لبِ شیریں۔۔۔۔۔سحرجول بلوچ

کچن عورت کی سلیقہ مندی کا آئینہ ہوتا ہے۔۔
امی نے برتن دھوتی فرحین سے کہا جو چائے کے کپوں کو دھو کر واپس سنك میں رکھے جا رہی تھی جس کا دھیان برتنوں کی طرف کم اور گزشتہ رات کی دعوت کی طرف  زیادہ تھا _
تو اور کیا کروں امی جی! سو کام ہوتے ہیں ,یہ برتن دھونے کے بعد کچن کی صفائی بھی باقی ہے ۔ فرحین نے برتن اسٹینڈ میں رکھ دئیے_
لگتا ہے تم بہت تھکی ہوئی ہو, لاؤ تھوڑے  ہی ہیں میں دھودیتی ہوں، امی جی نے اپنایت سے کہا تو وہ اور ڈھیلی ہو گئی۔
تو بہ جو آئندہ کسی فنکشن میں جاؤ ں,آپ نے جانا ہو تو شوق سے جائیں ،میں ایک ہفتہ پہلے ہی آپ کا سوٹ سی کر ریڈی کر دیا کروں گی_
وہ سلائی کڑھائی میں طاق تھی اور سارے گھر والوں کے کپڑے خود ہی سی لیتی، امی جی نے جب اسے غصے میں دیکھا تو ایک سائیڈ پر ہوگئیں ، وہ سمجھ گئی تھیں۔
یہ کوئی نئی بات تو نہ تھی یہ تو فرحین کا معمول تھا، خاندانی تقریبات سے واپسی پر اس کا یہی رونا ہوتا اور موڈ بھی کئی كئی  دن آف ہی رہتا، نعمان کے آفس سے آنے کا ٹائم تھا،امی جی نے اس وقت خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی مگر اگلے دن بھی اس کو اسی موڈ میں دیکھا تو اسے اپنے پاس بلا کر بولیں۔۔۔
بیٹھو بیٹا۔۔! امی جی نے رسان سے کہا،ان کی شفقت اور ہمدردی پاکر فرحین کی کاجل بھری آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے، وہ ایسی ہی تو تھی بے حد حساس اور جذباتی  اور اب اپنی ساس کے  التفات پر اس کی آنکھوں سے دریا بہنےلگاتو نم لہجے میں بولی۔۔۔امی جی مجھے اس گھر میں آئے چار سال ہو گئے ہیں آپ کو پتا تو ہے کہ سب کے ساتھ میرا رویہ بھی ٹھیک رہا ہے مگر پھر بھی ہمیشہ میں ہی قصوروار ٹھہرائی جاتی ہوں اور ۔۔۔۔اس نے قصداَ اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
میں جانتی ہوں بیٹا, تم بہت خیال رکھنے والی اور پیار کرنے والی ہو, سچ پوچھو تو مجھے نہیں معلوم کہ سب لوگ تم سے جلد ناراض کیوں ہو جاتے ہیں، اس کی ساس جسے وہ امی جی کہتی تھی،بے بس سی نظر آنے لگیں۔۔
نجانے کیوں مجھے لگتا ہے میں باقی گھر والوں کی طرح زیادہ پڑھی لكھی نہیں اس لیے  كوئی مجھے پسند نہیں كرتا ۔۔وه روہانسی ہوگئی ۔۔
`تو کیا ہوا اگر تم میرے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم پڑھی لکھی ہو لیکن گھر داری کتنے اچھے طریقے سے جانتی ہو، جب بھی ہمارے ہاں کوئی مہمان آتا ہے تو میں تمہیں سے ڈشز بنواتی ہوں چائے بھی نعمان کو بس تمہارے ہاتھ کی ہی چاہیے ہوتی ہے ، اگر میری بیٹیوں کو کچھ پکانا ہو تو فون کر کے تم ہی سے پوچھتی ہیں ۔۔انہوں نے اسے تسلی دی ،اس کی ساس ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں ہر معاملہ تحمل سے سلجھاتی تھیں ،اس نے کبھی فرحین کو کسی بات كا طعنہ نہیں دیا تھا، پھر سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ وہ کیوں احساس کمتری میں مبتلا ہے۔

تم دل چھوٹا نہ کرو اٹھو اور جلدی سے تیار ہوجاؤ کیونکہ نعمان کی کال آئی تھی, آج تم دونوں کو باہر جانا ہے ڈنر کا پروگرام ہے۔ آخر میں انہوں نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی اٹھ کر تیار ہونے چلی گئی تھی۔

ایسی بات نہ  تهی  کہ  وه تنك مزاج تھی بلکہ وہ بہت صاف دل کی اور دوستانہ مزاج کی تھی مگر وہ جس خوش دلی سے لوگوں سے ملتی تھی بدلے میں ویسا سلوک نہ پاتی تھی اور پھر خاندان کے دوسرے رشتہ داروں کے علاوہ اس کی نندوں سے بھی یہی شکایت ہونے لگی، اس نے محسوس کیا کہ اس کی دونوں نندیں جس گرم جوشی سے اس کی جٹھانیوں سے ملتی ہیں وہیں اس سے کترانے لگی ہیں۔ پرسوں اس کی نند کے ہاں سالگرہ پر ان لوگوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا فرحین کو تو نادیہ  كے بچوں سے بہت لگاؤ تھا ,خاص طور سے ارمان میں تو اس کی جان بستی تھی،سو وہ خوشی خوشی جانے کے لئے تیار ہونے لگی ،نادیہ چونكہ  نعمان سے بڑی تھی ,اس لئے اسے نادیہ باجی کہتی۔۔
کیا بات ہے فرحین, آج تو تم بہت خوش لگ رہی ہو؟
خوشی کی بات تو ہے, آخر میرے ارمان کی جو سالگرہ ہے آج تو میں خوب ہی سجوں گی، فرحین نے چوڑیاں کلائی میں ڈالتے ہوئے کہا، نعمان دل ہی دل میں خوب محظوظ ہوا, چلو اسی بہانے فرحین کا موڈ ٹھیک تو ہوا۔۔
ارمان اس کی بڑی نند کا بیٹا تھا جسے نعمان اور فرحین نے گود لینے کا سوچا ہوا تھا کیوں کہ ان دونوں کی کوئی اولاد نہ تھی اور نادیہ باجی بھی خوشی خوشی ان کو اپنا بچہ دینے کے لئے تیار ہو گئی تھی اس کا نام بھی فرحین نے ہی رکھا تھا وہ شروع سے ہی اس کے پاس رہا تھا سو اس سے اٹیچ بھی بہت تھا اور جب اسے چھوٹی مما  کہہ  کر پکارتا تو اس کی جان ارمان میں بس جاتی۔۔
پھر جب وہ پارٹی میں گئی تو بہت خوش نظر آ رہی تھی مگر واپسی پر اس كا منہ  پھر بنا ہوا تھا۔ سارے راستے تو وہ چپ رہی مگر گھر آ كر اس كا ضبط جواب دے گیا۔
`آپ کی بہنیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں ارمان سے کتنا پیار کرتی ہوں پھر بھی سب کے سامنے انہوں نے میری انسلٹ کردی، میں خوب تیار ہوكر گئی اور نئے ٹرینڈ کا سوٹ بھی پہنا پھر بھی آپ جانتے ہیں نادیہ  باجی نے کیا کہا۔۔ اس نے الٹا نعمان سے ہی سوال کر دیا۔۔
میرا سوٹ آؤٹ آف ڈیٹ ہے اور یہ کہ مجھے ڈریسنگ کی  كوئی سینس نہیں اور سارا سارا ٹائم وہ آپس میں ہی مگن رہیں کسی نے بھی مجھے کمپنی نہیں دی، لگتا ہے ان کو میرا وہاں جانا اچھا نہیں لگا ۔
اور نعمان كو یاد آ یا  کہ  ابھی پرسوں اتوار كو ہی بریانی کی فرمائش كو اس نے کس روكھے انداز میں پوری کی تھی جس کے بعد كھانے کا لطف ہی نہیں آیا حالانکہ   بریانی  بہت ٹیسٹی بنی تھی مگر فرحین کا لہجہ اسے بدمزہ کر گیا تھا ۔۔
کیسی باتیں کرتی ہو ,تم خوامخواہ ہی بد ظن ہورہی ہو ،  بلکہ نادیہ  باجی نے تو کہا آج فرحین بہت پیاری لگ رہی ہے، نعمان نے اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہی۔۔

رہنے دیں , انہوں نے یوں ہی آپ کو خوش کرنے کے لئے بول دیا ہو گا، اس نے رکھائی سے بات ہی ختم کردی ،رات بہت ہو گئی تھی اور وہ کافی تھکی ہوئی بھی تھی نعمان نے مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا تو کچھ الجھتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا ، سمجھ تو وه گیا تھا کیونکہ مسئلہ نہ رویے  کا تھا, نہ کسی اور بات کا مسئلہ  تو صرف اندازِ بیاں کا تھا بات درست تھی مگر لہجہ ٹھیک نہیں تھا ۔
فرحین غلط نہیں۔۔۔ اس کے دل نے گواہی دی تو اس کے لبوں پر  ایك مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا کیونکہ اگر وہ نادیہ باجی کو کچھ کہتا تو ان کو برا لگتا اور اگر فرحین سے کچھ کہتا تو وہ ناراض ہو جاتی۔ اچانك اس كے دماغ میں ایک ترکیب آئی جس پر عمل کرنے کا وه كل ہی سوچ رہا تھا، نعمان یوں پرسكون ہو گیا جیسے سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا تھا۔
کیا بات ہے آپ ابھی تک سوئے نہیں اتنی رات ہو گئی ہے ؟۔۔۔ فرحین نے اپنی  مخصوص ٹون میں كہا۔ رات کے دو بجے تھے مگر نعمان جانتا تھا صبح ہو گئی تھی جو بہت روشن تھی اور ان کی منتظر بھی۔

فرحین کی اپنی نند کے ساتھ ناراضگی کافی عرصے سے تھی اور طول پکڑتی جا رہی تھی نعمان كو ڈر تھا اگر ان کے مابین کشیدگی یوں ہی  بڑھتی رہی تو بہت جلد رشتوں میں دراڑ آ جائے گی۔ اگلی صبح جب وہ سوکر اٹھی تو گھڑی پورے دس بجا رہی تھی ۔
یا اللہ یہ الارم کیسے مس ہو گیا، فرحین جو ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہ کھول پائی تھی, بے اختیار ہی اس کے منہ سے نکلا ،اس نے چونک کر اپنے پہلو میں دیکھا نعمان نہیں تھے۔۔
شاید بغیر ناشتہ کئے آج آفس چلے گئے ہوں گے۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا اور جلدی سے پیروں میں چپل پھنسائے, بالوں کو کیچر میں مقید کیا اور روم سے باہر نکلنے کے لئے دروازہ کھولا ،سامنے نعمان كو چائے کے لوازمات لیے کھڑا دیکھ کر ششدر رہ گئی ۔۔اس کی آنکھیں ابھی بھی نیند سے بوجھل ہورہی تھیں اور وہ نہ سمجھنے والی کیفیت میں کھڑی رہیں جبکہ نعمان بہت خوش نظر آ رہا تھا وہ اسے وہیں حیران كھڑا چھوڑ كر آگے بڑھا اور سائیڈ ٹیبل پر چائے رکھ دی ۔سامنے نادیہ اپنے بچوں سمیت لاؤنج میں امی جی سے باتوں میں مصروف تھی ارمان کی نظر اس پر پڑی تو اس کے پاس دوڑا آیا جسے اس نے فوراً  گود میں اٹھا کر پیار کیا ارمان کے ہاتھوں میں گیند تھی سو وه ركا نہیں واپس کھیلنے چلا گیا تو وه ا سے جاتا دیکھتی رہی_
اب وہیں كھڑی رہوگی یا ناشتہ بھی كروگی ؟ نعمان کے پکارنے پر وہ چونکی، مڑ کر دیکھا تو چائے کے ساتھ لب شیریں کا پیالہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کیونکہ سارا گھر جانتا تھا میٹھے کی وہ کتنی شوقین تھی آج ہماری شادی کی سالگرہ تو نہیں پھر  یہ  سب؟اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔۔
میں نے سوچا آج كا دن تمھارے نام كردوں ۔۔ہرہفتے میری چھٹی ہوتی ہے۔ تمھیں بھی ایك دن ریسٹ ملنا چاہیے،كیوں۔۔۔۔؟ نعمان نے كہا تو فرحین لب ِ شیریں سے دھیان ہٹا کر تعجب سےاسے دیکھنے لگی اتنے میں نادیہ  آگئی۔
باہر بچے شور كر رہے تھے تو میں نے سوچا میں اپنی چائے یہیں لے آؤں ، سكون سے کہتی وه وہیں قریبی صوفے پر بیٹھ گئی، نعمان نے محسوس كیا کہ  فرحین ابھی تك كچھ خفا سی تھی۔
چائے تو آپ نے بہت اچھی بنائی ہے مگر لگتا ہے اس میں چینی ڈالنا  بھول گئے ہیں، فرحین چائے کا گھونٹ بھر کر بدمزہ ہوئی تو اس سے بھی زیاده پھیكے لہجے میں بولی _
تم نے میٹھا كھایا ہے نا تو اس لیے چائے پھیكی محسوس ہورہی  ہے،_ نادیہ  نے اس سے كہا تو نعمان ان كی باتوں سے محظوظ ہونے لگا پھر ایك پلیٹ فرحین كی طرف بڑھای ۔۔
لو نمك پارے كھاؤ۔۔
كھاكر تو دیكھو , نادیہ باجی نے بنائے ہیں، جواب نہ  ملنے پر وه دوباره گویا ہوا۔
نعمان نے كہا تو طوہاًكرہاً اس نے كچھ نمك پارے لے لیے۔۔
`چائے تو بہت میٹھی بنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔`كپ كو ہونٹوں سے لگایا تو اسے بہت خوشگوار حیرت ہوئی ۔۔
دیكھا, تمھارے لبوں كی مٹھاس نے چائے كو بغیر چینی كے ہی میٹھا كردیا،یہی تو اصل سرپرائز تھا، شكریہ  مائی ڈئیر ہسبنڈ۔۔اس نے بے نیازی سے کہا۔
شکریہ اگر بولنا ہے تو مجھے نہیں نادیہ باجی کو کہو_ نعمان نے اس کی توجہ اپنے پر سے ہٹائی۔۔
كیا مطلب ہے آپ کا،وہ کچھ اُلجھی۔۔
مطلب یہ کہ جب میں کچن میں تمہارے لئے لب شیریں بنا رہا تھا تو اس وقت نادیہ باجی نے کہا کچھ نمكین بھی بنا لیتے ہیں فرحین کے لئے تاکہ چائے کے ساتھ مزہ خراب نہ ہو_ نعمان نے وضاحت کی تو اپنائیت کا احساس پا کر اس كے آنسو چھلک پڑے۔
`کیا ہوا فرحین۔۔۔؟نادیہ باجی نے یكدم پاس آكر اس كے آنسو  صاف كیے۔۔
آپ سب لوگ میری كتنی پرواہ کرتے ہیں میں ہی بے وقوف ہوں جو ہر وقت الٹا سیدھا سوچتی رہتی ہوں، اس کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
نعمان نے ایك نظر ان دونوں پر ڈالی پھر کمرے سے باہر نکل آیا جہاں بچے کھیلنے میں مصروف تھے۔
بڑی مما اور چھوٹی مما كیوں رو رہی ہیں؟۔۔۔ ارمان کو وہ دونوں نظر آ گئیں تو وہ کمرے میں گھس گیا جہاں اب وہ دونوں سنبھل چکی تھیں
کچھ نہیں بیٹا یہ لب شیریں کا جادو ہے۔نعمان نے کہا تو وہ دونوں ہنسنے لگیں کیونکہ وہ جانتی تھیں یہ لفظوں کی مٹھاس تھی_
میں بھی کھاؤں گا۔۔
دیکھا فرحین , كچھ رشتے ہمارے دو میٹھے بول کے منتظر ہوتے ہیں _ میں یہ نہیں کہتا ضرورت سے زیاده نرم ہوجاؤ کہ دنیا تم پر  حاوی ہونے لگے لیکن اتنا روكھا انداز بھی نہ  اپناؤ کہ  كوئی  تمھارے خلوص كو نہ سمجھ سکے۔
اور آج میں نے یہ  سبق سیکھ لیا ہے۔ فرحین كے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
یوں لب شیریں اس کے لفظوں میں ہی نہیں زندگی میں بھی مٹاس لے آیا !!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *