روح کا سفر۔۔۔۔جہاں درّانی

یہ 1986 ہے اور میرا سفر متحدہ عرب امارات کے خوبصورت شہر العین کی جانب ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں میری پیدائش ہوئی اور اس وقت تک “یعنی 2016 میں بھی” مجھے وہاں بیتی یادیں ستاتی رہتی ہیں۔ والد محترم فرماتے ہیں انسان کا بچپن جس جگہ گزرتا ہے وہ اس جگہ کو کبھی نہیں بھولتا۔ میں نے اس ہی سال “1986” کا انتخاب اس لئے بھی کیا کیوں کہ وہ وقت میری زندگی کا اہم وقت تھا۔ رنج و غم کسے کہتے ہیں ہم جانتے بھی نہیں تھے۔ صبح اٹھ کر ناشتہ کر کے صرف کھیلنا ہوتا تھا اور پُر لطف زندگی کے وہ بے شمار لمحات آج تک میرے دل میں بسے ہوئے ہیں۔

میں اب العین میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہوں ۔
گھر کا دروازہ بند ہے۔ لیکن میں اندر جا رہا ہوں۔
گھر میں آنے کا یہ ہی ایک واحد راستہ ہے اب میں اپنے گھر کے صحن میں موجود ہوں میرے دائیں جانب باتھ روم ہے اور بائیں جانب دو کیاریاں اور ان کے بیچ لگا ہوا واش بیسن۔ یہ وہی کیاریاں ہیں جن میں اکثر میں اپنی کھلونے کی گاڑیوں کو گیلی مٹی میں دبا دیا کرتا تھا۔ اور کئی کئی دن کے بعد نکالا کرتا تھا۔

سامنے سے والد صاحب آتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وہ بالکل جوان ہیں۔
سامنے کی طرف بچوں کا کمرہ ہے جہاں ہم کھیلتے ہیں اور شام کو والد صاحب بڑی سی ٹیبل پر آنے والے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتے ہیں۔ اسی  کے دائیں جانب ہمارا بیڈ روم ہے۔ اور اس ہی بیڈ روم کے بالکل سامنے ایک کچا سا کچن ہے جہاں والدہ مرحومہ موجود ہیں۔

بچوں کے روم کے آگے ایک چھوٹی سیڑھی لگی ہے میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آگیا ہوں۔ یہاں میں بیٹھا کھیل رہا ہوں۔ کھیل کیا رہا ہوں بس کاپیاں ہی خراب ہو رہی ہیں آڑی ترچھی لکیروں سے۔
میں وہیں بیٹھ کر خود کو کافی دیر تک دیکھتا رہتا ہوں۔ لیکن میرا “میں” تو اپنی معصومیت میں گم ہے۔ اسے کیا خبر کے اس ہی سال سے ایک نا ختم ہونے والے واقیات کا سلسلہ شروع ہو گا جو اسکی ساری زندگی بدل دے گا۔

میں خود کو کھیلتا ہوا چھوڑ کر سیڑھیوں سے نیچے آتا ہوں اور کچن میں چلا جاتا ہوں۔
یہاں امی موجود ہیں ۔ سالن بھی گوشت کا ہے اور میری پسند کا۔

امی پلٹ کر مجھے دیکھتی ہیں ۔
میرا دل ڈوبنے لگتا ہے۔
میں کہنا چاہتا ہوں کہ ” میں جانتا تھا کہ آپ کا ساتھ ہمیشہ کے لئے چھوٹ جائے گا لیکن میں وقت سے لڑ سکتا تھا اگر آپ کچھ دن کی مہلت اور دے دیتی”۔
ایسا لگتا تھا وہ سب سُن رہی ہیں اور صرف مسکرائے جا رہی تھیں۔ اور شاید یہ کہنا چاہتی تھیں کہ ” میرے بچے جب وقت آجاتا ہے تو بس جانا ہی ہوتا ہے” ۔

بس یہ محسوس ہونا تھا کہ کسی نے جھنجوڑ کر جگا دیا۔
آنکھیں کھولیں تو میرا چھوٹا بیٹا پاس بیٹھا کہہ رہا تھا کہ ” پاپا اٹھیں افطار کا وقت ہو گیا”۔

میں سر پکڑے کافی دیر یہی افسوس کرتا رہا کہ ۔۔ کاش۔۔۔ کاش میں کچھ وقت اور وہاں گزار لیتا۔ یا خود وہیں رہ جاتا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ تھا کیا؟ کیا یہ خواب تھا، یا کوئی نظر کا دھوکا؟
نہیں ایسا کچھ نہیں۔
میں اپنی مرضی سے جہاں چاہوں جس وقت چاہوں جا سکتا ہوں۔ اب چاہے وہ زمانہ ہو یا کسی انسان کا جسم۔ میں عالمِ صغیر سے عالمِ کبیر تک کسی زمان و مکان کی قید کے بناء سفر کر سکتا ہوں۔
یہ نہ کوئی خواب ہے نہ ہی کوئی شعبدہ بازی۔ بلکہ اس کوextra sensory perceptionکہا جاتا ہے۔اور اس کے متواتر استعمال سے انسان میںpsychometryکی صلاحیت بیدار ہو جاتی ہے۔
یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جس سے کسی بھی چیز کو ہاتھ میں لیکر اس کے متعلق بتایا جا سکتا ہے کہ وہ اس سے قبل کہاں تھی اور کس حالت میں تھی۔
اس ہی طرح کسی شخص کی تصویر دیکھ کر اس کے حالات بیان کئے جا سکتے ہیں
جن اشخاص میں روحیت پیدائشی ہو وہExtra Sensory Perceptionکی صلاحیت پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لیکر اس دنیا میں آتے ہیں۔ مزید ارتکاز توجہ کی مشقیں اور مراقبات ان میں ایسی صلاحیتیں بیدار کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات دور مقام تک منتقل کر سکیں۔ تاہم اس کے لئے اس شخص کا باقاعدہ ٹرینڈ ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد اس صلاحیت کو بروئے کار لا کر ایسٹرل ٹریولنگ بھی ممکن ہے۔ جبکہ یہ ایک خطرناک خواہش ہے۔

میری تحقیق کے مطابق انسان میں دو روحیں موجود ہیں ان مٰں سے ایک کو روحِ سیلانی کہا جاتا ہے اور یہ وہی روح ہے جس سے خوابوں کا سلسلہ قائم ہے۔ مزید کچھ ذہنی مشقوں کے بعد اس روح کو اپنے مطابق کسی بھی جگہ ، کسی بھی زمانے میں داخل کیا جا سکتا ہے اور ہم جیسے روحانی لوگوں کا ماننا ہے کہ ہر گزرا ہوا وقت ایک طرح کے ریکارڈ کی صورت میں موجود ہے اور اس کو دیکھا اور جانا جا سکتا ہے۔

تاہم اس کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن جو لوگ میری طرح روحیت پسند ہیں اور روحانیت میں کچھ وقت گزارا ہے وہ ان باتوں کو تسلیم کئے بنا نہیں رہ سکتے۔

میں نے اوپر بیان کردہ واقعہ استادِ محترم ڈاکٹر معیز حسین سے بھی شیئر کیا تھا اوراستادِ محترم یہ بات پہلے سے جانتے بھی ہیں کہ میں باقاعدہ روحانیت سے منسلک ہوں اور اسطرح کے تجربات کرتا رہتا ہوں۔ ان سے التماس کی تھی کہ اس کو اپنی 2016 میں ہونے والی ورکشاپ میں لازمی بیان فرمائیں ۔ اس کے بعد یہ ہی واقعہ کچھ الفاظ کی ردو بدل کے بعد میں نے ان کی اجازت سے واٹس ایپ گروپس میں بھی شئیر کیا۔ جس کے بعد کافی لوگوں نے مدد بھی مانگی اور ان کی اصلاح کر دی گئی۔ استادِ محترم ایک شفیق اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں۔ مجھے انھوں نے کبھی کسی بات پر نہ نہیں کی حتٰی کہ میری اصل کو بھی کسی جگہ بیان نہیں کیا۔ اللہ کریم ان کو اچھی صحت کے ساتھ لمبی عمر سے نوازے۔ آمین۔

یہ واقعہ 2016 کا ہے۔ لیکن 2011 میں ایک اللہ کے ولی کے گھر چائے پی رہا تھا اچانک مجھ سے موبائل مانگا تو میں نے پیش کر دیا۔ موبائل ہاتھ میں لیکر فرمانے لگے “یار شاہ، تم کب پوری طرح تصوف میں آؤ گے رات بھر گانے سنتے ہو فلمیں دیکھتے ہو ۔ ذکر تم کرتے نہیں” میں نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کو کشف ہوا ہے؟ تو فرماتے ہیں ” کشف کو ہم کب خاطر میں لاتے ہیں یہ تو سائکو میٹری ہے جو تمھارے موبائل نے سب کچھ اگل دیا اس ہی سائنس کو بروئے کار لا کر جعلی پیر خود کو کشف والا بابا بنا کر خوب عوام کو لوٹتے ہیں”۔

بات معقول تھی اور آج تک یاد ہے۔

ایک بات یاد رکھیے۔ اکثر نامور کتب میں روحیت کو یا سائکک ازم کو “وجدان” کہا گیا ہے۔ واضح کر دوں کہ وجدان کسی ارادے اور ذہنی تحریک کے بنا عمل میں آتا ہے جب کہ روحیت کی تمام تحریکات ہمارے ارادے کا عمل ہیں۔

اب آخر میں دو سوال ایسے ہیں جو اکثر مجھ سے پوچھے جاتے ہیں
کیا یہ صلاحیتیں صرف چند خاص لوگوں کے لئے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہم حاصل کر سکتے ہیں؟

سیدھا اور آسان سا جواب یہ ہے کہ تمام صلاحتیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہم سب کو دی ہیں۔
یہ صلاحیت مجھ میں اور آپ سب میں موجود ہے۔ اور اس تالے کی چابی کا نام ہے
ارتکاز توجہ
ارتکاز توجہ کے لئے مضبوط ارادے کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد اس ارادے پر عمل کرنا ہے۔

جبکہ ایسی مشقیں بھی موجود ہیں جن کی مدد سے “چھٹی حس” کو بیدار کیا جا سکتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *