انجام سے باخبر رہیں۔۔وقار عظیم

کبھی کسی دکان سے چکن خریدنے جانا  ہوا تو غور کیجیے گا کہ جب مالک دکان  پر رکھے  پنجرے سے کسی مرغی کو گردن سے پکڑ کر باہر نکالتا ہے تو وہ چیختی چلاتی ہے۔۔چہرے پر سپاٹ سے تاثرات لیے وہ شخص بہت سکون سے اس مرغی کی گردن پر چھری چلا دیتا ہے اور اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے ڈرم میں پھینک دیتا ہے۔۔پنجرے میں موجود باقی مرغیوں کے سامنے یہ سارا سلسلہ ہوتا ہے لیکن ان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ اسی طرح بیٹھی رہتی ہیں۔اگر کوئی دانہ چگ رہی ہے تو وہ دانہ چگتی رہتی ہے۔کوئی بیٹھی ہے تو وہ بیٹھی ہے کوئی لیٹی ہے تو وہ لیٹی ہے۔انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے پنجرے میں اب سے چند لمحے پہلے ایک زندہ وجود تھا جو اب موت کا ذائقہ چکھ چکا ہے اور ان کا اپنا انجام بھی نوشہ دیوار ہے کہ ہو سکتا ہے شام یا کل تک، جلد ہی انھوں نے بھی اسی طرح موت کو  گلے لگانا ہے لیکن ان کی روٹین میں کوئی فرق نہیں آتا۔

چلیں وہ تو جانور ہے۔عقل و شعور نہیں رکھتے۔۔ہم تو انسان ہیں۔پھر ہم میں اور ان پنجرے میں بیٹھی مرغیوں میں کیوں کوئی فرق نہیں؟ کیا ہم روزانہ اپنے اردگرد اٹھتے جنازے نہیں دیکھتے؟ کیا ہم اپنے ہی پیاروں کو مٹی کی چادر اوڑھتے نہیں دیکھتے؟کیا ہمیں نہیں علم کہ ہمارا انجام نوشہ دیوار ہے؟ کیا ہم نہیں جانتے جلد یا بدیر ہم سب کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے؟ پھر کیوں ہم سب کی زندگیوں میں تبدیلیاں نہیں آتیں؟ پھر کیوں ہم جھوٹ بولنا، حرام کھانا، دل توڑنا، مکر و فریب والی   زندگی چھوڑ دیتے؟
بے شک موت سب سے بڑی حقیقت ہے۔۔خود کو دیادہانی کرواتے رہا کریں۔ہفتے میں ایک دن لازمی قبرستان جایا کریں۔۔تا کہ اپنے انجام سے باخبر رہیں۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انجام سے باخبر رہیں۔۔وقار عظیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *