گلگت بلتستان ، سوئزرلینڈ بن سکتا ہے۔۔۔امیر جان حقانی

میں یقین کی حد تک مکمل اعتماد کیساتھ کہہ رہا ہوں کہ گلگت بلتستان بہت جلد ایشیاء کا خوبصورت ترین علاقہ بن سکتا ہے بلکہ ایشیاء کی جنت کہلانے کا حقدار ہوسکتا ہے۔جس طرح سوئزرلینڈ یورپ کا حسین ترین ملک ہونے کیساتھ یورپ کی جنت بھی کہلاتا ہے۔اس دعویٰ کے لیے دلائل کے انبار لگانے سے بہتر ہے کہ سوئزرلینڈ اور گلگت بلتستان کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔کہ ان دونوں علاقوں میں کتنی مماثلت ہے اور کون سی وہ خصوصیات ہیں جو دونوں علاقوں میں ایک جیسی ہیں تو حیرت انگیز حقائق سامنے آئیں گے کہ تقریبا 99 فیصد چیزوں میں دونوں علاقوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔آئینی وسیاسی استحکام کے حوالے سے ایک طویل عرصہ سوئزرلینڈبھی ارتقائی منازل طے کرتا رہا ہے اور گلگت بلتستان بھی پہلے دن سے ہی ارتقائی مراحل سے گزررہا ہے۔سوئزرلینڈ کی تاریخ بھی چھ سات سوسال پرانی ہے جبکہ گلگت بلتستان کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔سوئزرلینڈ کے دائیں بائیں بھی بڑی ریاستیں مثلاً فرانس،جرمنی،اٹلی اور اسٹریلا واقع ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے دائیں بائیں بھی بڑی ریاستیں ہیں مثلاً چین، انڈیا، پاکستان , افغانستان اور واخان سے ملحقہ روس وغیرہ ہیں۔رقبہ بھی دونوں علاقوں کا تقریباًًً برابر ہی ہے۔سوئزرلینڈ کی آبادی بھی بیس لاکھ ہے اور گلگت بلتستان کی آبادی بھی بیس لاکھ کے قریب ہے۔سوئزرلینڈ میں بھی چار بڑی زبانوں یعنی جرمنی، اطالوی(اٹالین)،فرانسیسی اور رومانچی بولی جاتی ہیں ۔گلگت بلتستان میں بھی چار بڑی زبانیں یعنی شینا، بلتی، وخی اور بروششکی بولی جاتی ہیں۔مذہبی اعتبار سے سوئزرلینڈ میں رومن کیتھولک49 فیصداور پروٹسٹنٹ 44 فیصد ہیں جبکہ تیس چالیس ہزار کے قریب یہودی اور دیگر مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی تین بڑے مسالک یعنی اہل سنت ،اہل تشیع، اسماعیلی اوران کے ساتھ نوربخشی برادری کے لوگ رہتے ہیں۔سوئزرلینڈ میں ٹوٹل 26کینٹین ہیں جن میں 20مکمل اور 6 نصف کینٹین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان تمام کینٹیز کے رسم و رواج اور اصول زندگی مختلف ہیں۔کچھ کینٹینز میں اب تک براہ راست جمہوری سسٹم ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی معروف و مشہور بیس کے قریب علاقے ہیں جن میں رسم و رواج اور اطورِ حیات مختلف بھی ہیں اور بہت ہی دلچسپ بھی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مذہبی رسوم اور ثقافتی امور کے حوالے سے بالکل متصل اور آمنے سامنے واقع ہنزہ اور نگر میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اسی طرح قریب الواقع داریل اور چلاس کے طور طریقوں اور شادی بیاہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اور گلگت بلتستان کے بعض علاقوں میں آج بھی براہ راست جمہوری نظام یعنی مضبوط جرگہ سسٹم اور نمبرداری سسٹم موجودہے۔ سوئزرلینڈ بھی زرعی ملک نہیں اسی طرح گلگت بلتستان بھی زرعی نہیں۔ سوئزرلینڈ اپنی زمین پر ایک آدمی کی خوراک پیدا نہیں کرسکتا اسی طرح گلگت بلتستان بھی اشیاء خوردنوش میں اسًّی فیصد سے زیادہ دیگر علاقوں سے مدد لیتا ہے۔ سوئزرلینڈ پہاڑی ملک ہے۔گلگت بلتستان بھی پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ سوئزرلینڈمیں کوہ آلپس سے نکلنے والی ندی نالے اور آبشاریں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں اسی طرح گلگت بلتستان کے درجنوں بڑے پہاڑ، نانگا پربت، کے ٹو، راکاپوشی اور پامیر وغیرہ سے بہنے والے جھرنے، آبشاریں،گلیشئرز اور ندی نالوں کیساتھ سے بہتے دریاوں نے علاقے کا حسن دوبالا کردیا ہے۔ سوئزرلینڈ قدرتی اور دلکش مناظرکی وجہ سے پورے یورپ میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے تو گلگت بلتستان بھی  فطری مناظر، قدرتی خوبصورتی اور دیگرلازوال خدائی صناعیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنا الگ مقام اور انفرادیت کا حامل ہے۔صرف فیری میڈو،بابوسرٹاپ، دیوسائی نیشنل پارک ، خنجراب نیشنل پارک ، سدپارہ اور شندور ہی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔سوئس باشندے محنتی، جفاکشی اور ایمانداری میں معروف ہیں تو گلگت بلتستان کے لوگ بھی سخت جان ہونے کیساتھ محنتی بھی ہیں اور مشکلات کو برداشت بھی کرتے ہیں ۔غرض ریسرچ کی جائے تو سوئزرلینڈ اور گلگت بلتستان میں بہت ساری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

سوئزرلینڈ اپنی ان خوبصورتیوں اور کچھ بہترین اصول و ضابطہ ء  حیات کی وجہ سے پوری دنیا کا سیاحتی پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو سوئزرلینڈ سے بہت زیادہ خدائی صناعیاں اور فطری رموز گلگت بلتستان میں پائے جاتے ہیں۔ سوئزرلینڈ میں دریا نہیں جبکہ گلگت بلتستان میں درجنوں دریا  بہتے  ہیں۔ سوئزرلینڈ میں معدنیا ت نہیں جبکہ گلگت بلتستان میں معدنیا ت کا بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ سوئزرلینڈ میں معروف گلیشئرز نہیں جبکہ گلگت بلتستان میں درجنوں بڑے گلیشئرز ہیں۔ سوئزرلینڈ میں شندور، دیوسائی اور فیری میڈو جیسی بلند ی پرپھیلے کشادہ اور وسیع علاقے نہیں۔سوئزرلینڈ میں گلگت بلتستان کے علاقہ دیامر کے جنگلوں کی طرح ہر قسم کی قیمتی تعمیراتی لکڑی کے جنگل نہیں۔اور نہ ہی نایاب جنگلی حیات۔غرض بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو سوئزرلینڈ میں نہیں۔اس سب کے باوجود سوئزرلینڈ نے سیاحتی دنیا میں اپنا نام کمایا۔ہرسال لاکھوں لوگ سوئزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں۔ نوبیاہتا   جوڑے ہنی مون منانے سوئزرلینڈ پہنچ جاتے ہیں۔ سیاحت کی وجہ سے سوئزرلینڈ کے ہوٹل عالمی شہرت رکھتے ہیں۔جبکہ گلگت بلتستان اپنی تمام تر خوبصورتی اور دلکش مناظر کی موجودگی کے باوجود سیاحتی دنیا میں اپنا نام نہ کما سکا۔اور نہ ہی ہوٹل انڈسٹری اب تک پنپ سکی اور نہ ہی عالمی سیاحوں کے لیے یہاں کچھ خاص بندوبست ہے اور نہ ہی ملکی سیاحوں کے لیے کچھ سہولتیں ہیں۔ دنیا بھر سے اور ملک بھر سے یہاں لوگ آتے ہیں تو اپنے رسک پر آتے ہیں۔ان کی سکیورٹی تک کا انتظام نہیں۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ فیڈرل گورنمنٹ نے کشیدہ حالات کی وجہ سے عالمی سیاحوں کا داخلہ گلگت بلتستان میں ممنوع قرار دیا۔
سوئزرلینڈ کی ترقی اور شہرت کی ایک ہی وجہ ہے کہ سوئس قوم نے روز اول سے ہی پوری دنیا کی سطح پر اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھا ہوا ہے۔رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذہبی اعتبار سے ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں اسی طرح یہودیت کے ساتھ بھی دونوں کی نہیں بنتی اور نہ ہی دیگر مذاہب کے افراد سے بنتی ہے۔داخلی سطح پرسوئس قوم تمام تر مذہبی، لسانی،علاقائی اورنسلی اختلافات کے باوجود بھی سماجی ہم آہنگی کیساتھ رہتی ہے۔معاشرتی امن انہیں ہرحال میں عزیز رہتا ہے۔ہرسوئس شہری اپنے ملک کیساتھ محبت اور قومی تشخص اور قوم پرستی کے جذبے سے معمور ہوتا ہے۔مختلف المذاہب و علاقہ باشندوں نے کبھی بھی لسانی، مذہبی اور نسلی  تعصبات کو فروغ نہیں دیا،بلکہ قومی وقار اور ملکی سالمیت و ترقی کو ہر چیز پر مقدم جانا۔اسی طرح عالمی اور بیرونی سطح پر سوئزرلینڈ کا کردار ہمیشہ غیر جانبدار رہاسوئزرلینڈ نے بین الاقوامی سطح پر اپنی غیرجانبداری کا لوہا منوایا ہوا ہے۔1815ء میں ویانا کانگریس نے، اور 1920ء میں مجلس اقوام نے سوئزرلینڈ کی غیرجانبداری کوباقاعدہ تسلیم کیا ہے۔ غیر جانبداری ہی کی وجہ سے سوئزرلینڈ اب تک اقوام متحدہ کا باقاعدہ ممبر نہیں بن سکا، تاہم مبصر اور مشاہد کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے۔ کسی کی حق یا مخالفت میں سوئزرلینڈ نے کبھی حصہ نہیں لیا۔سوئزرلینڈ میں جرمن باشندوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔دونوں عالمی جنگوں میں جرمنی کے شدید دباو کے باوجود بھی سوئزرلینڈ اپنی ”غیر جانبدارانہ حکمت عملی” پر عمل پیرا رہا۔یہی وجہ ہے کہ آج سوئزرلینڈ سے دنیا کے کسی بھی ملک یا قوم کو شکایت نہیں۔سوئزرلینڈ کا نام سنتے ہیں ہر انسان میں محبت کے جذبات اور علاقے کی خوبصورتی کے مناظر گھومنے لگتے ہیں۔غیرجانبداری کی وجہ سے سوئزرلینڈ کو فوج کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اس لیے دفاعی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اکیسوی صدی کے ہر اس ملک کا جائزہ لیا جائے جو تیسری دنیا سے رینگتے رینگتے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہوا اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے قریب ہے، اس کی پالیسیوں میں سب سے پہلے داخلی امن اور بیرونی حوالے سے غیرجانبداری کا اصول ملے گا۔ملائشیاء کا نام بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ملائشیاء کے مہاتیر محمد نے 80ء کی دہائی سے ہی غیر جانبداری کا اصول اپنایا تھا۔تب سے آج تک بڑی بڑی جنگوں اور مختلف ممالک و مذاہب کی پروکسی وار میں ملائشیاء کا کردار صفر نظرآئے گا۔ملا ئشیاء کسی بھی ملک یا مذہب کی طرف داری کرکے یک طرفہ کھڑا نہیں ہوتا۔بلکہ غیر جانبدار ہی رہتا ہے اس لیے ترقی کے زینے چڑھتا جاتا ہے جبکہ وہ قومیں اور ممالک جو ہمیشہ دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح دیگر ممالک و اقوام کی پروکسی کا حصہ بنتے ہیں اورایک جانب کھڑے ہوتے ہیں وہ ممالک اور قومیں داخلی طور پر سخت انتشارکا شکار رہتی ہیں اوربین الاقوامی سطح پر ہمیشہ مطعون ٹھہرتی ہیں۔معاشی حوالے سے غیر مستحکم ہوتی ہیں اور مانگ تانگ اور بھیک پر گزارہ کرنے لگتی ہیں۔ان کا سماجی ڈھانچہ تباہی کے دھانے پر کھڑا ہوتا ہے اور ملکی سالمیت ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے ایسی قومیں اور ریاستیں بنانا سٹیٹ بن جاتی ہیں یا سیکورٹی سٹیٹ، جو بہر حال بین الاقوامی سطح پر ترچھی اور تیکھی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔فلاحی سٹیٹ بننا ایسے ملکوں اور قوموں کا خواب ہی ہوتا۔
خلاصہ کلام، گلگت بلتستان بھی اگر سوئزرلینڈ کی طرح باوجود کثرت مذہبی و لسانی و نسلی کے، داخلی سطح پر پرامن رہے اور بیرونی اور عالمی سطح پر صرف اور صرف غیر جانبدار رہے اور کسی بھی ریاست او رمذہب کے پروکسی وار کا حصہ نہ بنے اور ساتھ ہی ٹورازم پر مکمل توجہ دے تو کوئی وجہ نہیں گلگت بلتستان ہر اعتبار سے سوئزرلینڈ سے آگے نہ بڑھے۔آج سے اگر یہ طے کیا جائے کہ گلگت بلتستان کا ہر فرد”بگاڑ کے بجائے بناو” کی پالیسی اپنائے گا اور داخلی طور پر پُرامن اور بیرونی طور پر غیر جانبدار رہے گا اور جی بی کا معقول بجٹ سیاحت انڈسٹری پر خرچ کیا جائے گا توبہت جلد دنیا کے نقشے پر گلگت بلتستان ایک ترقی یافتہ قوم اور پرامن خطے کے طور پراُبھر سکتا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ گلگت بلتستان ہر قسم کے معاشی اور سماجی بحرانوں سے نکل سکے گا۔سوئزرلینڈ کی طرح گلگت بلتستان بھی لسانی، گروہی، اور جغرافیائی اعتبار سے منقسم علاقہ ہے لیکن سوئزرلینڈ پوری دنیا میں اپنے اتحاد اور یکجہتی کی وجہ سے مشہور ترین ملک ہے۔سوئزرلینڈ نے اپنی لسانی، جغرافیائی، مذہبی اور قبائلی تقسیم کو اپنی کمزور ی بنانے کے بجائے اپنی ترقی کا زینہ بنایا ہے تو گلگت بلتستان کی قوم بھی اس قسم کی ”ڈائیورسٹی ” کو بطور” اپارچیونٹی” استعمال کرسکتی ہے۔سوئزرلینڈ کی طرح گلگت بلتستان کے چاروں اطراف میں بڑی جنگی طاقتیں موجود ہیں۔جس طرح سوئزرلینڈ کسی کے ساتھ دے کر کسی کی مخالفت اور دشمنی نہیں مول سکتا اسی طرح گلگت بلتستان بھی غیرجانبدار حکمت عملی اپنا کر پوری دنیا میں اپنا وقار اور امیج بہتر بناسکتا ہے اور داخلی طور پر بھرپور استحکام بخش سکتا ہے۔یاد رہے کہ ” غیر جانبدارانہ حکمت عملی ” کے ذریعے گلگت بلتستان ہرقسم کے داخلی اور خارجی بحرانوں سے نکل کر ایک خود کفیل اورمعاشی و سماجی استحکام حاصل کرسکتا ہے اور اپنی چھوٹی چھوٹی مصنوعات کو عالمی منڈی تک رسائی دے کر مضبوط صنعتی علاقہ بن سکتا ہے۔بس اس کے لیے آپس کی حسد بغض ناچاکی اور عناد و کینہ سے پاک ہونا ہوگااور فطری اصولوں کے مطابق نظام زندگی سنبھالنا ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے2010 سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *