کرتے ہیں۔ عالمی و علاقائی سامراج دہائیوں سے ایسے گروہوں کو استعمال کرتے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ خفیہ و اعلانیہ آج بھی جاری ہے۔اِس کو سمجھنے کیلئے افغانستان میں سرگرم طالبان کے کچھ دھڑوں کی حالیہ چین یاترا ہی کی مثال لے لیجیے۔ نام نہاد ’’دہشت کے خلاف جنگ‘‘ کے عالمی ٹھیکیدار امریکہ کے تعلقات کئی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ متضاد اور پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ مفادات کہیں ٹکراتے ہیں تو کہیں مشترک بھی ہوجاتے ہیں۔ آج کل وائٹ ہاؤس کے ترجمان طالبان کے لئے ’’دہشت گرد‘‘ کی بجائے ’’مسلح بغاوت‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں!

اِن دہشت گرد عناصر کے خلاف جنگ بنیادی طور پر ایک فحش اور بھونڈا مذاق ہے۔ یہ دہشت کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ دہشت کیلئے جنگ ہے۔ کیا یہ روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں کہ ریاست، حکومت و سیاست کی طرف سے دہشت گردی کو ’’کنٹرول‘‘ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ بربریت کی یہ کہانی ختم ہونے کی بجائے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ سنسرشپ میں مبتلا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے تجزیوں میں اِس عفریت کی غیرحقیقی اور سطحی وجوہات ہی بتائی جاتی ہیں۔ بیماری کی اصل وجوہات کی بجائے علامات بتائی جاتی ہیں۔ دہشت گردی کی مادی بنیادوں کا خاتمہ اس نظام معیشت، سیاست اور ریاست کے بس کی بات نہیں ہے یا پھر (Strategic Depth) نامی کچھ مفادات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں حکمران مجبور ہوکر اِس مسئلے کا خاتمہ کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔

بظاہر “سچ” بولنے والے بھی دہشت گردی کی مالی بنیاد کو محض منشیات کے کاروبار تک محدود کر دیتے ہیں۔ جبکہ پاکستان اور افغانستان میں ہونے والی مذہبی و فرقہ وارانہ اور غیرمذہبی دہشت گردی میں منشیات کے علاوہ اغوا برائے تاوان، ڈاکہ زنی، کرپشن، بھتہ خوری، پیشہ وارانہ قتل، لین دین اور زر، زن، زمین کے تنازعات میں ثالثی اور قبضہ گری سمیت دوسرے کئی جرائم کا دھن شامل ہے۔ بہرحال اِن تمام فسطائی میلانات، حرکات، رجحانات اور نظریات کی ایک ہی مادی بنیاد ہے یعنی دولت۔۔۔اِسی بنیاد پر تمام تر غارت گری کی جاتی ہے لیکن کالے دھن کے اس کھلواڑ کو کبھی لسانیت، کبھی مذہب تو کبھی فرقے کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔

موجودہ نظام کے تحت براجمان حاکمینِ عالم کبھی بھی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی اس شہ رگ کو کاٹ نہیں سکتے کیونکہ اِس شہ رگ کے کٹنے سے اُن کی اپنی مالیاتی رگیں بھی کٹ جائیں گی، حاکمین جس جگہ رہتے ہیں وہاں نہ غربت ہے، نہ لوڈشیڈنگ ہے، نہ ڈاکہ زنی ہے اور نہ بموں کے پھٹنے کا خوف،سکیورٹی جب “ٹائیٹ” کی جاتی ہے اور جب دہشتگردی ہوتی ہے، دونوں حالتوں میں عوام اور محنت کش ہی بےعزت و خوار ہوتے ہیں یا زخمی و قتل ہوتے ہیں۔ ایک بات جو حکمرانوں کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ اونچی فصیلیں دہشت گردی کو تو روک سکتی ہیں مگر قہرِ خلقت سے کو نہیں روک سکتیں۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *