فنونِ لطیفہ کی زبان۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

پیغام رسانی کے مقصد کے پورا ہونے کیلئے لازم ہے کہ پیغام بھیجنے اور پیغام وصول کرنے والے کے درمیان ایک مشترک وسیلہ یا ذریعہ ہو، اور یہ ذریعہ زبان ہے، اس بابت کوئی دو رائے نہیں، مگر یہاں ایک الجھن ہے، وہ یہ کہ میں اگرچہ یونانی زبان نہیں جانتا، اسی لئے یونانی زبان میں لکھی تحاریر کو سمجھنے سے قاصر ہوں، مگر میں یونانی مجسمہ تراشوں ، نقّاشوں ، موسیقاروں اور مصوّروں کے دئیے گئے پیغامات کو نہ صرف سمجھتا ہوں، بلکہ محسوس بھی کرتا ہوں، آخر یہ کونسی زبان ہے جو میرے اور یونانی فنکاروں کے درمیان پیغام رسانی کا کام دے رہی ہے؟
ادب ،جو کہ حقیقی ذہن کے سکون کا بہترین ذریعہ ہے، کیلئے ایک مخصوص زبان کا ہونا ضروری ہے, یہاں “مخصوص زبان” سے مراد کچھ خاص اکائیاں (حروف و الفاظ) اور ان کی ترتیب کا قاعدہ ہے، جن کی مدد سے قاری تک کسی پیغام کے پہنچانے میں آسانی رہتی ہے،مگر حقیقی فن ( بشمول ادب ) اپنے اندر ایسی کوئی اکائیاں نہیں رکھتا، اکائیوں اور ان کی ترتیب کی بجائے حقیقی فن میں ایک باہم تسلسل ہے، گویا کہ بغیر کڑیوں کے ایک زنجیر ہے۔ اور اگر کوئی بھی فن (بشمول ادب ) مخصوص اکائیوں اور ان کی ترتیب کا مجموعہ ہے تو اسے فن کہنا درست نہیں، شاید اسی موقع کیلئے ایمانوئیل کانٹ نے کہا تھا، اور ان کے یہ الفاظ آبِ زر سے لکھے جانے چاہیئں کہ، ” فن جو اکائیوں اور قواعد کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے، درحقیقت فن نہیں، بلکہ ایک ہُنر ہے “۔
فنی پیغام درحقیقت ایک خاص فنی شکل تخلیق کرتا ہے، زبانِ فن کی یہ شکل ایک آفاقیت کی عکاس ہوتی ہے، اور یہ آفاقیت دنیا کے ہر بے جان و جاندار وجود میں جزوِ مشترک ہے، مگر سامنے کا سوال یہ ہے کہ، یہ آفاقیت کیا ہے؟
آفاقیت یقینا ًًً حضرتِ انسان ہے، یہی یونانی فلسفی پروتاگورس نے اپنے اس قول میں کہا کہ،” کائنات کی ہر چیز کا پیمانہ انسان ہے” دوسرے الفاظ میں انسانی قیاس و ادراک ہی وہ زبان ہے جو میرے اور یونانی مجسمے کے درمیان وسیلۂ پیغام رسانی ہے۔ یہاں خالصتاً جمالیاتی پہلو مدِنظر رہے، کہ حسِ جمالیات کا قبولیت و ترک کا پیمانہ انسان ہی طے کرتا ہے اور خود کو بطور پیمانہ مرکز میں رکھتے ہوئے طے کرتا ہے، آفاقیت کی یہ زبان صرف زبانِ فن ہی نہیں، بلکہ زبانِ جمالیات بھی ہے، گویا کہ فطرت اور فنکار دونوں ہمارے ساتھ اسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔
یہاں ذیلی طور پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ فن اور فطرت کی جمالیات کا ایک نہیں، بلکہ دو پہلو ہیں، اجمالاً ان پہلوؤں کو دایاں (یا شیریں) اور بایاں (یا نمکین ) کہا جا سکتا ہے، دایاں یا شیریں پہلو اپنے اندر حسن، خوبصورتی، مٹھاس اور ٹھنڈک لیے ہوئے ہے، جیسے حسین چہرہ، موسمِ بہار، آبشاریں، دل کو سرشار کر دینے والی موسیقی، آنکھوں کو حیران کر دینے والے فن پارے وغیرہ، عمومی خیال یہ ہے کہ جمالیات کا یہ واحد پہلو ہے، اور یہ مکمل ہے، یعنی کہ اہلِ ذوق میں اس پہلو کی موجودگی کبھی بگاڑ کا سبب نہیں بنتی، ایسا ہرگز نہیں، آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ کچھ نوجوان جان بوجھ کر ہاتھ میں چائنہ کا سستا موبائل رکھتے ہیں کہ اس کے پھٹے اسپیکر سے موسیقی کو دوسرے موبائل فونز کی نسبت زیادہ بلند آواز سے سنا جا سکتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو شہد میں چینی ملانے کی نازیبا حرکت کو جمالیاتی مٹھاس کا عروج گردانتے ہیں، اسی طرح جیسا کہ عرض کیا کہ فطرت اور فن کی جمالیات سمتِ واحد کی مالک نہیں، اسی جمالیات کی دوسری سمت بھی ہے، جسے بائیں یا نمکین کہا جا سکتا ہے، جیسا کہ موسمِ خزاں، جیسا کہ سبز مرچ اور اچار کا ذائقہ، انسانی چہروں کی بابت مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ بعض اداکار یا اداکارائیں، اور عام زندگی میں بھی بے شمار افراد، قطعاً خوبصورت کہلائے جانے کے لائق نہیں ہوتے، مگر ان میں کچھ خاص ہوتا ہے، وہ اپنی شخصیت میں بے نظیر ہوتے ہیں، ان کی ادائے جداگانہ ایک خاص کشش رکھتی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اہلِ ذوق کی جمالیات کا بائیں پہلو پہچاننے میں ذرا دیر نہیں کرتا، مشہورِ زمانہ مصوّر پکاسو کا فن اسی بائیں یا نمکین جمالیات کا مظہر ہے۔
انسان آخر کیسے پیمانۂ کائنات و جمالیات بن پاتا ہے، اس الجھن کو سمجھنے میں ہیراکلیٹس کا یہ قول ملاحظہ فرمائیے کہ، ” خوبصورت ترین بندر عام انسان کے مقابلے بدصورت دِکھتا ہے، اور انسانوں میں بہترین انسان، خدا کے سامنے ، حِکمت و حُسن میں، اس بندر کی سی حیثیت بھی نہیں رکھتا”، اب جب کہ یہاں خدا کا ذکر آچکا تو ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ پیمانۂ جمالیات و کائنات انسان کی بجائے خدا کیوں نہیں، جو زیادہ حکمت و حُسن والا ہے، واقعہ یہ ہے کہ خدا کو نہ ہیراکلیٹس نے دیکھا ، نہ پروتاگورس نے اور نہ ہی کانٹ نے، شاید اسی لیے لوڈوِگ فیرباخ نے کہا تھا کہ، ” خدا نے انسان کو نہیں، بلکہ انسان نے خدا کو تخلیق کیا ہے”، گویا کہ اپنی سوچ و اندازے میں جو شخص خدا کی ذات کو جیسے سمجھ پایا، ویسے تصور کیا، یعنی کہ پروتاگورس کا یہ نکتہ ہر پہلو سے انتہائی فصیح و درست ہے کہ، انسان ہی ہر چیز کا پیمانہ ہے۔
جہاں تک حقیقی ادب کا تعلق ہے تو اس میں مخصوص اکائیوں اور ان کی ترتیب کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے، مگر زبان موجود ہے اور رہے گی، مگر اس سے ایک قدم آگے فنِ مصوری، نقاشی ، موسیقی، مجسمہ سازی و دیگر فنون، لسانیات سے عاجز ہوتے ہیں مگر آفاقیت، جو گاہے اپنے اندر مخصوص علامات یا اشارے لئے ہوتی ہے، باقی رہتی ہے اور یہی اس فن کی حقیقی زبان ہے۔
یہ زبانِ آفاقیت انسانی تخیل و ادراک کو بیدار کرنے میں محرک کا کام دیتی ہے، گاہے یہ علامات اور اشارے کوئی معلوماتی پیغام نہ دینے کے باوجود ایک نفسیاتی سکون و دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔

زبان ذریعہ ہے پیغام رسانی کا، فن بذاتِ خود ایک پیغام ہے، زبان حقائق کو بیان کرتی ہے، فن حقائق کا اظہار کرتا ہے ۔ حقائق کے بیان اور ان کے اظہار میں زمین آسمان کا فرق ہے، وہی فرق جو سمجھنے اور محسوس کرنے میں ہے، اسی لیے لیو ٹالسٹائی نے اپنے شہرۂ آفاق ناول، جنگ و امن، کے بارے کہا تھا کہ اگر وہ یہ سمجھانے بیٹھ جائیں کہ اس ناول کا مضمون کیا ہے تو انہیں یہ ناول دوبارہ لکھنا پڑے گا، اسی لئے اس ناول کے مضمون کو سمجھنے کی بجائے محسوس کیا جانا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *