ہومیوپیتھی طریقہ علاج۔۔۔۔۔ ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ (الشعراء:80)۔اورجب میں بیمار ہوں وہی مجھے شفادیتاہے۔
“حضور نبی کریم رحمت عالم ﷺ کی حیات مطہرہ کے دوران ہی لوگ حضور کی ہدایات اورارشادت کو قلم بند کرکے محفوظ کرنے کی کوشش کرلیاکرتے تھے۔ ان کے بعد ارشادات گرامی کی تدوین ضروری ہوگئی تاکہ رشد وہدایت کا یہ سلسلہ اگلی نسلوں کے لئے موجود رہے۔ جب یہ ارشادات کتابی صورت میں مرتب ہوئے تو دیکھا گیا کہ ان میں تندرستی کو قائم رکھنے۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیداکرنے۔بیماریوں سے بچاؤ اوران کے علاج کے بارے میں مکمل بیان موجود ہے۔ “( طب نبوی کی اہمیت اورضرورت ،جسٹس پیرسید محمد کرم شاہ الازہری بحوالہ طب نبوی ﷺ،ڈاکٹرخالد غزنوی)
اسلامی طرز زندگی اگرچہ اس محاورہ کے مصداق ہے۔ الحمیۃ رأس کل دواء۔ پرہیز تمام دواؤں کی سردار ہے۔ انگریزی میں جسے (Prevention is better than cure.)سے تعبیرکیاجاتاہے۔ لیکن اگربوجوہ کوئی بیماری انسان پر نازل ہوہی جائے تو ایسی صورت میں احادیث مبارکہ کا ایک بہت بڑاذخیرہ اس امر کی جانب رہنمائی کرتاہے کہ حضور اکرم ﷺ نے علاج کا حکم دیا۔لہذا علاج کے لئے اقدامات کرنا سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔ اس امر کی روشنی میں جب ہم ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ کی جانب دیکھتے ہیں تو آپ کو اس سعادت سے بھی بہرہ مند پاتے ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ روحانی معالج ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی معالج بھی تھے۔آپ نے لوگوں کی ذہنی وروحانی نشوونما کے ساتھ ساتھ جسمانی علاج کا بھی اہتمام فرمایا۔جیسا کہ فیڈریشن کے تحت شہر کے مختلف مقامات پرقائم دارالصحت(ہومیوپیتھک مراکز ) اس بات کا بیّن ثبوت ہیں جہاں مریضوں کا مفت علاج کیاجاتاہے ۔
دنیائے علاج میں یوں تو مختلف قسم کے طریقۂ علاج مروج ہیں جن میں ایلوپیتھک ، حکمت، ہومیوپیتھک ، آیورویدک، آکو پنکچر، وغیرہ وغیرہ ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹرانصاری علیہ الرحمہ نے ان تمام طریقہ ہائے علاج میں سے ہومیوپیتھک کوپسند کیا۔آپ خود بھی ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے اور آپ کے صاحبزادے بھی ہومیوپیتھ ہیں ۔ آخر اس طریقۂ علاج میں ایسی کون سی خصوصیت وافادیت ہے جوآپؒ جیسی عظیم ہستیوں نے اس کا انتخاب کیا؟
کون بیمار محبت ہے سربزم جہاں
جوطلب گار نہیں تیری مسیحائی کا
ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ سب سے سستا علاج معالجہ ہے۔ لیکن حضرت انصاری صاحب علیہ الرحمہ کو اس کے پسند کرنے کی صرف یہ ایک وجہ نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو ہومیوپیتھی بیک وقت ایک علم اورفن ہے جس میں سمندرکی گہرائی،وسعت،سکون اور اعتدال پایاجاتاہے۔ اس میں قدرت کی تمام نعمتوں سے صحت کے سربستہ راز آشکار کئے جاتے ہیں یعنی عام نباتاتی اشیاء سے لےکر زہروں تک سے تریاق تیار کیے جاتے ہیں۔ یہی تریاق مریض کو امراض کہن وشدیدہ کے شکنجے سے نجات دیتے ہیں۔یہ درحقیقت ایک داخلی، روحانی اورذہنی شفاء کا وسیلہ ہے جس میں بیماری کی وجوہات تلاش کی جاتی ہیں۔ نیزاس میں فطری طریقے سے بیماری کی فطرت ماہیت اوراسباب کا مطالعہ کیاجاتاہے جنہیں علامات سے موسوم کیاجاتاہے۔
یہ طریقہ علاج دیگر طرق سے اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس طریقہ علاج میں کسی خاص مرض کا نہیں بلکہ مریض کا علاج کیاجاتاہے۔مریض کی علامات کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے دوا تشخیص کی جاتی ہے۔اورہومیوپیتھک ادویات کی مدد سے مریض میں ایسی قوتِ مدافعت پیدا کی جاتی ہے جو خوداندرونی طور پر ان اسباب وعلل کا خاتمہ کرنے میں مدد دیتی ہے جن کی وجہ سے امراض جنم لے رہے تھے۔
ہومیوپیتھی میں مجربات نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔ ہانیمن کے بقول:
“بیماری کا نام کیا ہے معالج کو اس سے کوئی واسطہ نہیں اوردوا کا نام کیا ہے مریض کو اس سے کوئی واسطہ نہیں۔”
بعض اوقات ایک بیماری میں مختلف لوگوں کو مختلف دوائیں دی جاتی ہیں اور بعض اوقات مختلف بیماریوں میں ایک ہی دوا تمام مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔یہاں تک علامات کی موافقت سے صرف سنگل ریمیڈی کے تحت ایڈز، کینسر،ٹی بی اور دیگر تمام مہلک بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔بالخصوص اگر علامات مکمل موافق ہوں تو اس سے زیادہ سریع الاثر ،صحیح اورغیر معمولی علاج کوئی اورہوہی نہیں سکتا۔ “لکل داء دواء”کہ موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے۔ ایک اورحدیث مبارکہ میں ہے کہ:
” ماانزل اللہ داءالا انزل لہ شفاء “( الصحیح البخاری)
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نازل نہیں کی جس کی شفاء نہ ہو۔
ہومیوپیتھک اس حدیث کا عملی نمونہ ہے کہ ہربیماری کی دواموجود ہے۔ ایلوپیتھک کی طرح یہ طریقہ علاج اپنے مریضوں کولاعلاج نہیں قراردیتا بلکہ اگر دوا علامات سے موافقت رکھتی ہو یہ مریض کی شفا کا سبب بن جاتی ہےاور اس نے بارہا ایسا ثابت کیا ہے۔یہ علاج ان کو عارضی وقتی ریلیف ، پین کلر، یا بیساکھی کا سہارا نہیں دیتا بلکہ مستقل و دائمی قوت و طاقت پہنچاتاہے اور اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتاہے۔
جیسا کہ اوپرذکر کیاگیا ہے کہ اس طریقۂ علاج میں مریض کا بغور مطالعہ کیا جاتاہے اور اس کی ذہنی ، جسمانی علامات کو مد ِنظر رکھتے ہوئے اس کی قوت بالخصوص قوت مدافعت کے مطابق دوا اوراس کی طاقت (Potency) تجویز کی جاتی ہے۔اس طریقہ علاج میں ذہنی علامات کو جسمانی علامات پر فوقیت دی جاتی ہے۔ہرحالت میں مرض خواہ تازہ ہو کہن علامات ہی درست دوا کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔جب ایک دوا علامات کے مطابق تجویز کی جائے اور کام نہ کرے یاکسی قدرفائدہ پہنچاکر مزیدفائدہ نہ پہنچائے تو ایسی حالت میں اسی دوا کی طاقت(Potency) کم وبیش کرکے دیکھاجاتاہے۔اس کی معاون ادویہ یا جو ان کے بعد کام آتی ہیں ان سے مدد لی جاتی ہے۔ ان ادویہ کے دوران استعمال تیزخوشبو اورعطریات سے پرہیز کیاجانا چاہئے کیونکہ عطریات کا شمار دافع اثر ادویہ میں ہوتا ہے یعنی ان کے استعمال سے دوائیں مؤثراورکارگرثابت نہیں ہوتیں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ:
ہومیوپیتھی کے سلسلے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ عوام الناس میں یہ بات بالعموم پائی جاتی ہے کہ یہ ادویات(میٹھی گولیاں) بالکل بے ضرر اورغیر مضرت رساں ہیں۔ لیکن یہ بات حقیقت کے برعکس ہے۔ ہومیوپیتھک ادویات بھی انتہائی ضرراورناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتی ہیں بالخصوص جب متضاد علامات والی ادویات کا یکجا استعمال کیا جائے یا پھر جن ادویات کی علامات مریض کے مخالف ہوں ان کا استعمال مسلسل طویل مدت تک کیا جائے توایسی ادویات اپنی علامات (بیماریاں) مریض میں پیداکردیتی ہیں۔خاص طور پر وہ ادویات جو مہلک مادوں یا چیزوں سے تیار کی جاتی ہیں۔اس لئے ان ادویات کے استعمال کے لئے کسی ماہر ہومیوپیتھک معالج کی ہدایات ورہنمائی اشد ضروری ہے۔
اگر من حیث المجموع دیکھا جائے تو صحیح اوراچھے ہومیوپیتھ (معالج) میں مردم شناسی کا جوہر پیدا ہوجاتاہے۔ اس میں ترغیب ، تحریص ،تنبیہ اور تنذیرکی صلاحیتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ نیز اس میں مریض کے مزاج وطبیعت کو سمجھنے اور اس کی صحت کے لئے نفسیاتی اور روحانی مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت پیداہوجاتی ہے ۔یہ وہ صلاحیتیں ہیں جنہیں تبلیغ میں بھی موثر انداز سے استعمال کیا جاسکتا ہےیعنی اخلاقی بیماریوں کے خلاف انسان میں اندرونی طور پر ایسی قوت مدافعت پیداکردی جائے جو اسے بغیر کسی ظاہری دباؤ کے برائی سے روکنے میں مدد دے۔الغرض یہ صلاحیتیں کسی بھی مبلغ کے لیے گراں قدر سرمایہ اور نہایت ضروری ہیں ۔
خلاصہ کلام:
یہ طریقۂ علاج انسان کے اندر خوابیدہ(سوئی ہوئی) قوتوں کو بیدارکرتا ہے اور ان قوتوں کو آمادہ کرتا ہے کہ بیماری سے جنگ لڑتے ہوئے اسے شکست دی جائے۔ خاص طور پر انسان اگر ذہنی طور پر خود بھی آمادہ (Self-Belief)اور تیار ہوجائے تو یہ علاج سریع الاثر اور انتہائی مؤثر ہوجاتا ہے۔ ذہنی علامات جسمانی علامات سے زیادہ اہم ہیں اور آدھا کام تو ہے ہی ذہن کا۔ اس کے علاوہ دواؤں کے آپس کے تعلق (Relationship of Remedies) کو بھی مدنظر رکھا جاتاہے۔ کون سی دوا کس دوا سے پہلے یا بعد میں کام آتی ہے،دافع اثر کون سی ہے، متضاد ادویہ کون سی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ہاں اگر مریض ذہنی طور پرآمادہ نہ ہواور معالج کی ہدایات اور رہنمائی کو درخور اعتناء نہ سمجھتا ہو تووہ شخص ایسے مہلک اورلاعلاج امراض کا شکار ہوجاتاہے جن کا مداوا ناممکن ہوجاتا۔ الطاف حسین حالی اس کیفیت کو اپنے اشعارمیں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
کسی نے یہ بقراط سے جا کہ پوچھا
مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا
کہا کوئی درد نہیں زمانے میں ایسا
کہ جس کی دوا حق نے کی ہو نہ پیدا
مگر وہ مرض جس کو آسان سمجھے
کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *