• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ” ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا “۔۔۔محمد فیاض حسرت

” ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا “۔۔۔محمد فیاض حسرت

یہ غالب فرما گئے کہ ” ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا ” سوچتا ہوں غم سے میں کیوں بے حس نہیں ہوتا ۔بے حس ہوا ہوتا تو مجھے کیا غم ہوتا گزرے کل کوئٹہ میں جو معصوم لوگ مارے گئے ۔ ہائے لوگوں کے غم مجھے ایسے غمزدہ کر دیتے ہیں کہ اُن کی تکلیفیں مجھے بھی محسوس ہونے لگتی ہیں ۔ وہ دن گئے کہ جب ہم بھی غموں کی تکلیف برداشت کر لیتے تھے اب تو حالت یہ ہے کہ لوگوں کے دکھ درد کو دیکھ کر نہ برداشت کرنے کا  یارا رہا اور نہ کوئی دوسری صورت باقی رہی ۔ اور باقی رہے بھی کیسے ؟ جس طرح پاکستان میں غموں کا سیلاب رواں دواں ہے ایسے سیلاب میں تو بے حس ہونا بہت معمولی بات ہوتی ہے لیکن بے حسی بھی روٹھی روٹھی لگتی ہے ۔میرے سامنے دو ہی صورتیں تھی ان دردناک واقعات سے غمزدہ ہونے سے بچنے کے لیے ، ایک یہ کہ خدا کرے کہ آئندہ کبھی کوئی معصوم نہ مارا جائے ، خدا کرے کہ آئندہ اس ظلم و جبر کا سلسلہ ہمیشہ کےلیے ختم ہو جائے اور دوسری یہ کہ اگر اس زمیں پر انسان ظلم و ستم کا سلسلہ بند نہیں کرتا تو بے حسی کا سہارا لیا جائے ۔ لیکن نہ ہی ہماری دعا قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے اور نہ ہی بے حسی ہمارے پاس آتی ہے ۔

پھر میرے ذہن نے ایک ترتیب سوچی کہ کیوں نہ اپنی آنکھیں ہی بند کر دی جائیں تاکہ لوگوں کے غموں کی خبر ہی نہ ہو اور یہ تصور کیا جائے کہ ہر طرف امن و اماں ہے ہر طرف لوگ خوش ہیں ۔ یہ آنکھیں بند کر دینا یعنی الیکٹرانک میڈیا سے لاتعلق  ہوجانا۔ یقین جانیے اُس دن سے کافی سکوں میسر تو آیا لیکن سوشل میڈیا سے کچھ نہ کچھ وابستگی کی وجہ سے میری آنکھیں اس طرح سے بند نہ ہو پائیں جس طرح سے میں کرنا چاہتا تھا ۔ پھر میری آنکھوں نے دیکھا کہ کوئٹہ میں درجنوں لوگوں کی جانیں بے دردی سے لی گئیں ۔
آج بھی کئی لوگ سانحہ ءِ کوئٹہ کہ بعد وہی سوالات اٹھا رہے  ہیں جو سانحہ ءِ نیوزی لینڈ کے بعد اٹھا رہے تھے ۔ تو اُن کے لیے میں نے دو باتیں بیان کی تھیں  وہ آج پھر سے یہاں پیش کر دیتا ہوں ۔
پہلی بات :
نیوزی لینڈ میں بستے لوگ دوسروں کے احساس کے ساتھ جیتے ہیں ، وہاں اپنے لیے جینا نہیں دوسروں کے لیے جینا فخر سمجھا جاتا ہے ۔ان سب لوگوں کا غم میں مبتلا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس ملک کا ہرفرد اس ملک میں بستے سبھی لوگوں کے لیے پیار و محبت کا جذبہ رکھتا ہے ۔ اس پیار و محبت کا تعلق کسی ذات ، کسی نسل ،کسی قومیت یا کسی مذہب سے نہیں بلکہ انسانیت سے جڑا ہے ۔ اب اسی بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم انفرادی طور پر جائزہ لیں تو ہمیں ٹھیک طرح سے معلوم پڑے گا اور ہمیں ٹھیک طرح سے ان سب سوالات کے جوابات آسانی سے مل جائیں گے ۔ ہمارے ہاں پیار و محبت اور نفرت کی کیا سطح ہے وہ بھی ٹھیک سے معلوم پڑ جائے گا ۔

دوسری بات :
جہاں برسوں سے بلکہ صدیوں سے امن قائم ہو ، جس ماحول میں انسانوں کے علاوہ خدا کی باقی مخلوق کا بھی احساس کیا جاتا ہو، اُس ماحول میں امن کیخلاف کوئی معمولی حادثہ بھی ہو جانا اُس ماحول والوں کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا ۔ اب ذرا اپنے ہاں بھی صورتِ حال کا چیدہ چیدہ جائزہ لیجئے تو اصل بات خوب سمجھ آ جائے گی ۔جس ماحول میں امن کی بدترین صورت ہو ، جس ماحول میں دوسری مخلوق تو دور دوسرے انسانوں کے بارے سوچنا ختم ہو چکا ہو ، جس ماحول میں ہر روز ظلم و ستم ہوتے ہوں ، جس ماحول میں آہ و فغاں ، سسکیاں ، چیخیں ہر روز سنائی دیتی ہوں ، جس ماحول میں کوئی ایسا دن نہ گزرتا ہو جس میں انسانوں کا خوں نہ بہایا جاتا ہو تو اُس  ماحول میں باقیوں کو کیسا غم ؟ اور کیسا احساس ہو ؟ بھلا ایسے ماحول میں دوسروں کی فکر کیونکر ہو ، حضور !ایسے ماحول میں اپنی فکر ہی کر لینا بڑی عقلمندی و بڑی جرات مندی ہے ۔
خدا کرے ہمیں بھی اصل معنوں میں جینے کا ہنر آ جائے ۔ آمین
آخر میں دو اشعار پیش ہیں ۔
ظلم انساں پر مسلسل ہیں کیے کس نے ؟سنو !
مرتکب اس جرم کا ہائے کہ بس انساں ہوا
آزمائش تو خلیل اللہ کی پوری ہوئی
بعد اُس کے ، کیسے کیسے آدمی قرباں ہوا
(فیاض حسرت )

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *