اسلام, امن اور دنیا نفسیاتی مریضوں کی زد میں— بلال شوکت آزاد

بات کڑوی ہے پر یہی سچ ہے جو میں کروں گا ضرور, مغرب کو مطلب یہود و نصاریٰ کو “اسلامو فوبیا” لاحق ہے اور ہمیں اس پر تشویش ہے, بالکل جی ہونی بھی چاہیئے کہ اس کا شکار معصوم اور بے گناہ لوگ کبھی راہ چلتے اور کبھی مساجد میں شکار ہوتے ہیں۔

لیکن کیا آپ بھول گئے ہیں یا بھولنے کی ایکٹنگ کرتے ہیں کہ ہمیں مطلب مسلمانوں کو اور بلخصوص پاکستانی مسلمانوں کو بشمول میرے “صہونیت فوبیا” اور “کروسیڈز فوبیا” لاحق ہے اور انہیں مطلب یہود و نصاریٰ کو اس پر تشویش ہے, بالکل جی ہونی بھی چاہیئے کہ اس کا بھی شکار بعض اوقات بیشک جواب یعنی ردعمل میں معصوم اور بے گناہ لوگ کبھی راہ چلتے اور کبھی مذہبی عبادت خانوں میں شکار ہوتے ہیں۔

اب آپ کہیں گے کہ۔۔

“سپرمیسی چونکہ یہود و نصاریٰ کی ہے فی الوقت تو ہمارا ان کے متعلق صیہونی اور کروسیڈز فوبیا اہم اور اتنا خطرناک نہیں لیکن ان کو لاحق اسلام فوبیا خطرناک ہے”۔

جی مجھے یہ بات بالکل من وعن تسلیم ہے لیکن کیا ہمارے معاشرے میں ان فوبیاز کے علمبردار اور لاحق فوبیک افراد کی اچھی خاصی تعداد موجود نہیں جو نفرت برائے نفرت کا کاروبار چمکا کر بیٹھے ہیں جس سے نیگیٹو امپریشن بلڈ ہورہا اور مغرب میں “اسلامو فوبیا” کی وباء پھیلتی جارہی ہے۔

کیا اس طرح کے رویے سے ہم دعوت و تبلیغ کی پرامن راہ میں خود کانٹے نہیں چن رہے؟

کیا ہماری مفتیانہ طبیعت اور جلالی سلوک سے وہاں “اسلام امن و سلامتی کا دین ہے” والا پیغام جارہا ہے؟

کیا ہم نے انہیں ارکان اسلام, مناسق اسلام, حرمت اسلام, پیغام توحید, حرمت رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کی بابت پیار محبت اور ذاتی دلچسپی لیکر کبھی کچھ بتایا اور سمجھایا کہ وہ ان پر متشدد اور نفسیاتی ردعمل دینے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوں کہ کہیں ہم غلط تو نہیں کررہے؟

میرے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم دنیا کے بہترین ماہر نفسیات بھی تھے کہ انہوں نے توحید مطلب اسلام کی دعوت اس طرح دی کہ معاشرہ میں سوچ اور فکر جگہ بنائے ناکہ انتشار اور تشدد, اور کیا ایسا نہیں ہوا؟

او مسلمانوں سبھی غیر مسلموں کو کافر کہہ کر مارنے کا حکم نہیں معذرت کے ساتھ, دعوت اولین حکم ہے, مبارذت ہو تو قتال کا حکم ہے مطلب جنگ کے میدان میں عین جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینا لازم ہے لیکن جب انکار بالرضا ہو جائے تو جنگ ہوگی اور اگر اقرار بالرضا ہو تو جنگ کا جواز ہی ختم (نا کہ جبری اسلام کا نفاذ) اور پرامن جگہ مطلب جہاں جنگ نہیں (جیسے مکہ تھا) وہاں دعوت کا حکم ہے اور بار بار دعوت کا حکم ہے۔

بہرحال یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ دنیا کا امن اس وقت نفسیاتی مریضوں کی زد میں ہے- جس میں اسلام فوبیا, صیہونی فوبیا, نصاریٰ یا کروسیڈز فوبیا اور ہندو فوبیا کے سبھی طبقات کے چوٹی کے مریض شامل ہیں۔

اور المیہ یہ ہے کہ یہ مریض اکثریت میں ہیں تو حکومتوں پر بھی انہی کا قبضہ ہے جس کی وجہ سے دنیا ایک ان چاہی اور نادیدہ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔

جس کو موقع ملتا ہے وہ قیامت مچانے میں چوکتا نہیں اور جو غافل ہوتا ہے وہ قیامت کا شکار ہوجاتا ہے۔

آپ کو مجھ سے اس بات پر بہت اختلاف ہوگا, ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہیئے کہ یہ آپ کا حق ہے پر صاحبو معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ یہ تلخ سچ اور کڑوی حقیقت اختلاف کرکے بدل نہیں جانی۔

نفسیات کے ماہرین سے رجوع کرلیں اور فوبیک مریض کی انتہا پوچھیں, وہ آپ کو بتا اور سمجھا دیں گے کہ کسی بھی فوبیا کا مریض شروع میں مخصوص چیز, انسان یا حرکت سے ڈر اور نفرت والی کیفیت کا شکار ہوتا لیکن جوں جوں مرض بڑھتا ہے اور اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس مریض کی زد میں اس کے اپنے اور من پسند لوگ اور چیزیں آنا شروع ہوجاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ فوبیک مریض بلا تخصیص و بلا تفریق خطرناک قرار دے دیا جاتا ہے۔

خوارج کی مثال آپ کو میری اس تھیوری کو سمجھنے میں مدد دیگی۔

اللہ کا واسطہ ہے نفسیاتی مریض مت بنیں اور نہ ہی نفسیاتی مریضوں کی باتوں پر دھیان دیں۔

اسلام, امن اور دنیا نفسیاتی مریضوں کی زد میں ہے لہذا ان مریضوں کا علاج اور کاؤنسلنگ از حد ضروری ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *