• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • شام، امن سے جنگ تک/ دنیا کے کلاسیکل حسن والے شہر دمشق کا سفر/سلمٰی اعوان۔۔قسط2

شام، امن سے جنگ تک/ دنیا کے کلاسیکل حسن والے شہر دمشق کا سفر/سلمٰی اعوان۔۔قسط2

زینبیہ زائرین کی جائے عقیدت!

صبح کا ناشتہ نسرین نے بنایا۔ وہ اپنے موٹاپے کے باوجود اچھی خاصی چُست اور متحرک خاتون تھی۔ میر ی عمر کی ہوگی یا مجھ سے دو تین سال چھوٹی۔ میں نے لنگر والے کچن میں جا کر دیکھا۔پراٹھے بن رہے تھے۔ گھی کی جس انداز میں چپڑ چپڑائی ہو رہی تھی وہ ہمارے لئے قطعی سود مند نہ تھی۔ طبیعت کو لالچ پر مائل کرنے کی بجائے اُسے قناعت کا درس دیتی واپس آئی تو نسرین نے ناشتہ چھوٹی سی تپائی پر رکھ دیاتھا۔ شکر کیا تھا۔ چائے مزے کی تھی۔ پنیر اور جام لگے سلائسوں نے لطف دیا۔
نہانا دھونا صبح سویرے ہوگیا تھا کہ نماز پڑھنی تھی اور روضۂ مبارک پر حاضری کا پروگرام تھا۔ گروپ کی کوئی خاص پابندی نہ تھی۔ جس کا جی جیسے چاہتااپنی مرضی کا مالک تھا۔ میرا حاضری کے بعد شہر کے لئے نکلنے کا ارادہ تھا۔ البتہ اس وقت میں نے گروپ کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی۔ ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔
روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل ایک خاصے بارونق بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔سویرے سویرے ہی خرید و فروخت کے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔
اور جب دھیر ے دھیرے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے سفر جاری تھا ایک آواز کانوں میں گونجی تھی۔
’’خدا کی راہوں میں شہادت پانے والے لوگ کبھی فنا نہیں ہوتے۔‘‘
حضرت زینب۔ عفت وعصمت کی تصویر۔ صبر ورضا کا پیکر۔ خاتون جنت کی لختِ جگر، علی المرتضیٰ کی آنکھوں کا نور۔ زینب نام آقائے دوجہاں کا عطا کردہ تھا۔ بچپن بڑا محرومیوں والا تھا کہ پہلے نانا بعد میں ماں جیسی ہستی نے جدائی کا غم دے دیا۔ شادی عبد اللہ بن جعفر سے ہوئی جو عم زاد تھا۔کربلا میں مردانہ وار کردار ادا کیا۔ بھائیوں کے ساتھ بیٹوں کی شہادت کو صبر واستقامت سے برداشت کیا۔


جب یزید کے دربار میں لائی گئیں تو غم کا کوہ گراں دل پر اٹھائے عزم وحوصلے کی تصویر نظر آئی تھیں۔ خطاب ایسا کہ آ ہنی حوصلہ رکھنے والا بھی کانپ اُٹھے۔ مگر سوال ہے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اُن کی زندگیوں سے کوئی سبق نہیں لیتے؟ وہ جگہیں جن کی ایک ایک اینٹ بھی باعث صد احترام ۔ انہی پرفرقہ واریت کے جھگڑے، انہی پر گولہ بارود کی بارش۔
مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی تنظیمی دفاتر نظرآتے ہیں۔دیواریں مذہبی اور سیاسی شخصیات کی تصویروں سے سجی تھیں۔ جناب حسن نصراللہ میرے سامنے تھے۔ بے اختیار قدم رک گئے تھے۔ آخر کیوں نہ رُکتے؟ لبنان کی حزب اللہ تحریک کے بانی، اِس تنظیم کے روح ِ رواں ایک باعمل اور صاحب کردار مسلمان جنہیں تعظیم دینا، جنہیں سراہنا، جن کے لئے عقیدت بھرے دو لفظ بولنے بے حد ضروری تھے۔
میرے دل سے تو عقیدتوں اور محبتوں کے سوتے اُبل پڑے تھے۔ 16جولائی2006ء کا دن اپنی وحشت ناک خبر کے ساتھ یاد آیا تھا۔ میں نے ٹی وی پر اِ س خبر کو اپنے دل پر کسی زور دار گھونسے کی مانند محسوس کیا تھا۔ اُس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ یہ مکّار بڑی طاقتیں اور لاغر، نحیف ، خود غرضیوں کے حصار میں گھری مسلم اُمّہ بھی قرونِ اولیٰ کے مجاہدانہ کردار کی ایک جھلک لبنان کی اس حزب اللہ کی صورت میں عنقریب دیکھنے والی ہے۔
16جولائی کو اسرائیل نے حزب اللہ کے ہاتھوں اپنے دو فوجیوں کے اغوا ہونے کی آڑ لیتے ہوئے لبنان پر حملہ کر دیا تھا۔ طاقتور دنیاکی بھی کیسی ڈھٹائی تھی کہ اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً نو ہزارفلسطینی اور لبنانی قید تھے ۔ ان کی کوئی شنوائی نہ تھی۔ یہ حملہ اسرائیل نے امریکہ کی ہلاّ شیر ی سے حزب اللہ اور ایران کو سبق سکھانے کے لئے کیا تھا۔
اسرائیل کا اعلان تھا۔ لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ حزب اللہ اور اس کی قیادت کو کچل دیا جائے گا۔ دونوں ملکوں میں جنگ کوئی 34 دن جاری رہی۔ لبنانی عوام ،اُ ن کے لسانی اور مذہبی گروپ ، مسلم غیر مسلم سب حزب اللہ کی پشت پر کھڑے ہوگئے تھے۔
جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دنیا کی بہترین فوج کے مقابلے پر صر ف ڈھائی ہزار مجاہدین تھے جنہوں نے زیر زمین سرنگوں اور ٹھکانوں سے اسرائیل کے اندر جا کر اُسے بتایا کہ حزب اللہ لوہے کے چنے ہیں۔ اسرائیل کے دانت بری طرح ٹوٹ جائیں گے۔
بھاری جانی ومالی نقصان نے اسرائیلی عوام کو حکومت کے مقابلے پر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ جنگ بندی پر مجبور ہوگیا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود المرت نے اپنی کنیسٹKnesset سے خطاب کرتے ہوئے قوم سے اِس جنگ میں شکست پر معافی مانگی تھی۔ اعتراف کیا تھا کہ انہیں اپنے اِس فعل پر افسوس ہے۔


اُن کا وہ کردار بھی قابل تقلید ہے جب وہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کو دیکھنے جاتے ہیں۔ اِن شہیدوں میں اُن کا بیٹا بھی ہے۔ مارگیو میں قطار در قطار سفید کفنوں میں لپٹے شہیدوں میں ہر ایک کے پاس پل بھر کے لئے رکتے، اُسے دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ اپنے لخت جگر کے لئے بھی ان کے پاس بس ایک لمحہ ہی تھا۔ گھڑی بھر کا ٹھہرنا اور ایک نگاہ۔ایک سچے اور سُچے مسلمان کا کردار۔
جنگ بندی کے بعد کا بھی بڑا مثالی کردار تھا۔ گھر گھر جا کر متاثرہ لوگوں میں امدادی رقوم کی تقسیم۔ مکانوں کی مرمت اور تعمیر نو ۔خاندانوں کو گزارہ الاؤنس۔ مغرب کا میڈیا بھی تعریف کر نے پر مجبور ہوا۔
اوراُس چمکتی صبح میں حسن نصر اللہ کی تصویر کے سامنے کھڑی نم آنکھوں سے اُنہیں خراج پیش کرتے ہوئے کہتی تھی۔
’’ہمیں آپ پر فخر ہے ۔ آپ کی قیادت پر ناز ہے۔‘‘
جی بھر کر خراج تحسین پیش کرنے کے بعد آگے بڑھی تھی۔
ایک دنیا امنڈی پڑی تھی۔ کشادہ صحن سے آگے داخلی دروازے کا پچی کاری کے کام سے مزین بے حد دیدہ زیب کام جس میں نیلا رنگ نمایاں اور بہت کھلتا ہوا نظروں سے کھُبا جاتا تھا۔ بلند وبالا مینار کی بھی اپنی شان تھی۔ اتنا خوبصورت کام کہ جسے سراہے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ روضہ مبارک بھی دلآویزی کی اپنی مثال ہے۔

روضہ بی بی زینب رض

شنید ہے کہ اس کا بیشتر کام حکومت ایران کا مرہون منت ہے۔ اندر نقرئی اور طلائی کاموں کی جھلکیاں تھیں۔ کھڑکیوں پر آرائشی کا م نے انہیں بے حد جاذب نظر بنا دیا تھا۔ قیمتی شینڈ لیئر ز حُسن کو اور بڑھاوا دے رہے تھے۔ عورتوں اور مردوں کے لئے الگ الگ انتظامات تھے۔ ضریح زمین سے کافی بلند ہے۔ جالی سے لٹکتے منتوں کے تالے اور رنگین دھجیاں انسانی خواہشوں اور تمناؤں کی کہانیاں سناتی تھیں۔ یہاں وہاں جالیوں سے لگی صورتیں آنسوؤں سے لبریز آنکھیں ، فضاؤں میں گونجتے نوحے سبھی مضطرب کرتے تھے۔
آج لکھتے ہوئے وہ سارے منظر جو بہرحال2008ء میں امن اور عافیت کے حصار میں لپٹے ہوئے تھے ۔ چار پانچ سال بعداس وقت خون خون ہیں کہ ابھی چند لمحے پہلے ٹی وی پر وہ لاشیں، وہ زخمی، وہ آگ اور خون کی ہولی دیکھی ہے۔
اس پر کرلاتی، بین کرتی کمرے میں آکر بیٹھی ہوں۔ میر ی سماعتوں میں نیوز ریڈر کی آواز  پھر گونجی ہے۔
حضرت زینب کے مزار کے باہر بم دھماکے۔ ساٹھ 60افراد شہید۔ متعدد زخمی۔ روضے والی گلی کلّی طور پر تباہ۔ آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے میں خود سے بڑ بڑائی تھی۔
’’میرے معبود ! تیرے محبوب کی امت پر کیسا وقت آن پڑا ہے؟ مسلمان ہونا رسوائے زمانہ ہو گیا ہے۔ کلمہ گو کلمہ گو کے ہاتھوں قتل ہو رہاہے۔ اسلا م کے نام لیوا ملکوں کے سربراہ اقتدار کو بچانے کے لئے اغیار کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
دیر تک اِس حزن ویاس میں ڈوبی رہنے کے بعد باہر نکلی ہوں۔2008 کی اُس روشن سی صبح دوبارہ وہاں حاضر ہوتی ہوں۔ نفل پڑھتی ہوں۔پھر ڈھیر ساری دعائیں مانگنے کے بعد کھڑی ہوئی اب گرد وپیش کا جائزہ شروع ہوا۔کیا جھلملاہٹوں کا حُسن تھا۔ اندرونی دیواریں آسٹریا کے شیشوں اور اٹلی کے ماربل سے چمکتی تھیں۔بڑے ہال میں چوبی تعویز کی کندہ کاری بے مثال تھی۔
باہر نکلی تو صحن میں سوز خوانی کی محفل نے رنگ بکھیرا ہوا تھا۔سرگودھوی لہجے میں محسن نقوی کا مشہور زمانہ مرثیہ کلام۔واہ واہ کہوں کہ آہ آہ کہوں۔ کیا بات تھی۔آوازوں کا سوز وگداز میں ڈوبا بلند آہنگ پر یوں جیسی صورت والی ایرانی خواتین کے ایک جمگٹھے نے اِن عورتوں کے گرد گویا حصار ساباندھا ہوا تھاسمجھ نہ آنے کے باوجود وہ جوش و جذبے کی پوری لگن سے اس محفل میں شریک تھیں۔
کیا شاعر تھا محسن نقوی بھی۔ محبت کا سفیر۔
اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے مسجدوں کا پتہ چلا۔روضہ مبارک کے دائیں بائیں دو مسجدیں۔ایک شیعہ اور دوسری سُنی۔


’’ اے اللہ ہمیں تو یہ عقیدوں اور مسلکوں کے فتنے اور چکر لے بیٹھے۔ کوئی پوچھے کہ بھلا ایک ہی جگہ میں اپنے اپنے طریق سے نمازپڑھنے میں کیا قباحت ہے یا کوئی ممانعت ہے؟ کیوں اتنے پراگوں میں اِس جنڈری کوڈال رکھا ہے؟
تودونوں مسجدوں میں دودو نفل پڑھ آتی ہوں۔دیدار بھی ہوجائیگا۔یہیں دو پاکستانی لڑکوں سے ملنا ہوا۔دونوں طالب علم تھے۔ایک امام خمینی یونیورسٹی اور دوسرا زینبیہ یونیورسٹی میں فقہ جعفریہ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔دونوں یونیورسٹیاں یہیں زینبیہ میں ہی ہیں۔
شہر کے سیر سپاٹے کیلئے ٹیکسی میں بیٹھنے سے قبل میں گھر فون کرنے کا سوچتے ہوئے قریبی ہوٹل کی ایک دوکان میں داخل ہوئی۔
سامنے بشار الااسد کی قد آدم تصویر کے ساتھ ایران کے ڈاکٹر احمد نژادی کھڑے تھے۔میں جب دونوں سربراہوں کو شانہ بشانہ کھڑے بغور دیکھنے میں محو تھی۔دکان کا نوجوان لڑکا مسکرایا تھا۔
کس اداسے میری طرف دیکھا تھا۔اُس نے اپنے ہاتھوں سے چہرے سے آنکھوں کے اشاروں سے گویا مجھے سگنل دیا تھاکہ ان کے صدر کا ایران کے صدر سے بھلا کیا مقابلہ ؟
دیکھو تو ذرا اُس کی چمکتی آنکھیں بشار الا اسد پر جم گئیں۔کتنا خوبصورت، کتنا اونچا لمبا۔احمد نژادی کی ذرا چھوٹی قامت کو اُس نے جس انداز میں تمثیلی صورت دی۔مجھے تو ہنسی روکنی مشکل ہوگئی۔
واقعی بشار وجیہہ تو تھانا۔ اس میں مبالغے والی کوئی بات ہی نہ تھی۔
تاہم یہ سوچ بھی در آئی تھی کہ اِس نو عمر لڑکے کو احمد نژادی کی شخصی خوبیوں کا ادراک نہیں۔ دوریش صفت نژادی جو اپنے لوگوں کے لئے گٹر میں بھی اُتر جاتا ہے۔
بہر حال کیا زندہ دل لڑکا تھا۔
مگر اب بیچ میں اِس آٹھ سالہ ظالم وقت کا کیا کروں؟ میرے ذہنی وقت کی ٹنل میں ٹھہرا ہوا وہ لمحہ جب اُس کی خوبصورت تصویر اُس کی دراز قامتی کی عکاس میری آنکھوں سے نکل کر دکان میں بکھری تھی۔
سچی بات ہے آج 2014ء میں لکھتے ہوئے نفرت اور غصے کی آگ میں اپنی وہ ساری رعنائی بھسم کر بیٹھی ہے کہ ابھی دو دن پہلے میں نے جو تصویریں دیکھی ہیں۔ انہوں نے مجھے کیا کچھ نہیں یاد دلایا۔ میرے تصور کی آنکھ نے اُن گول مٹول سرخ وسفید بچوں کو دیکھا۔ حسین چہروں والی طرحدار دوشیزائیں مجھے یا د آئی تھیں۔ وجیہہ مرد میرے خیالوں میں دوڑے چلے آئے تھے۔
شام کے سراقب قصبے کے رہنے والے شہریوں نے کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ انسانیت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ معصوم بچے اور عورتیں یوں لگتا تھا جیسے شادی کی کسی پر مسرت سی تقریب کے بعد تھک کر سوئے ہوں۔ بے ترتیب سے ،ایک دوسر ے میں اُلجھے ہوئے، زندگی کی دوڑیوں سے کٹے ہوئے۔

Shrine of Hazrat Bibi Zainab (s.a.) in Dimashq Syria.

اللہ تیس ہزار آبادی والے قصبے پر مائع کلورین کے کنستر گرائے گئے۔ یہ ہیومن رائٹس کی قراردایں، یہ باراک اوباما کے بیان۔ روس اور امریکہ کے مابین سمجھوتے ۔ جہاں مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو وہاں ایسے ہی سمجھوتے ہیں ۔ کہاں کی انسانیت؟ کہاں کے اصول اورضابطے؟ بس بشار کو تھوڑی سی ڈانٹ ڈپٹ کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہونی چاہیے۔ یاد رکھو کیمیائی ہتھیار وہ سرخ لکیر ہے جس کا استعمال عالمی برادری برداشت نہیں کرے گی۔
اوباما کہتا ہے۔
واہ کیا کہنے اِس عالمی برادری کے۔
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
چلو چھوڑتی ہوں اپنے یہ رنڈی رونے ۔ واپس لوٹتی ہوں2008 کی اُس صبح کو اور خود کوموجود پاتی ہوں اُس دکان میں۔
ایک منٹ کی کال ایک ڈالر۔ چلو شکر جلد ہی رابطہ ہوگیا۔ میں خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت مطلوب ہے جیسا پیغام دیا اور سنا۔

جاری ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *