زہریلی محبت۔۔۔۔عارف خٹک

بچپن سے اماں ابا کی نوک جھونک سُنتے سُنتے کب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا،پتہ ہی نہیں چلا۔
وقت بے وقت اماں کی شکایتیں کہ جب سے اس بندے(بابا) سے میری شادی ہوئی ہے،نصیب پُھوٹ گئے ہیں۔ تیرے باپ کے پلے بندھنے سے اچھا تھا کہ خود کو کھائی میں گرا دیتی یا کنوئیں میں چھلانگ لگا دیتی۔ یا پھر کسی کےساتھ بھاگ جاتی۔ یہاں پر آکر ابا کی برداشت ختم ہوجاتی اور اُٹھ کر دو تین تھپڑ جڑ دیتا۔ساتھ میں گولی مارنے کی دھمکی بھی ہر بار دی جاتی۔تھپڑ کھانے کے بعد اماں سسکیاں لے لے کر سو جاتیں۔اور ہم بہن بھائی پوری رات یا سارا دن اس ڈر سے جاگتے رہتے  کہ اماں بھاگ نہ جائے یا پھر ابا کہیں ان کی جان نہ لے لیں۔
چالیس سالہ طویل رفاقت میں نہ ہم نے ابا کو مُطمئن دیکھا اور نہ ہی اماں کو۔ اماں کو اپنی زندگی ضائع جانے کا افسوس ہوتا۔تو ابا کا دُکھ بھی طور کم نہیں تھا۔اُن کو بھی اس بات کا قلق رہتا،کہ کاش وہ کسی تعلیم یافتہ اور شہری لڑکی سے شادی کرلیتے۔کم از کم زبان تو نہیں چلاتی اُن کےآگے۔وقت بے وقت اس کی زندگی جہنم تو نہیں بنتی۔

جب تک ہم غیر شادی شُدہ تھے۔تو ہماری پوری پوری ہمدردیاں اماں کےساتھ ہوتیں۔شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد ہمیں یہ احساس ہوگیا کہ ابا کتنے مجبور کتنے لاچار اور کتنے بےبس تھے۔ ورنہ یہاں تو بات اور خواہش گولی مارنے کی دھمکیوں سے بڑھ گئی تھی۔بیوی سمیت اس کے خاندان پر 600 کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے بھرے ٹرک کےساتھ خودکش دھماکے کے خیالات ہروقت ذہن میں گردش کرتے رہتے۔

ایک دن چُھٹیوں پر گاؤں آیا،تو دیکھا کہ اماں کُچھ بُجھی بُجھی سی بیٹھی ہوئی تھیں۔ پوچھا؟،اماں کیا ہوا؟ وہ تو جیسے بھری بیٹھی تھیں۔آگے سےپھٹ پڑیں، کہ دو دن سے بُخار میں تپ رہی ہوں۔ مگر تیرے ظالم باپ نے ایک اسپرین کی گولی تک کا نہیں پوچھا۔ یہ تو روز اول سے میری موت کی خواہش میں جی رہا ہے۔
ابا دوسری چارپائی پر بیٹھے اخبار کا مطالعہ کررہے تھے۔ میں نے شکایتی نظروں سے اُنھیں  دیکھا۔تو ابا نے مُنہ پھیرتے ہوئے جواب دیا کہ لے جاؤ اسے گاؤں کے واحد میٹرک فیل ڈاکٹر کے پاس۔جب تک وہ اسے ہاتھ نہ لگائے،تب تک تیری ماں نے ٹھیک ہونے کا نام نہیں لینا۔۔۔۔

اب اماں کی جوابی گولہ باری میری برداشت سے باہر ہوگئی۔ اماں نے ابا کے خاندان کے وہ گڑے مردے قبروں سے نکالے کہ میں اپنی نظروں میں شرمندہ ہوگیا کہ میری بدقسمتی کہ اتنے بے غیرت خاندان میں آنکھ کھولی۔

ایک دن بیوی کےساتھ مارکُٹائی ہوئی تو بیوی نے شکایت کےلئے اماں کو فون لگایا۔ اماں نے آگے سے وہ بے نُقط سنائیں کہ الامان۔
کہنے لگیں،کہ اپنے باپ کا خون ہے۔ دوسروں کی بیٹیوں کو مارےگا نہیں تو اور کیا کرےگا؟اس بے غیرت سے میں اور کوئی توقع کر بھی نہیں سکتی۔ بیوی تو یہ سب سُن کر پُرسکون ہوگئی۔مگر میرا سکون برباد ہوگیا۔ کہ ساری زندگی بیوی کے سامنے اب سرجُھکائےسُنتا رہوں گا۔ شام کو ابا کا فون آیا۔ ڈرتے ڈرتے اُٹھایا کہ اب وہ کیا کہیں گے؟۔۔۔۔۔۔ سلام کے بعد ابا گویا ہوئے کہ مرد کے بچے ہو۔ بیوی دوست نہیں بن سکتی،لہٰذا دبا کےرکھو۔ اپنی ماں کا رویہ دیکھ کر میری حالت سےعبرت پکڑو۔اب تک بُھگت رہا ہوں۔ کاش جوانی ہوتی تو تیری ماں کو گُونگا کردیتا۔ اور دوسری شادی کرلیتا۔ تم جوان ہو لہٰذا میری طرح افسوس کرنے سے بہتر ہے کہ دوسری لاکر بیوی کے سر پر بٹھادو۔ تاکہ اسے لگ پتہ جائے۔اُس لمحے مُجھے اپنا اور ابا کا دُکھ اور نصیب ایک جیسا محسوس ہوا۔دونوں نے جانے کون سے گُناہوں کی سزا بیویوں کی صُورت میں پائی تھی۔
جو بیویاں کم اور چوبیس گھنٹے کا ٹارچر سیل زیادہ تھیں۔

گاؤں میں موجود بہن بھائیوں کی زندگی اور بھی اجیرن تھی۔ صبح شام اماں ابا کی لڑائی ہوتی۔تو بچے ایک طرف ماں کو ابا کا ظُلم سہنے پر حوصلہ دیتے رہتے۔تو کُچھ دیر بعد دوسرے کمرے میں باپ کی ہمت بندھا رہے ہوتے،کہ غلطی ساری اماں کی ہے۔

مہینہ قبل اماں کا دانت گاؤں کے واحد میٹرک فیل ڈاکٹر کے ہاتھوں نکلوا لیا گیا۔ اماں کی  شوگر چارسو سے اُوپر چلی  گئی تھی ۔ لہٰذا دانت کا انفیکشن مسوڑھوں تک پھیل گیاتھا۔ گاؤں میں مشہور ہوگیا کہ اماں کو منہ کا کینسر ہوا ہے۔ یہ خبر مُجھ پر بجلی بن کر گری ۔ جہاز کی سیٹ مل نہیں رہی تھی۔سو راتوں رات گاڑی بھگا کر پشاور پُہنچ گیا اور شہر کے مایہ ناز ڈاکٹروں کا پینل ہائر کیا۔ اگلے دن اماں کی سرجری تھی۔ اماں تکلیف سے تڑپ رہی تھیں۔ سرجری کےلئے اماں کو جب سٹریچر پر ڈال کر اندر لےجایا جارہا تھا۔تو ہسپتال کے برآمدے میں لگی بینچ پر میں نے ابا کی سسکیاں سُنیں۔ دیکھا تو ابا رو رہے تھے۔میں آگے بڑھا اور اُن کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ابا میرے گلے لگ کر بچوں کی طرح پُھوٹ پُھوٹ کر رو دئیے۔اور میں خود بھی اپنے آنسو ضبط کرتا ہوا اُن کو تسلیاں دیتا رہا۔خیر آپریشن کامیاب رہا۔اور اماں صحت یاب ہوکر ہسپتال سے گھر آگئیں۔ روٹین کی زندگی گزرنے لگی۔ مگر مُجھے ابا کی سسکیاں اور آنسو پریشان کئے جا رہےتھے۔ کہ ابا اماں کے لئے بھی رو سکتے ہیں؟

کچھ دن پہلے چھوٹے بھائی کا فون آیا۔ جو اماں کا سب سے لاڈلہ تھا کہ اماں نے اس سے بات چیت بند کی ہوئی ہے۔ لہٰذا میں سفارش کرکے اماں کو راضی کرلوں۔  جب گاؤں  گیا،اماں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ سلام کرکے چارپائی کے ایک کونے پر ادب سے بیٹھ گیا۔ اور بولا،کہ اماں چھوٹے کا فون آیا تھا۔آپ کس بات پر اُس سے ناراض ہیں؟معاف کردیں اُسے،وہ بارڈر پر ہے۔ اماں غصے سے اُٹھ گئیں۔اور کہا کہ وہ تو اپنا دودھ بھی اس کو نہ بخشیں،اتنا دل دُکھایا ہے اُس نے۔ میں ہل کر رہ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ گھر میں ابا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی۔تو اماں نے چھوٹے کا اے ٹی ایم کارڈ ابا کو دیا کہ اکاونٹ سے پیسے نکال کر خرچ کرلینا۔ اگلے دن چھوٹے کا فون آیا کہ ابا کو میرے پیسے نظر آگئے تھے۔ میرے اپنے بچے ہیں میں فوج میں خطرات کا سامنا اس لئے کرتا ہوں کہ بچوں کےلئے کچھ بچاسکوں۔ ابا کو احساس ہی نہیں ہے۔

اماں بتا رہی تھیں اور روئے جارہی تھیں کہ ابھی تو میں زندہ ہوں اور یہ لوگ میرے شوہر کی توہین کررہے ہیں۔ کتنی مشکلوں سے میرے شوہر نے ان کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اگر میں اُس کےساتھ لڑتی جھگڑتی ہوں تو وہ ہم دونوں کا آپس کا معاملہ ہے۔مگر کسی کو یہ حق نہیں دوں گی کہ وہ میرے جیتے جی میرے سُہاگ کی توہین کرے۔

میں خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اور فون نکال کر بیوی کو کال ملائی۔ آگے سے پُھنکارتی ہوئی آواز میں وہ چیخی کہ یہ معلوم کرنے کےلئے فون کیا ہے ناں؟کہ میں زندہ ہوں،یامر گئی ہوں۔
میں نے کہا کہ کیا واقعی تم میرے بغیر زندہ رہ سکتی ہو؟۔

دوسری طرف فون پر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *