• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • ایک میٹر کی لمبائی آخر ایک میٹر ہی کیوں ہے؟۔۔۔وہارا اکباکر

ایک میٹر کی لمبائی آخر ایک میٹر ہی کیوں ہے؟۔۔۔وہارا اکباکر

ایک میٹر لمبائی ناپنے کے لئے یونٹ ہے اور بین الاقوامی سسٹم آف یونٹ کا آفیشل یونٹ ہے۔ اس کو سائنسدان بھی استعمال کرتے ہیں اور آپ کا درزی بھی۔ ایک میٹر کی تعریف کیا ہے؟ یہ وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں ایک سیکنڈ کے 299792458 ویں حصے میں طے کرتی ہے۔ اتنا ہی کیوں؟ اس سے کم یا زیادہ کیوں نہیں؟ یہ تعریف فرانس اکیڈمی کی ایک مہم کا نتیجہ ہے۔ یہ لمبائی بڑی احتیاط سے طے کی گئی تھی اور پچھلے صدیوں میں اس کو پریسائز کیا گیا۔ ایک وقت میں مختلف جگہوں میں مختلف یونٹ استعمال ہوا کرتے تھے۔

پروٹاگورس نے کہا تھا کہ “ہر چیز کی پیمائش کا پیمانہ انسان ہے”۔ ایک وقت تک ہم دنیا کی پیمائش کے لئے زیادہ تر انسان کو ہی معیار بناتے تھے۔ کہنی سے لے کر انگلی تک کی لمبائی جو برطانوی گز (یا کیوبٹ) کہلاتی تھی۔ پیروں کی لمبائی فٹ، ایک ہزار قدم میل کہلائے، پھیلا ہوا ہاتھ بالشت یا گٹھ۔ طب کی کتابوں میں طبیب کا ہاتھ پیمائش کا طریقہ ٹھہہرا۔ اگر مریض کا جسم طبیب کے ہاتھ سے گرم ہے یا سرد، گیلا ہے یا خشک، ان چار خاصیتوں کی بنا پر مرض دریافت کیا جاتا۔ سائنس کے لئے یہ ناکافی تھا۔ سائنس کو پیمائش کے لئے اس سے بہتر معیار درکار تھے۔

اٹھارہویں صدی میں فرنچ اکیڈمی آف سائنسز نے پیمائش کے یونٹ کو سٹینڈرڈائز کرنے کا کام شروع کیا۔ لمبائی کے بارے میں کچھ خیالات تھے۔ ایک یہ کہ پینڈولم کی اتنی لمبائی جس میں وہ اپنا دورانیہ ایک سیکنڈ میں مکمل کر لے۔ یہ خوبصورت خیال لگتا تھا لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ گریویٹی کی فورس یکساں نہیں اور زمین کے مختلف حصوں میں اس میں معمولی فرق ہے۔ اس کی وجہ سے پنڈولم کی سوئنگ میں فرق پڑتا ہے۔ طے یہ ہوا کہ اس کو زمین کے محیط کی نسبت سے سٹینڈرڈ بنایا جائے۔ اس کے لئے خطِ استوا سے قطبِ شمالی کا وہ فاصلہ ناپا جائے جو پیرس سے گزرتا ہے۔ اس کو ایک کروڑ سے تقسیم کیا جائے تو یہ لمبائی کا یونٹ ہو گا۔ (ایک کروڑ اس لئے کہ اس طرح یہ ایک کیوبٹ کے قریب قریب ہو جاتا)

سروے کرنے والوں کے گروپ نے فرانس میں ڈنکرک سے لے کر سپین میں بارسلونا تک کے فاصلے کی پیمائش کی۔ طویل عرصے میں اور احتیاط سے کی جانے والی پیمائش اور جیومٹری کی مدد سے انہوں نے کل فاصلے کا حساب لگا لیا۔ اس فاصلے سے سٹینڈرڈ میٹرک میٹر اخذ کیا گیا۔ اس کیلکولیشن میں زمین کی محوری گردش کی وجہ سے خطِ استوا اور قطبِ شمالی کے درمیان شکل کا معمولی فرق ٹھیک سے شامل نہ تھا (اس کی تاریخ نیچے دئے گئے لنک سے)۔ 1799 میں فرانس نے پلاٹینم کی ایک سلاخ بنائی جو اس پیمائش کا اصل پیمانہ بنی۔ پلاٹینم کی اس لئے کہ یہ ری ایکٹ نہیں کرتا اور حالت برقرار رکھتا ہے۔ اس وجہ سے اس سلاخ کی لمبائی بدل جانے کا اندیشہ کم تھا۔ (لوہے کی سلاخ وقت کے ساتھ زنگ کھا جاتی ہے)۔ پلاٹینم کچھ نرم دھات ہے اور زیادہ تر میٹیرئیلز کی طرح درجہ حرارت بدلنے پر یہ پھیلتی اور سکڑتی ہے۔ لیکن بہرحال، میٹر کا یہ سٹینڈرڈ سیٹ ہو گیا۔ اس پورے عمل سے پہلے دنیا میں کوئی پیمانہ نہیں تھا جس کو لمبائی کے لئے معیار بنایا جا سکتا۔

دنیا کے 17 ممالک نے 1875 میں اسکو معیار تسلیم کرنے پر دستخط کر دئے۔ 1889 میں ان میں سے ہر ملک کو میٹر کی پیمائش والی سلاخ فراہم کر دی گئی جو پلاٹینم اور اریڈئیم کے مکسچر سے بنی تھی۔ اریڈیم کو اضافی سختی اور استحکام کے لئے ملایا گیا۔ یہ انٹرنیشنل پروٹوٹائپ میٹر بار تھی۔ درجہ حرارت کے اثر کے لئے طے ہوا کہ اس سلاخ کی صفر درجے سینٹی گریڈ پر لمبائی ایک میٹر ہو گا۔ اس سے میٹر کی تعریف مزید پریسائز ہو گئی جو زیادہ تر انسانی ایکٹیویٹی کے لئے کافی تھی۔ لیکن سائنس میں ہوتی ترقی کے ساتھ اب سائنسدان اس تعریف پر زیادہ مطمئن نہیں تھے۔ کیا اس کو سلاخوں کے علاوہ کسی اور طرح بیان کیا جا سکتا تھا؟

کچھ طرف سے روشنی کی ویولینتھ کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز آئی۔ روشنی کائنات بھر میں موجود ہے اور ایک بنیادی شے ہے۔ لیکن مختلف سورس سے آنے والی روشنی کی ویولینتھ یکساں نہیں۔ ہر ایٹم میں الیکٹران فوٹون جذب کرتے ہے اور اس کو دوبارہ خارج کر کے واپس اپنی جگہ پر چلے جاتے ہیں۔ اب کونسے عنصر کو معیار ٹھہرایا جائے جس میں ویولینتھ کی ویری ایشن نہ ہو؟ اس کے لئے کرپٹون 86 کا انتخاب ہوا۔ 1960 میں میٹر کی تعریف بدل گئی۔ یہ کرپپٹون سے خلا مٰں نکلنے والی روشنی کی ویولینتھ کا 1659763.73 واں حصہ قرار پایا۔ یہ تبدیلی لمبائی کی نہیں تھی، اس کی تعریف کی تھی۔

لیکن یہاں پر بس نہیں کی گئی۔ جس طرح روشنی کی سمجھ بہتر ہوئی اور ہم اس کو زیادہ پریسائز طریقے سے ماپنے کے قابل ہوتے گئے تو احساس ہوا کہ اس کی تعریف کا اس سے بھی بنیادی طریقہ ہے۔ خلا میں روشنی کی رفتار کانسٹنٹ ہے۔ خواہ آپ کا فریم آف ریفرنس کوئی بھی ہو۔ ہماری اب تک کی سمجھ کے مطابق یہ رفتار کائنات کی بنیادی ترین خاصیتیوں میں سے ہے۔ 1983 میں اس کی تعریف ایک مرتبہ پھر بدل دی گئی اور اس مرتبہ یہ روشنی کا خلا میں ایک سیکنڈ کے 299792458 ویں حصے میں طے کردہ فاصلہ قرار پائی۔ فاصلے کے پیمانے کے لئے فطرت کے اس کانسٹنٹ سے زیادہ پریسائز تعریف ممکن نہیں تھی کیونکہ فطرت کے کانسٹنٹ واقعی کانسٹنٹ ہوتے ہیں۔ ہر چیز کی پیمائش کا بہترین پیمانہ انہی کو بنایا جا سکتا ہے۔

ایک سیکنڈ کیا ہے؟ اس کی پیمائش کا معیار سیزئم کا ایٹم ہے۔ اس کے لئے نچے والے لنک سے۔

اس پوسٹ کا پہلا حصہ
https://waharaposts.blogspot.com/2018/09/blog-post_877.html

سیکنڈ کے بارے میں
https://waharaposts.blogspot.com/2018/09/blog-post_758.html

کلوگرام کی تعریف پر جو اب بدلنے والی ہے
https://waharaposts.blogspot.com/2018/12/blog-post_24.html

میٹر کی تاریخ
https://en.wikipedia.org/wiki/History_of_the_metre

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *