• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • معرفت، ادراک، اولیاء اور پیرِ کامل ۔۔۔ معاذ بن محمود

معرفت، ادراک، اولیاء اور پیرِ کامل ۔۔۔ معاذ بن محمود

ادراک ایک ادنٰی ذہن انسان کو ثریا کا مقام دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے کسی کبڈی چیمپین کو اٹھا کر وزارت عظمی کی کرسی پر پہنچا دیا جائے۔یہ ادراک، شعور اور آگہی ہی ہے جس کی بدولت ایک عام سا انسان وہ علمِ خاص الخاص پا لیتا ہے جو اسمِ اعظم کی مانند پھر اسے آگے ہی آگے لے جاتا رہتا ہے۔ یہ اسمِ اعظم کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سکندر کے کسی مصاحب کے لیے یہ اسمِ اعظم “سکندرِ اعظم” اور کسی نامعلوم کے بندے کے لیے “سپہ سالارِ اعظم”۔ آگے بڑھنے کی کشمکش میں اگر انسان لالچ اختیار کر لے تو کسی نہ کسی مقام پہ حالات آگے جاتے بندے کو ہی آگے لگا لیتے ہیں۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں آگہی کے بغیر دانش ادھوری ہے تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آگہی و ادراک کے اس سفر میں شارٹ کٹ نہیں لینا چاہئیے۔ اختصار کی یہ جدوجہد انسان کو اپنی دانش تلے آکر نقصان اٹھانے کا مؤجب بن جایا کرتی ہے۔ دانش اگر محض کھوکھلی یقین دہانیوں اور دعووں پر مبنی ہو تو انسان وقتِ قیام دیسی مرغیاں اور کٹے بیچنے پر بھی اتر آتا ہے۔

عارف وقت کے اکثر اقدامات عام انسان کی سمجھ سے باہر ہوا کرتے ہیں۔ یہ معرفت کی باتیں ہیں جنہیں صرف عارفین (بشمول عارف نظامی) ہی جان سکتے ہیں۔ تبھی معرفت پانے والے اشخاص پیرِ کامل کی بیعت کو اہم ترین فریضہ جانتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کے پیرِ کامل کی جانب سے متعین شدہ نائب یعنی ولیِ وقت بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم تب تک جب تک پیر کا دستِ شفقت نائب کے سر پر موجود ہو۔ یہاں ڈنڈا پیر کا ہاتھ سر سے اٹھا وہاں عارف کی وفاداری کسی بھی الف بے جیم دال یا عین سے ہٹ کر واپس پیر کے ساتھ نتھی۔ پس جس نے زمانے کے ویریفائیڈ ولی کو پہچاننا ہو وہ عارف کے قبلے کی جانب رخ کر لے۔ عارف ہر دور میں اپنا قبلہ ایک خاص سمت رکھتا ہے۔ کبھی جاتی عمرہ تو کبھی کلفٹن، کبھی پنڈی صدر تو کبھی بنی گالہ۔ شاذ و نادر مواقع ایسے بھی ملتے ہیں جہاں عارف ریٹائرمنٹ کے بعد وردی اتار کر اپنا قبلہ قبلۂ حقیقی یعنی مکہ کی جانب کرتا ہوا شام و عراق نکل جایا کرتا ہے۔ پھر اس کا نام و نشاں نہیں ملتا۔

معرفت کا ادراک پہلے دن سے نہیں ہوا کرتا۔ پیرِ کامل ہمیشہ وقت آنے پر بندے کو ولایت سونپا کرتے ہیں۔ میں حال ہی میں تنزلی سے دوچار ایک ایسے ولی کو بھی جانتا ہوں جو ادراک سے پہلے ادرک والا مصالحہ لگا کر صاحبِ قبلہ کی بابت خرافات بکا کرتا تھا۔ اس ولی کی جانب سے ایک نجی محفل میں صاحب قبلہ ڈنڈا پیر کی نسبت پینٹ گیلی ہونے کا بیان یوٹیوب پر عام دستیاب ہے۔ جاتی عمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ولی کو بھی جوانی تک ولایت کا علم نہ تھا۔ تب مذکورہ سابق ولی گاڑیوں کے ساتھ شاہدرہ کی پہاڑیوں پر تصویریں کھنچوایا کرتا۔ پھر اس نے بحالت مجبوری ایک ڈنڈا پیر کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا۔ یہاں سے اس پر ادراک کے کشف منکشف ہوئے اور وہ صوبائی ولایت سے ہوتا ہوا وفاقی ولایت تک تین بار کامیابی سے پہنچا۔ یہ شخص ولایت کے درجے پر کئی دہائیوں تک فائز رہا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اسے تفویض کردہ ولایت تو محض نام کی ہے، اصل اختیار تو آج بھی پیرِ کامل کے پاس ہے۔ معاملہ اختیار تک ہوتا تو بات قابلِ فہم بھی رہتی، پیرِ کامل دراصل ولایت کے مالیات یعنی چندے کے ڈبے تک پر سانپ بن کے براجمان رہتے ہیں۔ جس دن سابق ولی کو یہ معاملہ سمجھ آیا، اس نے نے اختیار و مالیاتِ اعلی کے لیے جدوجہد شروع کر دی جو پیرِ کامل کو ہرگز پسند نہ آئی۔ پیرِ کامل المعروف ڈنڈا پیر نے ناصرف ولی کے تمام تر چلے عوام الناس کے اذہان قابو کر کے ضائع کیے بلکہ اس شخص کو دائرۂ ولایت سے بھی نکال باہر کیا۔ زندانِِ کوٹ لکھپت میں قدم رنجہ ہونے سے پہلے تک یہ سابق ولی “مجھے کیوں نکالا” کی صدا بلند کرتا دکھائی دیتا تھا۔

ماضی میں پیرِ کامل ایک ولی کو ذائقۃ الموت بھی چکھا چکا ہے۔ اُس ولی نے بھی پیرِ کامل کے بھروسے اپنی اور اپنے لوگوں کی کشتی پار کرانے کی سعیِ لاحاصل فرمائی تھی۔ اس زمانے میں پیرِ کامل اور ولی لٹے پٹے ایک کشتی میں سوار تھے جس کی حفاظت کا فریضہ پیرِ کامل نے اپنے ذمے اٹھایا ہوا تھا۔ عین اس وقت جب یہ لٹا ہوا قافلہ واپس اپنی رفتار پکڑنے کو تھا، پیرِ کامل نے کشتی میں سوراخ کر کے مومن ولی کو ڈبو ڈالا۔ مومن کے بارے میں پینشن گوئی ہے کہ ایک سوراخ سے ایک بار ڈسا جاتا ہے۔ ہمارے مومنین البتہ ہر سوراخ سے بار بار ڈسے گئے ہیں۔ یہ عمل ماضی سے حال کو ہوتا ہوا اب مستقبل کی جانب بھی گامزن دکھائی دیتا ہے۔

وقت کے حالیہ ولی کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اسے کئی معجزات کے ذریعے ولایت دلائی گئی۔ گویا ایک خفیہ طاقت تھی جو پیرِ کامل کے حکم سے ولی اللہ کے ساتھ تھی۔ کبھی محکمۂ زراعت کے روپ میں تو کبھی قاضی القضاء کے بہروپ میں۔ کبھی صحافی کی شکل میں تو کبھی میڈیا کی صورت میں۔ حاضر سروس ولی ہینڈسم بھی تھا اور اس کی قمیض میں دو موریاں بھی ہوا کرتی تھیں۔ اس سے بڑھ کر قابلیت بھلا ہو تو کیا ہو؟ پیرِ کامل کی مہربانی سے ان دیکھی قوتوں نے اسے چندہ اکٹھا کرنے والے خوار سے اٹھا کر انتخابِ ہما بنا ڈالا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ولیِ وقت کے متعین کردہ معیشت دان انکل مجبور کی طرح بہت “مجبور” تھے سو انہوں نے بھی مجبوری طریقے اپناتے ہوئے معیشت پر “محنت” کر ڈالی۔ پیرِ کامل آج کل بظاہر ولیِ وقت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ پیرِ کامل لافانی ہے۔ پیرِ کامل تو بس ایک “خاکی” ہے مگر ہتھیار بردار۔ اس کے پاس کئی ظاہری و مخفی ہتھیار موجود ہیں۔ ظاہری ہتھیار مٹی کے بنے انسانوں کو ڈرانے کے لیے جبکہ مخفی ہتھیار ان کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے۔ مخفی ہتھیاروں میں سے خطرناک ترین ہتھیار وہ مارخور ہے جسے وہ مار خوری کے علاوہ حرام خوری کے واسطے بھی استعمال کرتا ہے۔ یہ مارخور ضرورت پڑنے پر سابق ولی کو قاضی القضاء کے حکم سے سزائے موت بھی دلوا سکتا ہے اور کسی اور حاضر سروس ولی کے سالن خواروں کی وفاداریاں بھی تبدیل کروا سکتا ہے۔

ولایت پانے سے قبل ہر مومن ولی ہونے کو اپنے نفس کی معراج سمجھتا ہے۔ تاہم ولایت کا رتبہ پا لینے کے بعد پیرِ کامل کے ساج چندے کے صندوق پر ہونے والی چپقلش ہر آنے والے ولی کی رخصت کا باعث بنا کرتی ہے۔ یہ عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے اور غالباً آئیندہ بھی جاری و ساری ہی رہے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ولایت کے تمام امیدوار ایک مشترکہ ولایت یونین پر ایمان لے آئیں جس کے بعد ڈنڈا بردار پیرِ کامل کو محض چوکیداری تک محدود کر دیے جانے پر اتفاق ہوجائے اور پیر اپنے کام سے کام رکھنا شروع کر دے۔ آج کی تاریخ میں یہ خواب بذاتِ خود ایک معجزے کی حیثیت رکھتا ہے، اور ڈنڈا پیر کے موجودہ سفلی علوم کے ہوتے قریب قریب ناممکن لگتا ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *