غرناطہ سے ناطہ۔۔طارق احمد

غرناطہ میں داخل ہوئے اور کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا  کہ ایک اور طارق کا اندلیسیہ میں نزول ہو رہا ہے۔ پکے مکان ، تارکول کی سڑکیں، دھواں اگلتی گاڑیاں ، اونچے پلازے ، وسیع و عریض سپر مارکیٹس ، بے پناہ ہجوم اور باکس ان لائف ۔ نہ وہ گھوڑوں کی ٹاپیں، نہ وہ بگھیوں کے فراٹے ، نہ وہ گھوڑوں کی ہنہناہٹیں، نہ اونٹوں کے قافلے ، نہ ساربانوں کی سرسراہٹیں ، نہ ہوا میں بلند چمکدار تلواریں، نہ نیزوں کی چمکتی انیاں ، نہ سورماؤں کے للکارے ، نہ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں، نہ ان پگڈندیوں پر سایہ دار درخت ، نہ پراسرار حویلیاں، نہ ان کی دیواروں پر انگوروں کی بیلیں ، نہ محبت بھرے فوک گانوں کی اداس تانیں اور نہ محاذِ جنگ پر گئے مجاہدوں کی اداس بیویوں کے غمگین گیت، نہ شفق پر وہ لالی ، نہ آنکھوں میں وہ سرخی ، نہ یوسف بن تاشفین کے لڑاکے ، نہ رات کے مسافر ، نہ پرواز کرتے شاہین ، نہ ہوا میں اڑتی ابابیلیں ، نہ خاک اور نہ کلیسا ، بچپن کا رومانس دھڑام سے گرا اور چکنا چور ہو گیا۔ نسیم حجازی کی رومان پرور دنیا کہیں پیچھے رہ گئی۔ اور ہمارے سامنے غرناطہ کا کیتھیڈرل تھا۔ اور جوق در جوق سیاح تھے۔ یہ کیتھیڈرل یورپ کے بڑے گرجاؤں میں شامل ہے۔ جب عیسائیوں نے غرناطہ فتح کیا تو یہاں مسجد تھی۔ اس کے اوپر یہ کیتھیڈرل تعمیر کیا گیا۔ قرطبہ کی گرینڈ مسجد میں بھی ایک ایسا ہی کیتھیڈرل وجود میں آیا۔ وہ عجیب زمانے تھے۔ مذہب کے نام پر جنگیں لڑی جاتیں اور فاتحین عظیم الشان محلات ، مساجد اور گرجے تعمیر کرتے۔ اس سے شان و شوکت کا اظہار ہوتا۔ طاقت اور اتھارٹی کا اظہار ہوتا   اور جنتا خوف اور ڈر میں رہتی اور بادشاہوں کو مائی  باپ کہتی اور خدا کا اوتار مانتی۔ اقتدار سلطانوں اور امیروں کو ملتا۔ اور مذہب اور حب الوطنی کے نام پر عام رعایا کٹ مرتی اور شہید کہلاتی۔ الحمرا کے محلات دیکھے۔ الحمرا کے باغات دیکھے۔ خوبصورتی، آرٹ اور حشمت کا ایک عجوبہ ۔ جس کے درودیوار سے آج بھی شکوہ، کروفر ، دبدبہ ، جاہ و جلال، آب و تاب ، عظمت اور وقار جھلکتا ہے۔ اسلامی فن خطاطی کا نادر اور نایاب شاہکار ، ایک انمول اور بیش بہا ذخیرہ ، انسان محظوظ تو ہوتا ہے مبہوت بھی ہو جاتا ہے۔ اس گراں بہا اور بیش قیمت انوکھے الحمراء پر صدیوں کی محنت لگ گئی  تب یہ نفاست ، عظمت اور شان و شوکت کا حقدار ٹھہرا ، اور جس کو چھوڑتے وقت ابو عبداللہ عورتوں کی مانند آنسو بہا رہا تھا۔ جی وہی کیتھیڈرل، وہ الحمرا جہاں کبھی کوئی پر نہیں مار سکتا تھا۔ آج سیاحوں کے بوٹوں تلے روندا جا رہا تھا۔ ان پر ٹکٹ لگی تھی۔ رش بہت تھا۔ نگر نگر کے مسافر جمع تھے۔ تعریف کر رہے تھے اور شاید دنیا کی بے ثباتی ہر نوح کناں تھے۔ مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔
غرناطہ کی تعمیر سیڑھیوں پر ہوئی  ہے۔ پرانا غرناطہ پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ اور جیسے ڈھلان پر چڑھتا جا رہا ہے۔ تنگ سی گلیاں متوازی چلتی ہیں۔ اور ہر اگلی گلی پچھلی گلی سے اونچائی پر ہے۔ اور گلیاں اتنی تنگ کہ ایک وقت میں صرف ایک سائیکل گزر سکتی ہے۔ اگر سامنے سے دوسری سائیکل آ جائے  تو پہلی سائیکل کو سر پر اٹھانا پڑتا ہے۔ غرناطہ کی ساخت ، تعمیر اور محل و وقوع کچھ اسقدر قدرتی طور پر محفوظ اور دفاعی نیچر کا ہےکہ اگر ابو عبداللہ ہمت نہ ہارتا تو اس شہر پر قبضہ کرنا ناممکن تھا۔ شہر کی ٹاپ یعنی چھت پر الحمرا ہے اور اس کے پیچھے برفانی پہاڑ ۔ یورپ کی دلہن ، یورپ کا موتی جو آج سیاحوں کی جنت ہے۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *