گھٹیا افسانہ نمبر 24۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

بس جب سے روانہ ہوئی ہے جمپ پہ جمپ لگ رہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ ملک کب سیدھا ہو گا۔ کرپٹ سور کب سے ملک کو کھا رہے ہیں۔ یہ گیارہ بارہ کلومیٹر سڑک کا ٹوٹا اِن سے صحیح نہیں ہو رہا۔ بس ایسے لگتی ہے جیسے کوئی کشتی ہے جو بڑی لہروں میں ہچکولے کھا رہی ہو۔ تین تین فٹ کے گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ بس ہوسٹس سے میرے ساتھ والے مسافر نے پلاسٹک بیگ مانگا ہے، یہ حالت ہے سڑک کی کہ دس منٹ بھی نہیں گزرے کہ مسافروں کو قے شروع ہو گئی ہے۔ بس ہوسٹس ابھی شاپر دیکر مڑی ہی ہے کہ اُس کی کہنی سیدھا میرے ماتھے پہ آن لگی ہے۔ اندھوں کی طرح تو چلتے ہیں یہ اَن ٹرینڈ مخلوق، کسٹمر کیئر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
“کیا تم اندھی ہو، اندھی ہو، نئیں بتاؤ اندھی ہو”
“آئی ایم سوری سر، سڑک بہت خراب ہے”
“سڑک جو خراب ہے تو میرا سر اندھوں کی طرح پھاڑنے پہ تلی ہو، نجانے کیسے لوگوں کو بھرتی کر لیتے ہیں۔ جاہل بدتمیز عورت”۔ میرا ماتھا یوں درد کر رہا ہے جیسے کہنی نہیں گولی مار ی ہو۔
“رئیلی سوری سر، مگر گالیاں تو مت دیں، میں نے کون سا جان بوجھ کر کہنی ماری ہے، ایکسیڈنٹلی ہلکی سی  کہنی لگ گئی ہے، معذرت بھی کر رہی ہوں”۔ میرا تو دماغ خراب ہو رہا ہے۔ عجیب ڈھیٹ عورت ہے۔ ایک میرا سر پھاڑ دیا ہے اوپر سے بکواس کرے جا رہی ہے۔
“ایک تو تمہیں ہوسٹ کرنے کی تمیز نہیں، اوپر سے تم بدتمیز بھی ہو، میں تمہاری شکایت کرتا ہوں، انتہائی کوئی جاہل اور گنوار عورت ہو، بےشرمی کی حد ہے بھئی، اوپر سے ٹر ٹر کر رہی ہو”
“سر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، اب آپ زیادتی کر رہے ہیں”
“بس رہنے دیں، بس بی بی تم جاؤ، سر آپ بھی بس جانے دیں”، ساتھ والا مسافر درمیان میں بول پڑا ہے۔
“آپ خود دیکھیں میرا ماتھا دردناک چوٹ سے چَکرا رہا ہے اور یہ اوپر سے بکواس پہ بکواس کیے جا رہی ہے”
“کیا بکواس کی ہے میں نے، آپ نے جسے شکایت کرنی ہے کر لیں”
“کتے کی بچی حرام زادی ذلیل عورت، میں تمہیں بتاتا ہوں میں ہوں کون ، تمہاری یہ جرات، تمہاری اوقات کیا ہے، ٹکے کی کنڈکٹر، سج کر ایٹم نمبر بن کر مسافروں کو پھنسانے والی، تمہاری اوقات ہی کیا ہے، بےغیرت کی بچی”۔۔۔ میرا تو دماغ ابل پڑا ہے۔ سالی کتیابھونکے پہ بھونکے جا رہی ہے۔ ساتھ والے مسافر مجھے خاموش ہونے کی منت کر رہے ہیں۔
“سر آپ نے جو کرنا ہے کر لیں”
“میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں، ابھی تھانے فون کرتا ہوں، ڈالہ بس سے اتار کر تجھے میرے مکان پہ پہنچائے گا، تب تجھ کتیا کو بتاؤں گا تری اوقات، نہیں بتا تیری اوقات کیا ہے، رونا دھونا بند کر، تری اوقات ہی کیا ہے ٹکے کی کنڈکٹر، یہ آنسو مت بہا اب، کتیا تری اوقات کیا ہے، حرام زادی تجھے اب بتاتا ہوں کہ ایس ایچ او کیا ہوتا ہے، تری اوقات کیا ہے تو میرے سامنے کھڑے بھی ہو سکے، بکواس کرتی ہو آگے سے”۔

جمشید صاحب بڑے سلجھے ہوئے ایڈیکشن اسپیشلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی معاملات پہ بھی ایک مخصوص نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ آج میرے ایف ایم پروگرام میں جمشید صاحب نے منشیات کے عادی لوگوں کی بحالی کے لیے کافی علمی باتیں بتائی ہیں۔ جو سوال میں نے کرنے تھے وہ سبھی کر لیے ہیں جبکہ ابھی پروگرام کے چار منٹ باقی ہیں۔ وقت گزاری کے لیے میں نے ایک غیرمتعلقہ سوال داغ دیا ہے:
“حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں گذشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں منشیات کے استعمال میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، آخر منشیات کے مکروہ کاروبار کی روک تھام کیوں ناممکن نظر آتی ہے؟”
جمشید صاحب نے میری طرف دیکھا ہے۔ کوئی تین چار سیکنڈ سوچنے کے بعد بولنا شروع کیا ہے:
“2008ء کے معاشی بحران کے دوران بینک تباہی کے دہانے پر تھے، حکومتوں نے بینکوں کو بیل آؤٹ پیکج دے کر بینکوں کو بند ہونے سے بچایا تھا۔ لیکن اندر کی کہانی یہ ہے کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت کے پیسوں سے بینکنگ انڈسٹری کو بچا لیا گیا کیونکہ یہ واحد غیرقانونی کاروبار ایسا ہے جو بہت منظم ہوتا ہے اور 2008ء میں بینکوں کو اِس کاروبار میں ملوث بےتحاشا لیکوئیڈ کیپیٹل میسر آگیا۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل انتونیو ماریا کوسٹا کے مطابق منشیات کے غیرقانونی کاروبار میں ملوث 351 ارب امریکی ڈالر معاشی نظام میں شامل کرکے بینکوں کو بچا لیا گیا تھا۔
2008ء کے معاشی بحران کے وقت بینکوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ نقد رقم کی کمیابی تھی۔ اُس وقت بینکوں میں قرض کا لین دین منشیات کے غیرقانونی کاروبار سے منسلک پیسے سے کیا گیا۔ یہاں یہ بات آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے کہ موجودہ عہد کے سرمایہ داروں کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پیسے کہاں سے آ رہے ہیں، اُن کو بس اپنے منافع سے غرض ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے کالے کارناموں کی فقط ایک مثال ہے۔
اکثر بینکوں کے مالک اپنی اپنی حکومتوں کا حصہ بھی ہیں۔ جب یہ لوگ غیرقانونی کاروبار سے وابستہ افراد کے پاس نقد رقوم لینے گئے ہونگے تو انہوں نے اُن کی غیرقانونی شرائط بھی تسلیم کی ہونگی، اِس طرح اکیسویں صدی کے اوائل میں منشیات کے استعمال میں اضافے کی وجہ کھل کے سامنے آ جاتی ہے۔ منشیات کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے “مسلسل کوشش” کے باوجود امریکہ اب بھی غیر قانونی منشیات کی دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔
یہ بھی ایک وجہ ہے کہ 2003ء میں اوزئیل کارڈینس کی گرفتاری کے بعد سے منشیات کے کاروبار سے منسلک کسی بڑے منشیات فروش کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ صرف میکسیکو میں ساڑھے چار لاکھ لوگ منشیات کے کاروبار سے براہ راست منسلک ہیں جبکہ بتیس لاکھ میکسیکن لوگوں کی روزی روٹی منشیات مافیا پر منحصر ہے۔
علاوہ ازیں امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) پر بھی منشیات کی اسمگلنگ کے الزام موجود ہیں۔ سی آئی اے پہ اِس الزام کے حوالے سے مشہور مورخ الفریڈ میکوائے، انگریزی کے پروفیسر و شاعر پیٹر ڈیل سکاٹ، صحافی گیری ویب، مائیکل رَپرٹ، الیگزینڈر کاک برن اور مشہور میکسیکن صحافی انابیل ہرنانڈس کی تحریریں و کتب قابلِ ذکر ہیں۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا بھائی احمد کرزئی سی آئی اے کی پےرول پہ تھا اور اُس پہ بھی منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات موجود ہیں لیکن ابھی تک یہ صرف الزامات ہی ہیں کیونکہ سی آئی اے کے خلاف ثبوت کی فراہمی ایک عمومی بات نہیں ہے۔
اِسی طرح لاؤس میں 1961ء سے 1975ء تک امریکی “سیکرٹ وار” کے دوران بھی “گولڈن ٹرائی اینگل” کے نام سے منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سی آئی اے کی فرنٹ کمپنی ائیر امریکہ کے جہاز افیون اور ہیروئین کی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے اور اِس حوالے سے سی آئی اے کے اندر تحقیقات بھی چلائی گئی تھیں۔
یقیناً یہ کالا اور انسان دشمن کاروبار بظاہر غیرقانونی ہے مگر اِس کا پروٹوکول دنیا کے دوسرے قانونی کاروباروں سے زیادہ ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیاستدان اِس دھندے میں ملوث ہیں۔ اتنے بڑے عالمی کاروبار میں ملوث لوگ اور پورا کاروباری ڈھانچہ ایسا بھی خفیہ نہیں کہ پکڑ میں نہ آ سکے، لیکن کوئی اپنے خلاف آپریشن کیوں کرے گا؟”

کس دن جگروں کو انکار کیا ہے؟ زندگی کا ایک ہی اصول ہے سنگت کوئی الزام نہ دے پائے۔ دوستوں کے لیے ہمیشہ دل کے دروازے کھلے رکھتا ہوں۔ جو میرا ہے سو میری سنگت کا ہے۔ میری کار ساری سنگت استعمال کرتی ہے۔ ایمبولینس کی خدمات سے لیکر ڈانسنگ کار جیسی سہولیات تک میری کار نے کون سا ایسا ہے کام جو یاروں نے میری جیپ  سے نہیں لیا ہے۔ لیکن کوئی بوجھ نہیں۔ میں سنگت کو اہمیت دیتا ہوں۔ پچھلے ہفتے انہوں نے کہا لاہور فلم دکھانے لے چل، میں نے دوسری بات نہیں ہونے دی۔ قسم سے یار بندے کا مان ہوتے ہیں۔ الف ب کا فرق پھر بھی رہتا ہے، کوئی کس طبیعت کا کوئی کس مزاج کا ہے، مگر بھوگنا ہوتا ہے۔ یاری عشق ہے، ہر عید پہ سارے دوست مجھے عید ملنے آتے ہیں، سب کو بکرے کی سجی پیش کرتا ہوں۔ بھائی جان یاروں کی خوشی غمی کو اپنی خوشی غمی سمجھ کر اُن کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔ یہ دنیا صرف مطلب کی ہے۔ جہاں فائدہ نہیں وہاں تعلق ہی نہیں ہوتا، اِن حالات میں اپنا آپ خرچ کرکے سنگت پال رہا ہوں۔ قسم سے عباد چوہدری کی ماں بیمار تھی لاکھوں روپے لیکر ہسپتال میں آخر تک بیٹھا رہا۔ نثار کے گھر ماہانہ سامانِ گھرداری دے رہا ہوں۔ نصیب نصیب کی بات ہے۔ نثار کی بیوی بہت اچھی ہے۔ وہ بھی بس اِس بوکھڑی کے پَلے پڑ گئی ہے۔ یہ اُس عورت کی ہمت ہے جو یہ گھر چلا رہی ہے، ورنہ نثار تو بدبخت ہے موٹا۔ انسان کو کچھ نہ کچھ تو سوچنا چاہیے۔ خیر بھائی جان کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سنگت پہ اپنا آپ وار دینے والا بندہ ہوں میں۔ ایسے نہیں ہے کہ ہم دوستوں کے کام آ سکتے ہوں لیکن ہاتھ بند کرکے بیٹھنے کا گندا کام کم از کم مجھ سے نہیں ہوتا۔ ضرار عباسی والا مسئلہ ہی دیکھ لیں۔ میں نہ ہوتا تو یہ ابھی تک جیل میں سڑ رہا ہوتا۔ دوسری پارٹی نے چیک پہ پرچہ کروا دیا تھا۔ اِس کی جان تب تک ہی چھوٹنی تھی جب تک یہ اُن کو پیسے واپس نہ کر لیتا۔ یہ تو اِس کے نصیب اچھے ہیں کہ عباسی میرا دوست ہے۔ پولیس کی ایسی بولتی بند کی کہ بس، اور اگلی پارٹی کو منہ پہ پیسے مار کر ایسا بےعزت کیا کہ مزہ ہی آ گیا۔ سب میرا کوئی دوست مشکل میں ہو تو کیا مجھے گھر بیٹھے رہنا چاہیے۔ لیکن یہ عباسی بھی بہت بےغیرت ہے۔ یہ جگہ جگہ چیک بانٹتا رہتا ہے۔ میرا موڈ تو یہی تھا کہ اِس کو ہفتہ پولیس کے پاس رہنے دوں تاکہ اِس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ لیکن کیا کروں، اپنا آپ کھاتا ہے، میری انا مجھے کہاں اجازت دیتی کہ دوست بند ہو جائے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *