ہجر کی تمہید۔۔۔ابو علیحہ/ریویو۔۔عامر کاکازئی

فقیر راحموں نے ایک بار کہا تھا کہ ہرنظریاتی ریاست بنیادی طور پر بندے خور ہوتی ہے۔

نظریےکی ہنڈیاں میں بھائیوں کا گوشت ان کی ہڈیوں سے سُلگائی آگ پہ پکتا ہے۔ یہ بات درست معلوم ہوتی ہے جب ہم محترم علی سجاد صاحب کی کتاب ہجر کی تمہید پڑھتے ہیں۔

کتاب کا پہلا صفحہ پلٹتے ہی نظر انتساب پر پڑتی ہے جو کہ ایک جملے پرمشتمل ہے “اس دشمن جاں کی نظر ، جو کبھی نہ ترک کی جانےوالی عادت کی طرح میرے ساتھ ہے۔” اس ایک جملے سے آپ پوری کتاب کے جملوں کی خوبصورتی کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

یہ کتاب ان کے دکھ اور درد کی لکھت ہے۔ جس کی شروعات ہوتی ہے ان کے اَسیر سے مگر اس کہانی کا انت نہیں بلکہ یہ ان کے اس ہجر کی شروعات ہیں جس کا اختتام نہیں۔
کہانی ہے اس شخص کی جسے زندگی نے زور سے دسویں منزل سے گرا یا، مگر وہ پھر بھی اُٹھ کھڑا ہو گیا اور ایک سال میں دو فلمیں کتا کشا اور تیور ریلیز کیں، تین کتابیں، دو ڈرامہ سیریل کے سکرپٹ، اور دو فیچر فلموں کے سکرپٹ لکھ بیٹھے۔ جس میں سے ایک سکرپٹ  پر کامیڈی فلم ہاف فرائی کے نام سے بنائی جا رہی ہے۔۔

کیا خدا کسی انسان کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف دے سکتا ہے؟ جبکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ علی سجاد کا کہنا ہے کہ جو تکلیف مجھے ملی وہ میری برداشت سے باہر تھی۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میرے رب نے مجھے میری برداشت سے باہر تکلیف کیوں دی؟ جبکہ ہمارا ان سے کہنا ہے کہ جیسے ماں اپنے ایک دن کے بچے کو انجکشن لگواتی ہے، جبکہ اسے معلوم ہے کہ ایک دن کا بچہ اس درد کو برداشت نہیں کر سکتا، پھر بھی ماں بچے کی بہتری کے لیے لگواتی ہے، ٹھیک اسی طرح انگلش کی ایک proverb “blessing in Disguise کی طرح شاید اس تکلیف نے علی سجاد کو ایک سال میں وہ سب کچھ کرنے پر مجبور کر دیا جو شاید وہ نارمل حالات میں نہ کر سکتے۔

مگر۔۔۔
جیسے ایک آنکھوں والا کسی اندھے کی تکلیف کو نہیں سمجھ سکتا، اسی طرح جو زخمِ خفیف دل اور روح پر لگتے ہیں ان زخموں کی تکلیف کو سمجھنا کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ سنا ہے کہ کربِ خدا کے نزدیک کرتا ہے، مگر اس کتاب کے حروف درد اور برداشت کا وہ لیول بتاتے ہیں جس نے لکھاری کو اپنےرب سے کوسوں دور کر دیا۔

مگر۔۔

پھر بھی لکھاری رحمت خداوندی سے مایوس نہیں کہ اسے اپنے رب سے یہ امید ہے کہ “چوٹ کھاۓ عاشق کو روز محشر ساری گستاخیاں معاف ہونی چاہئیں
گاڈ فادر میں ماریو پوزو ایک جملہ لکھتا ہے کہ
The worst thing about betrayal is that it never comes from the enemy
ٹھیک اسی طرح ان کے جگری دوست کی وجہ سے یہ اس نہ ختم ہونے والی تکلیف اور درد کے سمندر میں ڈبوۓ جاتے ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو صاحب کے قاتلوں سے انتقام لیں گی؟ انہوں نے تاریخی جواب دیا کہ “جمہوریت بہترین انتقام ہے” مطلب؟ مطلب کہ جس بھٹو کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ظالموں نے پھانسی پر چڑھا دیا، دس سال پاکستان کو ڈکٹیٹر شپ کے اندھیروں میں رکھا۔ مگر کیا وہ بھٹو کی بیٹی کو دو بار وزیر اعظم بننے سے روک پاۓ، کیا وہ بھٹو کے داماد کو ملک کا صدر بننے سے روک پاۓ؟
ماریو پوزو نے اپنی کتاب گاڈ فاڈر میں ایک جگہ لکھا ہے کہ
\”In this world there comes a time when the most humble of men, if he keeps his eyes open, can take his revenge on the most powerful.\”
اس کتاب کے ہیرو ابو علیحہ کو بھی ولن بنا دیا گیا، ان کی عزت نفس کو کچلا گیا،حتی کہ ان کے نسب ، ماں، خاندان کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ان کے راکھانے پوری کوشش کی کہ یہ بھاگ جاۓ، مر جاۓ،ٹوٹ جاۓ، مگر مگر ابو علیحہ ہمارے لیے اب ایک استعارہ بن چکاہے،ہمت کا، گر کر اٹھ بیٹھنے کا، نہ یہ ملک سے بھاگا، نہ یہ پاگل ہوا، نہ ناکام بلکہ اس نے اپنے کام سے ستم گروں کو شکست دی۔

سوکھے ہوئے پیالوں کو ساحل پہ پٹخ کر
دریاؤں کو شرمندہ بھی کر جاتے ہیں پیاسے

ہمارا کہنا ہے کہ اس مملکت کا نام زومبی لینڈ ہونا چاہیے کہ ادھر سب زومبیز رہتے ہیں جن کا نہ مذہب ہے، نہ کوئی رسول نہ یہ کسی خدا کو مانتے ہیں۔ یہ صرف زومبیز ہیں جن کا کام اپنی رعایا کا خون پینا ہے۔ شاہ جی کو ان کے اسیری کے زمانے میں ایک بار ان کا پہرائی ان کی پسلیوں پر ٹھوکر مار کر اپنے دوسرے ساتھی کو کہتا ہے کہ دیکھ ایک سید کو ہم نے کیسے کتے کی طرح باندھ رکھا ہے۔ پڑھنے والوں سے سوال ہے کہ آپ لاکھ وہابی ہوں، سیدوں کو نہ مانتے ہوں لیکن کیا کسی ،رسول سے نسبت رکھنے والے کو کتا کہہ کر بلا سکتے ہیں؟ اسی سوال کے جواب میں ہم نے اوپر لکھا کہ ہم زومبیز کے اسیر ہیں، جن کا نہ کوئی مذہب ہے، نہ کوئی خدا اور نہ ہی رسول۔ نہ ہماری سیلف ریسپکٹ ہے اور نہ ہی کوئی عزت نفس۔ ہم صرف اس بھومی کے غلام ہیں۔۔۔۔۔اور بس

کرن جوہر کی ایک فلم ہے، “اے دل ہے مشکل” یہ کہانی ہے ایک یکطرفہ محبت کی، جس میں محبوب اپنے آتش رُخ سے کچھ نہیں مانگتا، نہ محبت ، نہ خلوص، نہ کوئی شکوہ، مگر پھر بھی وہ اس کو چاہتا ہے، یکطرفہ، ٹھیک اسی طرح یہ کتاب بھی ایک یکطرفہ عاشق کی کہانی ہے ، جس کا کہنا ہے کہ محبت توفیق ہے، مگر نصیب والوں کو ہوتی ہے۔اور ہجر کا شمار بدنصیبی میں نہیں ہوتا۔

آج کل فلموں میں آئٹم نمبر ضرور ہوتا ہے، سمجھیے کہ یہ فلم کو بارہ مسالے کی چاٹ بنانے کے لیے کہ جس کو جو جو پسند ہو وہ اس کے لیے فلم دیکھ لے۔ اُسی طرح شاہ جی کی کہانی بھی صرف اور صرف سو صفحات کی ہے مگر اس میں انہوں نے اپنی شاعری اور ایک مختصر افسانہ بھی لکھ دیا۔ جو کہ اتنی خوبصورت کتاب کے ساتھ آئٹم نمبر ہے۔ شاعری یا افسانہ بُرا نہیں،بہت اچھا ہے مگر ان کی کتاب کے موضوع کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

کتاب کی پرنٹنگ اے کلاس، ٹائٹل اتنا ڈیسنٹ اور خوبصورت ر نگ میں کہ اگر کتاب پسند نہ آئی تو آپ کے بک شیلف کے ساتھ میچ کر جاۓ گی۔ قیمت صرف تین سو روپے، جو کہ اتنی کم کہ آخر اتنی عمدہ طباعت کے ساتھ اتنی کم قیمت میں دور عمرانی میں یہ کیسے ممکن ہے؟ دور عمرانی کی جے کہ اب پاکستان میں کتابیں سبزیوں سے سستی ہو گئی ہیں۔

یہ کتاب  ان کے لیے ہے، جو دل میں درد رکھتے ہیں،جو رونا چاہتے ہیں، مگر ان کے لیے پرگز نہیں جو دل کے سخت ہوں۔

آخرمیں جناب سجاد علی شاہ کے لیے ماریو پوزو کا ایک جملہ

  • “Forgive. Forget. Life is full of misfortunes”

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *