رجوع الی اللہ اور ساتھی انسان۔۔۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

اگر کسی انسان کا وقت اور صلاحیتیں دوسرے انسانوں کے ساتھ, حسد, غصہ, نفرت و جھگڑے کرنے اور دشمنیاں کرنے میں لگنے لگے تو یہ اللہ کریم کے حضور توبہ کر کے اللہ کریم سے رجوع کرنے اور ساتھی انسانوں سے اپنا رویہ درست کرنے اور اپنی اصلاح کا مقام ہے-

شیطان کو آدم سے حسد ہوا, شیطان آدم کی برتری کی وجہ سے حسد، غصہ و نفرت میں مبتلا ہوا اور اس طرح شیطان نے آدم اور آدم کی نسل سے سے دشمنی و جھگڑے کی بنیاد رکھی- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ سب منفی رویے شیطانی پھندے ہیں جن میں پھنسنے والے انسان اپنی دنیا و آخرت خراب کرتے ہیں-

یاد رکھیے ساتھی انسانوں کے معاملے میں دلوں کا صاف اور کدورتوں سے خالی ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے-

جس انسان کا دل اپنے گھر والوں، رشتے داروں, دوستوں, محلے داروں، ہمسائیوں اور دیگر انسانوں کے بارے میں کدورتوں، بغض,)، نفرت، حسد اور عناد سے خالی ہو جائے تو گویا پیارے الله کریم سوھنے پاک رب العالمین نے دنیا کے اندر اس کو جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت عطاء فرما دی-

لہذا کسی کے بارے میں بھی اپنے دل میں غصہ، کینہ، ضد، حسد، بغض، عناد اور نفرت نہ رہنے دیں-
معاف کرنے اور معافی مانگنے کا رواج عام کریں- یہاں مجھے ماضی کے جھروکوں سے جھانکتے ہوئے اپنے ایک انتہائی شفیق استاد محترم یاد آئے اور ساتھ ان کے اکلوتے چچا مرحوم۔

استاد محترم کے چچا مرحوم وجیہہ و خوبرو شخصیت کے مالک، میدان وکالت کے شہسوار تھے، اپنے زمانے کے کامیاب ترین وکلاء میں شمار ہوتا تھا ان کا اور بجا طور پر اپنے شعبے کے فسوں گر تھے۔ عدالت میں جب دلائل دینے آتے تو وکالت و علم سیکھنے کے متوالے اس عدالت میں جمع ہو جاتے۔ مرحوم کا انداز بیاں و شستہ ہفت زباں عدالت پر سحر طاری کر دیتا۔ آواز کا اتار چڑھاو شائستگی کا دامن کبھی نہ چھوڑتا۔ قانون تو ایک طرف ساری دنیا کے ادب نے جیسے آپ کے نہاں خانہ ذہن سے ہی جنم لیا تھا۔ ادب و شاعری و ہر علاقے و ملک کی ثقافت سے آپ کی شناسائی قابل رشک تھی۔ اپنے وقت کے جسٹس صاحبان اپنے بچوں کو وکالت سیکھنے کے لئے آپ کے چیمبر میں بھیجا کرتے تھے تو ۔۔۔۔۔ ایک دن لاہور ہائیکورٹ کیسز سے فارغ ہو کر اسلام آباد سپریم کورٹ کسی کیس کے سلسلے میں جا رہے تھے ۔۔۔۔ راستے میں اللہ جانے کار کیسے الٹ گئی کے موقع پر ہی اتنے پیارے انسان کو اللہ کریم نے اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطاء فرمائے آمین ثم آمین۔

جنازے کے بعد ایک دن استاد محترم کے پاس ان کے اکلوتے چچا کی تعزیت کے لئے گیا تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں کہ اکلوتے چچا سے کچھ معاملات کے باعث ناراضگی چل رہی تھی، بول چال بھی بند تھی اور اسی دوران وہ راہی ملک عدم ہوئے تو اب ہم چچا کہاں سے ڈھونڈ لائیں۔ پھر استاد محترم نے بتایا کہ شاہد جو کوئی مجھ سے ناراض تھا میں نے اس کے پاس جا کر اس سے معافی مانگ لی، اس کے سینے سے لگ گیا اور جس سے میں ناراض تھا اسے میں نے معاف کر دیا اس کے پاس جا کر ناراضگی دور کی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ اور یہی سبق آج میرے سب احباب کے لئے ہے کی یہ مختصر سی زندگی اتنی اہمیت نہیں رکھتی کہ اس کے لئے یہ ساری مصیبتیں پالی جائیں اور آنے والی ابدی زندگی یعنی اپنی عاقبت خراب کی جاۓ-

صاف دلی اور مسکراہٹ کے ساتھ ملنا اور درگزر کرنا زندگی کا حسن ہے اور آخرت کا سرمایہ-

دعا ہے کہ اللہ سوھنا پاک پروردگار ہمیں تمام نفسانی و شیطانی برائیوں سے بچاۓ آمین، ثم آمین یا رب العالمین۔

دعا گو ‘ طالب دعا شاہد محمود

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *