آٹھ مارچ کا عورت مارچ۔۔محمد حسنین اشرف

مابعد الجدیدی ذہن مسائل کے حل سے زیادہ مسائل سے حظ اٹھاتا ہے. اور اسی کے لطف میں زندگی بسر کردیتا ہے۔ آپ سوشلزم کی ابحاث دیکھیے، غربت کی لاش پر سالوں ہمارے دوست بین کرتے رہے، بجائے حل تلاش کرنے کے ہم نے ایک عرصہ سرمایہ دار کے استحصالی نظام کا رونا رونے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ رٹگر برجمن بڑی خوبصورت بات کہتا ہے کہ خواب اہم ہوتے ہیں۔وہ کہتا ہے ذرا سوچیے اگر کبھی نیلسن منڈیلا نے یہ کہا ہوتا کہ میں نے ایک ڈراونا خواب (I have seen a nightmare) دیکھا ہے اس کے برعکس نیلسن نے کہا میرا ایک خواب(I have a dream) ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ ہم اس ڈراؤنے خواب سے باہر نکل کر خواب دیکھیں، ہم غربت کے ڈراؤنے خواب کی بجائے، اس وقت کا خواب دیکھیں جہاں غربت ختم ہوچکی ہو، ہم طبقاتی تفریق اور استحصالی نظام کے ڈراونے خواب کی بجائے ایک خواب رکھیں۔وہ خواب جو ایک صحت مند معاشرے کا خواب ہو۔

اس بات سے ہرگز ہرگز انکار نہیں کہ عورت کو اس معاشرے میں مسائل درپیش نہیں ہیں، لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ صرف اسے ہی مسائل درپیش ہیں ، آپ ان مسائل پر ساری زندگی بین کرکے اور مرد کو ایک(oppressor) کی شکل میں دکھا سکتے ہیں ، لیکن یقین کیجیے یہ معاملہ اس سے زیادہ گہرا اور سنجیدہ ہے، آپ معاشرے میں موجود تقسیم کی تہوں میں ایک تہہ کا اضافہ کر رہے ہیں.،جس سے انسان مختلف خانوں میں بٹنے کے سوا کچھ نہیں کرے گا، ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا ایک جملہ ذہن میں گونج رہا ہے:

I don’t wish to live in a masculine world and I don’t wish to live in a feminine world. I earn and I yearn to live in a human world.

میں شاید دقیانوس کہلاؤں اگر یہ کہوں کہ صنعتی انقلاب کے بعد جو قدریں انسانی معاشرے نے دریافت کی ہیں ان پر جتنا اثر مشین کا تھا شاید ہی کسی اور چیز کا ہو۔ ہم نے غلامی ایسی لعنت کو خیر آباد کہہ کر غلامی کی ایک نئی اور زیادہ قابل قبول شکل کو اختیار کرلیا۔۔۔ خیر، یہ آج کا موضوع نہیں ہے،یہ بات سوچنے کی ہے کہ عورت نے گھر سے باہر کام کرنے کو اور خود پیسہ کمانے کو ہی زیادہ اہمیت کیوں دی؟ کیا عورت اس سے زیادہ آزاد ہوگئی؟ اور کیونکر عورت کا وہ کام پس پشت چلا گیا جس سے اہم کام کائنات میں نہیں تھا، قدرت نے عورت کی گود سے انسان کی نسل کو پیدا کرنے کا کام شروع کیا. اس کام کی اہمیت اچانک سے کیوں فوت ہوگئی؟ اور مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا مطلب گھر سے باہر نکل کر کام کرنا ہی کیوں قرار پایا؟ عورت کئی پہلوؤں سے مرد سے افضل ہے. اور میری بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عورت کو کام کاج اور اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے سامنے نہیں آنا چاہیے، سوال صرف اتنا ہے کہ عورت کی کامیابی کا صرف اور صرف ایک مطلب یہ ہی کیوں ہے کہ وہ کارپوریٹ کلچر میں نو سے پانچ کام کرے،کیا دن رات کے چوبیس گھنٹے گھر در کا کام ایک فل ٹائم جاب اور مرد کی نو سے پانچ نوکری سے زیادہ افضل کیوں نہیں ہے؟ کیا یہ کام نہیں ہے؟ اور کیا یہ مرد کے برابر کھڑے ہوکر حصہ لینا نہیں ہے؟ کیا کارپوریٹ کلچر میں مزدور بن کر کام کرنا ہی آزادی ہے؟

ہر انسان کو انسانی حقوق ملنے چاہئیں  ہمیں معاملات کے حل کی طرف سنجیدگی سے بڑھنے کی ضرورت ہے ورنہ تہہ در تہہ بڑھتی تقسیم کی یہ دبیز چادر، انسان کو کہیں دور دفنا دے گی  اور پھر کیفی اعظمی کے الفاظ میں انسان یہ کہتا پھرے گا:

بیلچے لاو، کھولو زمیں کی تہیں

میں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *