انصاف۔۔۔۔۔سعید احمد/نظم

آج انصاف ہواتھا

آج انصاف کا دن ہے
آج کے دن انصاف ہواتھا
آج لوگ روۓ تھے
آج لوگوں کے چہرے
اداس تھے
گھروں میں کوئی
مر گیا تھا
نہ میت تھی نہ کوئی جنازہ اٹھا
آج انصاف ہواتھا
لاکھوں آوازوں کی ایک آواز کا
گلا گھونٹ دیا گیا تھا
آج کے دن چڑیاں چپ تھیں
پرندے ہجرت کر گئے تھے
نوجوانوں نے اپنے جسم
جلا دئیے,
اس نے کہا تھا
میں اپنے جسم میں نہیں
تاریخ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں
وہ ایک آواز تھا, ایک نعرہ تھا
لوگوں کے دلوں میں بستا تھا
انصاف گھر کے مکینوں
کے پاس اختیار تھا
سنگینوں والے ساتھ تھے
پرہیزگار اور تہجد گذار
منتظر تھے
بندوقوں نے اس کو
قبر میں اتارا
بندوقوں نے اس کی قبر
کو بھی یرغمال کر لیا
اور آج تک اس کی قبر کا
تاوان وصول کر رہے ہیں
آج انصاف ہوا تھا
آج انصاف کا دن ہے
آج کے دن انصاف ہواتھا

Avatar
سعید احمد
قاری و لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *