ایک ہاتھ کی دوری پر/ڈاکٹر مریم زہرہ

اتوار کی صبح، جب وہ اپنے جڑواں بھائی کو سوتے ہوئے چھوڑ کر باورچی خانے کی جانب بڑھا، تب اس کی ماں ناشتے کے لیے آٹا گوندھ رہی تھی۔

گاؤں کے ہر بچے کی طرح وہ دونوں بھی اس دن کا شدت سے انتظار کرتے تھے ۔ اس روز وہ اسکول کے وقت پر ہی جاگ گیا تاکہ دیر نہ ہو جائے اور محلے میں کھیلنے والے بچے اس کے حصے کی خوشیاں چھین کر نہ لے جائیں، گلی کا شور و غل باورچی خانے کی کھڑکیوں سے سنائی دے رہا تھا، وہ مزید انتظار نہ کر پایا، ماں سے آنکھ چرا کر بھاگنے کی کوشش میں، دروازے کی آہٹ پر اس کی ماں لپکی اور چلائی “بیٹا تمھارا پراٹھا توے پر ہے، کچھ کھا لو، پھر دونوں بھائی ساتھ چلے جانا” مگر صدا مکمل ہونے تک وہ ایک گلی پار کر چکا تھا!

قریب کے ایک کھیت میں، جہاں بچوں کا ہجوم پتنگوں کے لئے تماش بینی کا کام سرانجام دے رہا تھا، مقابلہ کرنے والے اپنے اپنے گھروں کی چھتوں سے پتنگیں اڑا اور لڑا رہے تھے، وہ بھی چند ساعتوں بعد اسی بھیڑ کا حصہ بن چکا تھا، اُسی بے صبری کے ساتھ جو اس لمحے کے لئے ضروری تھی، کہ کب پتنگ کٹے اور اس کے ہاتھ لگ جائے!
بچے آپس میں اٹکلیں لگانے لگے
“یار یہ لال اور پیلی پتنگ کٹ جائے نا”
“اوئے نہیں! یہ اس کے ابو شہر سے لائے ہیں اس گڈے کا دھاگا دیکھا ہے؟ ہاتھ کاٹ دے پر پتنگ نہ کٹے!”
“ہاں یہ بہت مہنگی لگتی ہے۔ نیلی پتنگ ہی کٹے گی لکھ لو میری بات”
پیچا لڑاتے ہوئے کوئی پتنگ جس طرف کو جھکتی تھی بچے اسی جانب دوڑ لگا دیتے، دو رنگوں والی قیمتی پتنگ کا دھاگہ واقعی مضبوط تھا مگر نیلی پتنگ کو اڑانے والا لڑکا تجربہ کار! تجسس بڑھتا جا رہا تھا کہ نہ پتنگ کی اٹھان کمزور پڑ رہی تھی اور نہ ہی وہ لڑکا ہار مان رہا تھا۔ قریب ہر گلی سے کھیتوں تلک بچوں کی ہاؤ ہو، خوش اور منتظر نگاہیں، پھیلے ہاتھ اور لپکتی بانہیں!

محسوس کیا جائے تو مائیں آج کے دن معمول سے کہیں زیادہ مصروف ہیں۔ کسی گھر سے مشین کی آواز آ رہی ہے تو کہیں نالی سے دھلتے کپڑوں کا جھاگ بھرا صابن کا پانی بہہ رہا ہے، کہیں سے ناشتے کی ہر جانب پھیلتی خوشبو اور کسی کھڑکی سے پریشر ککر کی سیٹی تسلسل سے اس شغل غوغاں میں پیش پیش ہے، بچے ان تمام آوازوں سے بے خبر صرف آنکھیں ہی نہیں، اپنی ہر حس پتنگوں پر مرکوز کئے کھڑے ہیں، اس دوران اگر سارا آسمان قوس قزح میں بدل جائے تب بھی کسی بچے کی آنکھ پتنگ کے تعاقب کو چھوڑنے سے عاجز ہوگی!

مقابلہ جتنا سخت ہوتا گیا اس کا جنون بھی بڑھتا گیا۔ لال پیلی پتنگ کی تعریفوں نے اس کی خوشیوں کا محور وہی رنگین پتنگ بنا دی، ایک لمحے کو اس نے بھیڑ میں اپنے جڑواں بھائی کو تلاش کرنے کی کوشش کی تا کہ اسے سمجھا سکے: “پتنگ جس سمت کو ڈولے، اسی جانب میرے پیچھے بھاگ پڑنا” مگر بھیڑ اسے اس کا بھائی دکھانے سے قاصر تھی! اس کا دل چاہا کہ گھر سے جا کر اسے بلا لائے، لیکن اگر ماں نے مجھے زبردستی روک لیا تو؟ شاید بھائی اب تک سویا ہوا ہو اور اس دوران پتنگ کٹ گئی تو پھر؟
خود سے کئے گئے سوالات اور جوابات کے بعد اس نے گھر جانے کا ارادہ ایسے ہی چھوڑ دیا جیسے کچھ دیر مزید کھیل جاری رہنے کے بعد لال پیلی پتنگ کا ساتھ جیت نے چھوڑ دیا، بچے ایک دوسرے کو روندتے، پھلانگتے اور کچلتے ہوئے دوڑے، کسی کی چپل کھڑی فصل میں روپوش ہوگئی تو کوئی گلیوں میں ٹھوکر کھا کر رونے لگا، بھاگنے والے خوشی سے چلانے لگے، جیتنے والوں کے قہقہے الگ، اس سب میں بس ایک ہی چیز سب کو دکھائی دے رہی تھی “کٹی پتنگ” جو کچھ دیر ہوا میں لہرانے کے بعد گرتے ہوئے ایک درخت کی شاخ پر اٹک گئی تھی۔ وہ خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگا کیونکہ اس درخت کے سب سے قریب وہی تھا۔ پیڑ اپنی ساخت و نشو نما کے اعتبار سے ہرگز مشکل ہدف نہیں تھا، اس سے پہلے کوئی اور پہنچے وہ درخت کی سمت لپکا!

یہ رنگین کاغذ اس وقت اس کی زندگی کا سب سے سود مند مہرہ تھا جو چند لمحوں بعد جیت کا اعلان بنتا، یہی کاغذی پتنگ اگلے کئی روز پورے گاؤں میں اسے ملنے والی داد کا سبب تھی، وہ جانتا تھا کہ ہر بچہ نئی نویلی دلہن کی طرح یہ دیکھنے اس کے دروازے پر ضرور آئے گا، گھر چھوٹ چکا اس کا بھائی بھی کس قدر حیران ہوگا کہ اس کی بیداری سے قبل وہ کوہ نور کا ہیرا پا چکا ہے۔

درخت تک پہنچتے ہوئے اسکی نظریں بس پتنگ پر مرکوز رہیں، ٹائم کا زیرو بم حرکت میں آیا اور اس کے اطراف کے سارے منظر ہوا ہوگئے، بس دو چمکتی آنکھیں اور دھنک سے چرائے گئے پتنگ میں جَڑے وہ دو رنگ، وہ درخت کی اس ٹہنی تک پہنچ چکا تھا جس کے کونے میں پتنگ اٹکی تھی، اس نے بے صبری سے ہاتھ بڑھا کر چھونے کی کوشش کی مگر پتنگ انگلیوں کی گرفت میں نہیں آ سکی، مزید آگے بڑھ کر وہ یہ خزانہ پا ہی لینے والا تھا کہ منظر بدل گیا!

Advertisements
julia rana solicitors london

آنکھوں کے سبھی رنگ دھندلانے لگے، بولنا چاہا تو آواز انکاری ہوگئی، ہاتھ ہلانے کی کوشش تکلیف کے آگے مات کھاتی گئی، اس کی چمکتی آنکھوں کے سامنے مکمل اندھیرا چھا گیا کہ زنبور اس کے چہرے اور جسم کو مکمل ڈھانپ چکے تھے، زندگی کا وہ لمحہ جسے وہ سب سے زیادہ جیا تھا ایک ہاتھ کی دوری پر دغا دے گیا، کچھ منٹوں پہلے ایک پتنگ ہواؤں میں ڈولی تھی اور اب وہ درخت سے گرتے ہوئے وہی منظر اپنے وجود سے پیش کررہا تھا، پتنگ کا پھٹا ہوا، کاغذ کا ایک ٹکڑا اس کی ہتھیلی میں بند تھا مگر وہ اس کوہ نور کو دیکھنے کے لیے اپنی نگاہوں کا نور کھو چکا تھا، آخری چند لمحات میں، جب اس کے ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑی، اس نے بھینچی ہوئی مٹھی کھول دی، شاید وہ جان چکا تھا کہ یہ رنگینی اس کی خوشیوں کا محور نہیں، موت کا سامان تھی!
بستی، گلیوں، کھیتوں اور گھروں کا سارا شور یک دم تھم گیا اور پوری کائنات کی سماعتوں نے بس ایک آخری آواز سنی “میرا بچہ”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply