گھٹیا افسانہ نمبر23۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

ہم یہاں کوئی  تین گھنٹے بعد پہنچے ہیں۔ گاڑی سارا راستہ شاید ہی چالیس کی سپیڈ تک پہنچ پائی ہو، ساری شاہراہ نوکدار چھوٹے بڑے پتھروں سے لبریز تھی  جب جب چھوٹے چھوٹے پتھر ٹائروں کے نیچے سے نکل کر گاڑی کی نچلی سطح پر ٹکراتے ہیں تو عجیب خوف محسوس ہوتا ہے، یہ شاید دنیا کے چند خوبصورت ہائکنگ ٹریکس میں سے ایک ہے.۔سرخ رنگ کے انتہائی خوبصورت چھوٹے چھوٹے پھول جنگل میں ہر طرف پھیلے سبزے کے ہر کونے میں نظر آرہے ہیں۔ یہ اوپر نیچے جاتا اور ادھر اُدھر مڑتا ہوا ایک دلکش ہائکنگ ٹریک ہے خوبصورتی اور دلکشی کا نام پہلے تو بہت بار سنا ہے، مگر خوبصورتی کیا ہوتی ہے یہاں آکر دیکھا ہے، ایک ایک لمحہ بہار کی موجوں کی مثال دے رہا ہے. چیڑ کے لمبے لمبے درختوں کے پہاڑی جنگل کے بیچوں بیچ بارش میں بھیگتا ہوا راستہ، کبھی گہری کبھی کم ہوتی ہوئی دھند اور ہلکی مگر مسلسل برستی ہوئی بارش نے لفظوں کی گریبانوں کو تھام لیا ہے جو منظر کو بیان نہیں کر پا رہے. صباء کبھی مجھ سے آگے نکل جاتی ہے، جب تھک جاتی ہے تو رک کر بیٹھ جاتی ہے، میں کبھی اُس کو پیچھے چھوڑ دیتا ہوں، ابھی ایک منظر میں گہری دھند، اور بارش کی ہلکی بوندوں اور درختوں کے لامتناہی جھنڈ نے ہمیں کیمرہ نکالنے پہ مجبور کر دیا ہے، صباء نے سرمئی رنگ کا سکارف پہن رکھا ہے، مجھے اُس کا یہ انداز بہت پسند ہے جیسے وہ سکارف کو اپنے سر اور کندھوں تلک لپیٹتی ہے،کیسی چنچل مگر باوقار لگتی ہے۔ دور سے ہی کسی جامعہ کی طالبہ نظر آ رہی ہے.۔کالا اوور کوٹ گھٹنوں سے نیچے تک لٹک رہا ہے۔ اسلام آباد میں جب وہ یہ اوور کوٹ خرید رہی تھی تو اُس کو سائز بارے کہتے کہتے رک گیا کہ یہ لمبا ہے کوئی کم سائز پہن کر دیکھو  مگر اب یہ درست فیصلہ لگ رہا ہے کیونکہ برستی بارش میں ہائکنگ کے دوران ہم دونوں نے پلاسٹک کا بوٹوں تک آنے والا بارشی لباس پہن رکھا ہے پھر بھی گھنٹوں سے بھی لمبا اوور کوٹ صباء کو سردی سے محفوظ رکھے گا۔

یہ دلیر اور مضبوط لڑکی تو ہے جو دو بچوں کی ماں اور ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں اسسٹنٹ کمشنر ہونے کے باوجود اپنے یونیورسٹی دور کے عاشق کے ساتھ یہاں تین دنوں کے لیے ہائکنگ کرنے آئی ہوئی ہے۔ “دیکھو یہاں دور دور تک کوئی نہیں ہے، کیوں نہ یہیں گڑھا ا کھود کر ایک دوسرے سے لپٹ کر دفن ہو جائیں، کیسی پیاری جنت ہے، میں واپس اُنہی جھنجھٹوں میں نہیں جاؤں گی، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی ایسے گزاروں گی، تمہارے اوپر بھی دُھن سوار تھی کہ انسان کو بڑا کام کرنا چاہیے، ہمیں ایسی پیاری جگہ ایسا پیارا ماحول چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے اُس جہنم زندگی کی طرف، تم سن رہے ہو ناں، موبائل فون یہیں توڑ کر پھینک دیتے ہیں، یہیں جنگلات میں گم ہو جاتے ہیں، ہمیں کون ڈھونڈ سکتا ہے”۔

صباء بےاختیار بولے جا رہی ہے.۔۔۔میں جو بات کل دوپہر کو سوچ رہا تھا وہی میرے دماغ میں پھر سے عود آئی ہے.۔آخر انسان کا اطمینان کہاں ہے؟ آخر ہماری حدود کیا ہیں۔ ہم کہیں پرسکون کیوں نہیں ہیں۔یہی صباء تھی جو کہتی تھی مجھے ایک لیب ٹیکنیشن کی زندگی نہیں گزارنی، اب یہ دو سال سے فیلڈ میں اے سی کی خدمات سرانجام دے رہی ہے، مگر اپنی نوکری اپنے حالات سے تنگ ہو کر شدید نالاں و افسردہ ہے۔

دفتر میں ساتھ کام کرنے والے کزن نے بتایا تھا کہ آج دوپہر کا کھانا کسی ہوٹل میں کھائیں گے اور اُن کی تقریر بھی سنیں گے.۔کسی این جی او کا نام لے رہا تھا جس کا پروگرام ہے۔ ہال میں کوئی تیس پینتیس لڑکے لڑکیاں اور چند ادھیڑ عمر مرد بھی موجود ہیں،سٹیج پہ پہلے ایک لڑکی دوسری عورتوں کو سکھا رہی تھی اگر اُن پہ کوئی مرد جنسی حملہ کرے تو آپ نے کیا کرنا ہے کیا لائحہ عمل تیار کرنا ہے، اب ایک نوجوان اسپیکر بول رہا  ہے کہ “پہلے پہلے تو میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پیڈوفیلیا ہوتا کیا ہے۔ ہم 13 سال تک کی عمر کے افراد کو نابالغ بچہ سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی 16 سال یا اس سے زائد کی عمر کا فرد کسی 13 سال یا اس سے کم عمر فرد کی طرف جنسی کشش محسوس کرتا ہے، تو اِس بالغ فرد کی نابالغ فرد کی طرف اِس جنسی کشش کو پیڈوفیلیا کہا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین نفسیات کا یہ خیال ہے کہ قریب قریب کے ہم عمر افراد کو پیڈوفیلیا میں شامل نہیں کیا جاسکتا، ان کے خیال میں پیڈوفیلیا میں شمولیت کے لیے بالغ اور نابالغ افرد کے درمیان کم از کم عمر کا فرق پانچ سال رکھنا لازم ہے۔ یہاں پیڈوفیلیا کی ایک ذیلی قِسم انفنٹوفیلیا کا ذکر بھی ضروری ہے جس میں ایک بالغ فرد کسی پانچ سال سے کم عمر فرد کی طرف جنسی کشکش محسوس کرتا ہے۔ کچھ افراد جو نابالغ بچوں کی جنسی کشش محسوس تو کرتے ہیں مگر زندگی بھر کسی نابالغ بچے کے ساتھ جنسی عمل میں ملوث نہیں ہوتے۔ جبکہ بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو  نابالغوں کی طرف کوئی جنسی کشش محسوس نہیں کرتے مگر وہ اپنی زندگی میں ایک یا ایک سے زائد مرتبہ نابالغوں کے ساتھ جنسی عمل میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ بچوں یا نابالغوں کی طرف جنسی کشش یا جنسی عمل انسانی تاریخ کے تمام ادوار میں دستیاب ہے مگر انیسویں صدی تک اِس معاملے کو زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔۔

ابھی اُس کی بات جاری ہی ہے کہ پولیس کی وردی میں ملبوس تین سے چار اہلکار ہال میں داخل ہوئے ہیں۔۔جو انتہائی سنجیدگی سے پوچھ رہے ہیں کہ پروگرام کا منتظم کون ہے؟ وہ منتظم کے ساتھ باہر بات کرنے کے لیے ہال سے نکل گئے ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ہلکی آواز میں صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار اندر داخل ہوا ہے جس نے دروازے پہ کھڑے کھڑے بلند آواز میں کہنا شروع کیا ہے کہ “یہ این جی او پابندی کے باوجود پروگرام کر رہی ہے جس کو ہم نے آکر ختم کر دیا ہے، آپ تمام لوگ یہاں چلے جائیں جو یہاں رکے گا ہم اُس کو منتظم سمیت گرفتار کر لیں گے”۔۔ اُس نے ابھی بات مکمل بھی نہیں کی ہے کہ لڑکیوں نے ہال سے باہر نکلنا شروع کر دیا ہے جبکہ باقی تمام مرد اور لڑکے بھی ہوٹل سے باہر آکر تیز تیز مختلف سمتوں کو روانہ ہو رہی ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے خرید کر ابوبکر موٹر سائیکل کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔ابھی اِس نے ابا کو پانچ لاکھ دئیے ہیں، مجھے تین وقت کا کھانا ملے گا، کپڑے اور رہنے کی جگہ ملے گی. جب تک ابا پیسے واپس نہیں کرتے میں ابوبکر کی دوکان پہ آٹھ گھنٹے کام کروں گا۔ مہینے کے بعد ایک جمعرات جمعہ گھر گزاروں گا،میں موٹرسائیکل کے پیچھے بیٹھ چکا ہوں.،اب روزانہ صبح چھ بجے اٹھتا ہوں۔ نہا دھو کر، نماز قرآن پڑھ کر ساڑھے سات دوکان جہاں ناشتہ اور صفائی کے بعد نو بجے دوکان کھل جاتی ہے۔ سارا دن گاہک دوکان پہ آتے رہتے ہیں۔ ہم یہاں چھ لڑکے گاہکوں کو سامان دکھاتے اور بیچتے رہتے ہیں۔ دوپہر کو آدھے گھنٹے کےلیے نماز اور کھانے کا وقفہ ہوتا ہے۔ پھر میں شام کو چوبارے پہ آ جاتا ہوں۔ٹی وی دیکھتا ہوں۔۔ایک دن ابوبکر کے بیٹے جاوید نے مجھے بری بات کہی تو میں نے سیدھا ابوبکر کو بتا دیا ہے۔ ابوبکر نے اس کو بہت مارا ہے۔ مجھے اب تیسرا سال لگ گیا ہے،میں نے ابوبکر سےبات کی ہے کہ اب بس کر دو، ابا کو پیسے معاف کر دو، ابوبکر میری بات مان گیا ہے،ابوبکر بھی بہت خوش ہے مری وجہ سے، اُس کے بھائی نے اُس پہ کیس کر رکھا ہے، وہ وہاں مصروف ہوتا ہے، میں ایمانداری سے ساری دوکان سنبھالتا  ہوں،قسم سے میں بھی اپنی روزی حلال کرتا ہوں، حالانکہ سارے گاہک مجھے بچہ سمجھ کر پاگل بناتے ہیں، مگر ابوبکر میرا استاد ہے، میں نے بہت سیکھا ہے اس سے۔۔۔۔

ایک جاوید اوپر سٹور میں نئے ملازم کے ساتھ زبردستی کر رہا ہے تو میں نے دیکھ لیا ہے، وہ چھوٹا لڑکا رو رہا ہے، آنسو اس کی گالوں کی نیچے تک آ رہے ہیں، مجھے دیکھ کر جاوید کھڑا ہو گیا ہے، چھوٹے لڑکے کی شلوار میں لاسٹک ہے اس لیے اس نے فوراً مجھے دیکھ کر شلوار پہن لی ہے، مجھے دیکھ کر ڈر گیا ہے اور جاوید کے پیچھے چھپ گیا ہے.،جاوید ناڑا باندھ رہا ہے جس پہ ہلکے ہلکے خون کے دھبے لگے ہوئے ہیں۔ چھوٹا لڑکا آج شام گھر جانا ہے۔ ہفتے والے دن اس کا بھائی ساتھ آیا ہے۔۔ ابوبکر نے مجھے الگ بلا کر سارا قصہ سنا ہے، ابوبکر نے تسلی کروا کر ساری معافی مانگ کر اُس کے بھائی کو بھیج دیا ہے۔ جاوید تین دن سے دوکان پہ نہیں آ رہا۔۔ ابوبکرنے اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔چھوٹے لڑکے کے بھائی نے نثار لوہار کے کہنے پہ ابوبکر پہ چھوٹے لڑکے کے ساتھ زیادتی کا پرچہ کروا دیا ہے۔۔ کل انہوں نے خون والی شلوار کے ساتھ لڑکے کو پریس کلب کے سامنے بٹھائے رکھا ہے۔ ابوبکر نے خودکشی کر لی ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *