بس وہ گستاخ تھا۔۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

بے شرمی ، بے غیرتی ، بے حسی ، ڈھٹائی اور جہالت کا مجسم مرکب آج دیکھنے کو ملا ۔ وہ جہالت کا مجسم پیکر کہہ رہا تھا ’’کہ اس کا استاد اسلام کے خلاف بہت بھونکتا تھا ۔ قانون کون سا ہے ۔ قانون تو گستاخوں کو رہا کرتا ہے ۔ سنا ہے پولیس کہتی ہے کہ ا س قاتل کا تعلق خادم رضوی گروپ سے ہے ۔ میں نے اس شنید سے قبل ہی جب اس کی ویڈیو دیکھی تو پہلا تاثر یہی ابھرا تھا۔ پھر اس ویڈیو کو میوٹ کر کے صرف قاتل کی حرکات پر غور کیا تو صاف دکھائی دیا کہ یہ پنیری کس کی لگائی ہو ئی ہو سکتی ہے ۔ آپ ویڈیو غور سے دیکھ لیں ۔ اس کی باڈی لیگنوئج ویسی ہی نظر آئے گی جیسی اس کی تھی جو آج کل سرکاری مہمان ہے ۔
صادق ایجرٹن کالج کے پروفیسر خالد حمید دن دیہاڑے اپنے ہی دفتر کے سامنے بے دردی سے مارے گئے ۔ پروفیسر کا قصور کیا تھا ۔ پتا نہیں ۔
پھر قتل کیوں کیا ۔
وہ گستاخ تھا۔
کیا گستاخی کی ۔ پتا نہیں ۔
پھر مارا کیوں ۔ وہ گستاخ تھا۔
جب ہم نے کہہ دیا کہ وہ گستاخ تھا ۔ تو بس تھا ۔ کیسا قانون ،کون سا قاعدہ ، کیسے اخلاقی سبق ، کون سی شرم و حیا۔ بس گستاخ کا سر تن سے جدا۔
استاد کیا ہوتا ہے ۔ اُ س کا رتبہ کیا ہے ۔ یہ تو ہمیں آج تک علم نہ ہوسکا ۔ بس یہ فوری پتا چل جاتا ہے کہ وہ گستاخ تھا۔ جسمانی باپ آسمان سے زمین پر لانے کا باعث بنا تو استاد اس لوتھڑے کو زمین سے آسمان کی رفعتوں میں لے جانے کے لئے بھلے سر دھڑ کی بازی لگا دے ۔ اپنی ساری عمر اس دشت میں سرگرداں گزار دے ۔دھوپ پیاس ، گرمی سردی ۔ کی پرواہ کئے بغیر ہر روز کوہلو کے بیل کی طرح حاضر ہوتا رہے ۔ چکر لگاتا رہے ۔ اس کی  آنکھوں پر موٹے موٹے نظر کے شیشے ہماری کاپیاں اور ہمارے ہوم ورک چیک   کرتے رکھے جائیں ۔ ہمیں علم دیتے دیتے اس کا سر بھڑک اٹھے۔ کمر خمیدہ ہو جائے ۔ پھر بھی اگر ہماری دانست میں گستاخی ا س نے کر لی تو پھر کوئی گنجائش نہیں ۔ سر تن سے جدا
خالد حمیدگولڈ میڈلیسٹ ۔ پڑھ کے بے بسی  سے  ہنسی نکل جاتی ہے ۔ہم نے تو نوبل انعام یافتہ کو نہیں بخشا ۔ گولڈ میڈلسٹ کس کھیت کی مولی ہیں ۔ ڈاکٹر سلام بھی گستاخ تھا ۔ وطن فروش تھا ۔ غدار تھا۔ ملالہ بھی گستاخ ہے ۔ یہودی ایجنٹ ہے ۔ وطن فروش ہے ۔ غدار ہے ۔ ڈاکٹر سلام ساری عمر پاکستان سے آنے والوں کے گلے لگ کر روتے رہے ۔ اپنے وطن کی خاک چھونے کو تڑپتے رہے ۔ لیکن ہمارے ہاں گستاخ کو معافی نہیں ۔ اس لئے نہیں آنے دیا۔ اس کی ہڈی کو بھی چین نہیں تھا ۔ مر کر پاکستان میں دفن ہونے چلا آیا ۔ لیکن پھر ہم نے ا س کی قبر کے کتبے پر سیاہی پھیرکر بتا دیا کہ گستاخ کو معافی نہیں ۔ ہاں مرنے کے بعد بھی نہیں ۔
ملالہ بھی وطن میں نہیں رہ سکتی ۔ وہ بھی نہیں آسکتی نہ ساری عمر آسکے گی ۔گستاخ کو معافی ہم دیتے نہیں ۔
مشال بھی گستاخ تھا ۔ بس یہی کہہ کر ما ردیا تھا ۔ وہ تڑپتا رہا ۔ ترلے منتیں کرتا رہا ۔ اپنی مسلمانی کے ثبوت دیتا رہا ۔کلمہ کا ورد کرتا رہا ۔ ختم الرسل ﷺ پر اپنے غیر مشروط ایمان کا اظہار چیخ چیخ کر کرتا رہا۔ لیکن ہم نے اس کے جسم کے پو رپور پر مارا۔ ایک ایک حصہ مجرو ح کیا ۔ وہ کلمہ پڑھتے ہوئے شہادت کی انگلی اٹھا تا رہا ۔ ہم نے اس کی انگلیاں بھی توڑ دیں۔جب ہم نے کہہ دیا کہ وہ گستاخ تھا تو پھر کون سی گواہی اور کیسا ثبوت ۔باپ روتا ہے تو رویا کرے ۔ ماں تڑپتی ہے تو تڑپا کرے ۔ ہم نے کہا مشال گستاخ تھا ہم نے مار دیا ۔ قاتل نے فخریہ اعلان کیا کہ میں نے مارا ۔ ہم نے اسے ہار پہنائے ۔ بس گستاخ کی سزا سر تن سے جدا۔
سیالکوٹ کے دو حافظ قرآن بھائی بھی گستاخ تھے ۔ ہم نے کہا گستاخ ہیں ۔ کسی کو جرأت نہیں انہیں بچانے کی ۔رمشا مسیح بھی گستاخ تھی کیونکہ ہم نے کہہ دیا کہ گستاخ ہے ۔ بھلے قرآن کے پیپرز مولوی نے جلائے ہوں ۔ لیکن گستاخ وہی ہے جسے ہم کہہ دیں ۔
سلمان تاثیر بھی گستاخ تھا۔ اب کے ریاست کا پروردہ ایک محافظ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ جس کی حفاظت کی ذمہ داری اس پر ہے وہ تو ایک گستاخ ہے ۔ پھر سلمان تاثیر بھی نہ رہا۔ ایک عام محافظ ، محافظ ختم نبوت بن گیا ۔ہم نے اسے پھولوں کے ہار پہنائے ۔ اس کو گلے لگایا ۔ اس کے ہاتھ منہ ماتھا چوما ۔ شاباش دی اور پیٹھ تھپکی۔ قادری کا کیس لڑنے کے لئے وکلاء کی قطاریں لگ گئیں ۔ ججز کی دوڑیں لگ گئیں کہ سگ آزاد ہو چکے تھے۔
حکومت کی اپنی مجبوری کہ ممتاز قادری کو پھانسی دینا پڑی ۔ لیکن ہم نے کہہ دیا تم کتنے قادری مارو گے ہر گھر سے قادری نکلے گا۔ دیکھ لو وہ نکل رہا ہے ۔ قادری کبھی یہاں سر اٹھاتا ہے کبھی وہاں ۔ مشال کے لاشے پر بھی قادری کی روح نے آکر دھمال ڈالی تھی ۔ اور آج پروفیسر خالد حمید کے تڑپتے جسم سے نکلتے گرم خون سے اس نے پہلے اپنے گلے کو تر کیا ۔کچھ خون ہاتھوں پر اور کچھ منہ پر ملا۔ قاتل کو تھپکی دی ۔اور نکل گئی کسی اور گستاخ کا سر قلم کرنے۔ اسے منطقی انجام تک پہنچانے ۔ کسی اور دل و دماغ میں حلول کرنے ۔ کسی اور جگہ یہ پنیری لگانے ۔
یہ پنیری تو اگتی ہم دیکھ ہی رہے ہیں ۔ یہ پودے مدرسوں میں لگے۔ سکولوں میں اُگے۔ کالج اور یونیورسٹی میں پروان چڑھے ۔ دفاتر میں جا نکلے ۔ ہائی کورٹوں کی کرسی عدل انصاف پر جا براجمان ہوئے ۔ ہر جگہ ایک چہرہ بدلتا ہے روح وہی رہتی ہے ۔نعرہ ایک ہی ہے ۔ وہ گستاخ تھا ۔ وہ گستاخ ہے ۔ گستاخ کا سر تن سے جدا۔
ممکن ہے میرا یہ مضمون ناقابل اشاعت ہو ۔ لیکن میں اگر آج نہ لکھو ں تو کبھی نہ لکھ سکوں گا ۔ہو سکتا ہے کوئی درویش بے نشاں اسے شائع ہونے دے ۔ اور کچھ نازک طبائع پر گراں گزرے ۔ ہو سکتا ہے میں بھی گستاخ ٹھہرا دیا جاؤں ۔لیکن کاش میرا ریاست مدینہ بننے جا رہا وطن اصلی ریاست مدینہ کے صرف ایک پہلو پر ہی عمل کر لے ۔ صرف مذہبی آزادی دے۔ ہر ایک کو مذہبی آزادی ۔بلا تفریق مذہبی آزادی ۔ مذہب بندے اور خدا کے درمیان ایک معاملہ رہ جائے۔ اس کے درمیان کوئی زمینی خدا نہ گھس سکے۔
ریاست مدینہ کی مال جپنے والو! سن رکھو اصلی ریاست مدینہ میں یہودی نے کہا میرانبی افضل ہے تو فیصلہ یہودی کے حق میں دیا گیا ۔ریاست مدینہ میں یہودی کے جنازے کے احترام میں فخر موجودات ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہاں وہی شہنشائے عالم جس کے ساتھ دونوں جہاں اٹھتے بیٹھے تھے۔
ریاست مدینہ میں ایک ایسا بد بخت بھی آیا جس نے رہتی دنیا تک منافقین کا سردار ہونے کا خطاب اپنے سر کر لیا ۔ بات وہ کی جسے صرف خدا ہی اپنی مقدس کتاب میں دہرا ئے۔ بیٹے نے کہا مجھے اذن ہو کہ اس کا سر اڑا دوں ۔ فرمایا نہیں ۔ ہر ایک کو پتا ہے کہ معزز ترین کون ہے اور ذلیل ترین کون۔
اے مدعیان ریاست مدینہ !
قادریوں کی پنیری اکھاڑنے کا وقت آگیا ۔ ورنہ علم جہالت کی تلوار تلے ذبح ہوتا رہے گا ۔ انسانیت سسکتی رہے گی اور بد روحیں دھمال ڈالتی رہیں گی۔یہ بڑھتی رہیں گی ۔ ان کی ہنسی بلند سے بلند تر ہو گی ۔ اتنی بلند کہ ہر بلندی و پستی برابر ہو جائے گی ۔ یہ بد روحیں مدرسوں ، سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور عدالتوں سے ہوتے ہوئے تخت و تاج پر بھی براجمان ہوں گی۔ یہ بد روحیں گندی جڑی بوٹیاں ہیں جو اصل فصل کی تباہی کے در پہ ہیں ۔ ان کو تلف کرنے اور جلانے کا وقت آگیا ۔ ورنہ ریاست مدینہ کے دعوے کھوکھلے ، بڑھکیں بے بنیاد اور خدو خال پریشان ہیں۔
ریاست کے امتحان کا وقت اور نزدیک کر دیا گیا ہے ۔ اگر بند نہ باندھے گئے تونفرتوں کے ببول ہر پگڈنڈی پر اگیں گے۔ پھر کسی کے کپڑے کیا جسم بھی سلامت نہ رہے گا۔
اگر ہم
ہم قاتلوں کے منہ چومتے رہے ۔
قاتلوں کے لئے باہر نکلتے رہے اور شہر بند کرتے رہے ۔
شہیدوں کے جنازے کو کندھا دینے سے بھی ڈرتے رہے ۔
قاتلوں کے کیس فری لڑتے رہے ۔
ہمارے وفاقی وزیر گلی محلے کے مولوی کے اشارے پر جہاد پر جانے کے لئے مچلتے رہے ۔
اپنی مرضی کے عدالتی فیصلے نہ آنے پر اربوں کی ملکیت جلاتے رہے ۔ ریاست کو للکارتے رہے ۔ ڈنڈا بردار جب مرضی جس کو مرضی گستاخ قرار دیتے اور مارتے رہے۔
اور دنیا سے توقع کریں کہ وہ ہمیں امن کا نوبل انعام گھر آکر دے کر جائے۔ ہمیں دہشت گرد بھی نہ کہے۔ ہمارے پاسپورٹ کی توہین بھی نہ کرے۔ ہمارے لئے ہر ملک کے دروازے بھی کھلے ہوں ۔جہاں جا کر ہم اپنی مرضیاں کریں اور ہمیں کوئی روکے ٹوکے بھی نا۔
اگر ہم ایسے ہی رہنا چاہتے ہیں تو پھر واقعی ہم دنیا کی عجیب ترین قوم ہوں گے ۔
ہمارے خواب دیوانے کے خواب کیا دیوانے کے خوابوں کو بھی شرمانے والے ہوں گے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *