• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • پاکستان افغان امن کیلئے سہولت کارکا کردارادا کررہا ہے ،وزیرخارجہ

پاکستان افغان امن کیلئے سہولت کارکا کردارادا کررہا ہے ،وزیرخارجہ

اسلام آباد:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان امن کیلئے سہولت کارکا کردارادا کررہا ہے ،معاشی چیلنجز سےنمٹنے اورمعاشی ایجنڈے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے امن ضروری ہے ۔

بدھ کو  اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں لیڈرزان اسلام آباد بزنس سمٹ کا انعقاد کیا گیا ،ایک چھت تلے معیشت کےانکڑوں کے کھیل کے بہترین غیرملکی ماہرین جمع ہیں ۔

امریکا ، برطانیہ ، یورپ سمیت 25 ممالک کے 60 سے زائد معاشی ماہرین ،تجزیہ کار، مندوبین اورمقررین شریک ہیں ،سمٹ کا موضوع “ناقابل تصورکے تصور” رکھا گیا ۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے غیرملکی مندوبین کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی حکومت جس تبدیلی پرعمل پیرا ہے وہ ناقابل تصورکے تصور کا عملی نمونہ ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ اقتصادی بحالی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے ،معاشی خسارہ، قرضہ کا بوجھ ،بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اوربے روزگاری میں اضافے کے چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں ۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ معاشی چیلنجزسےنمٹنے اور معاشی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے خطے امن انتہائی ضروری ہے پاکستان افغان امن کیلئے سہولت کارکا کردارادا کررہا ہے ،  پاکستان مشرقی سرحد پر امن چاہتا ہے لیکن مثبت جواب نہیں دیا جا رہا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کے فروغ کیلئے نئی ویزا پالیسی کااجراءکیا گیا،125 ممالک کے آسان ویزہ سولیات دے رہے ہیں تاکہ سیاح بغیرتکلیف پاکستان ثقافت کو دیکھیں ۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ایک سال میں پاکستان میں سیاسی سطح پر نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں،عوام نے دیگر جماعتوں کو مسترد کرکے تحریک انصاف پراعتماد کیا،عوام نے تحریک انصاف کے تبدیلی کے نظریئے  کی حمایت کی،جی ایس پی پلس کے حصول میں یورپی یونین کی حمایت پر مشکورہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 26مارچ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ایک معاہدہ ہونے جارہا ہے ،معیشت کی بہتری کیلئے تاجر برادری کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں،ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانا ترجیح ہے،پاکستانی اپنے مستقبل کے بارے میں پرُامید ہیں۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادیں بنانا ہمارا شیوہ نہیں،اقتصادی بحالی بڑا چیلنج ہےلیکن کامیاب ہوں گے ،وزیرخزانہ اسد عمر ملک کی معاشی حالت بہتربنانےکیلئے کوشاں ہیں،جی ڈی پی بڑھانے اورخسارہ کم کرنے کیلئے اقدامات کررہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے قرضوں میں ہو شربا اضافہ کیا،زراعت کا شعبہ بہترہونے سے تیز ترمعاشی بحال ہوسکتی ہے،گزشتہ برسوں میں بیروی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی،ماضی کی غلط پالیسیوں سے غریب اور پسماندہ طبقے کی مشکلات بڑھیں،غربت کا خاتمہ وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دوست معاشی پالیسیوں سے اداروں کو بہتر سمت میں گامزن کررہےہیں ،معاشی استحکام کیلئے امن ناگزیر ہے،مشرقی اور مغربی سرحد پر کشیدہ صورتحال کاسامنا رہا ہے،افغانستان میں امن عمل کیلئے کوشاں ہیں،یقین ہے کہ افغان امن مذاکرات سے صورتحال بہتر ہوگی۔

وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پہلے دن سے ہی بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی،بھارت کو تمام تصفیہ طلب امور مذاکرات سے حل کرنے کی بار بار دعوت دی،وزیراعظم نے بھارت سے کہا کہ آپ ایک قدم بڑھاؤ ہم دو بڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرتار پور سرحد کھولنا ہماری طرف سے خیرسگالی کی مثال ہے،مشرق سرحد پرامن کیلئے ہمارے اقدامات کا مثبت جواب نہیں دیاگیا،چین زراعت اور دیگر شعبوں میں وسیع تعاون کرسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *