فرعون کے چیلے۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

آج کل میڈیا پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے حالیہ حکم امتناع کا چرچا ہے ۔ میڈیا کے مطابق جج موصوف نے حکم دیا ہے کہ پاکستان میں کوئی شخص عدالت کی اجازت کے بغیر اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا ۔ جسٹس موصوف کا یہ حکم دیکھ کر حیرت کا اظہار کرنے والے بھول رہے ہیں کہ یہ معاملہ تو بہت پہلے پاکستان میں شروع ہو چکا تھا ۔ اس سے قبل بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر فرعونیت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایسے فیصلے کئے گئے ۔ انہی  فیصلوں کا خمیازہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ لیکن کیا کریں کہ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا والی صورت حال ہے ۔کبھی قومی اسمبلی کے ذریعہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر خدائی معاملات میں دخل اندازی اور کبھی ضیاء الحق کے بنائے ہوئے ظالمانہ احکامات کے ذریعہ لاکھوں معصوموں کی زندگیاں اجیرن کرنے والے خدائی عذاب کو دعوت دینے والے قوانین کے ذریعہ ارض پاک پر فرعونیت کی یاد تازہ کی جاتی رہی ہے ۔

کوئی بھی شخص اپنی پسند کا عقیدہ اور مذہب کیوں اختیار نہیں کر سکتا۔ نارمل معاشرے میں یہ ایک نارمل عمل ہے جو ہر وقت جا ری رہتا ہے ۔ لوگ اپنے خیالات ، افکار ، عقائداور مذہب بدلتے  ہیں  تو یہ ان کے  اور خدا کے  مابین ایک معاملہ ہے،  ا س پر کوئی قدغن لگ سکتی ہے نہ لگائی جا سکتی ہے ۔ہاں مگر ایک ابنارمل اور حواس باختہ معاشرے میں یہی نارمل عمل ایک تعزیر بن جاتا ہے ۔ یہی نارمل عمل فرعون کے دربار میں جرم ٹھہرا تھا ۔جب فرعون کے اپنے بلائے ہوئے جادوگر اس کی توقع کے مطابق نتیجہ نہ دے سکے ۔ جب وہ اس کی دلی خواہش کے مطابق خدا کے نبی کو شکست نہ دے سکے ۔ اور اپنے دلی نور اور سعادت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرکے اور حضرت موسیٰ کے ہاتھوں معجزہ دیکھ کر بلا خوف و خطر ایمان کا اظہار کر بیٹھے۔ تب طاقت کے نشے میں چور حاکم وقت، جو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہلاتا تھا حواس باختہ ہو گیا ۔ چند کمزور لوگوں کے تبدیلی مذہب اور اعلی الا علان اظہار حق سے خوف زدہ ہو کر اس نے بھی   ایک ایساہی حکم جا ری کیا ۔ا س کے منہ سے بھی ایسے ہی الفاظ نکلے کہ تمہیں ہمت کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر مذہب تبدیل کرنے کی ۔یہ حکم ایسا انوکھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے اہل ایمان اور تاقیامت پید اہونے والے فرعون کے بچوں کے لئے اسے محفوظ کر دیا ۔ ’’ فرعون نے کہا : میرے اجازت دینے سے پہلے ہی تم ایمان لے آئے ہو ؟‘‘ (سورہ الاعراف)

فرعون بھی یہ سمجھتا تھا کہ کسی کو تبدیلی مذہب سے پہلے اس سے اجازت لینے کی ضرورت ہے ۔ اس کی عدالت اور اس کے دربار سے سرٹیفیکیٹ جاری ہوئے بغیر کوئی اپنے عقائد میں تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ فرعون اور فرعونیت ظلم و جور کی علامت بن چکے ہیں۔ ہر دور میں ایسے فرعون پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ہر دور کا فرعون یہ سمجھتا ہے کہ تبدیلی مذہب کے لئے لوگ اس کے غلام ہیں ۔ اور ان کو ایسی تبدیلی سے قبل اس کی عدالت سے اجازت لینا ضروری ہے ۔ وہ خیال کرتا ہے کہ لوگوں کے خیالات اور سوچیں اس کی سوچ کے مطابق چلنا ضروری ہیں ۔ وہی عقیدہ اور مذہب سچا ہے جو ا س کا ہے۔ باقی سب جھوٹ ہے ۔ فرعون کے بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ذلیل و خوار ہو کر مرتے جاتے ہیں لیکن افسوس عبرت نہیں پکڑتے۔ آج   جس  نے  یہ حکم جاری کیا ہے اس نے بھی اپنی دانست میں یہ  فیصلہ کر کے ’’ مذہب ‘‘ کو ’’ محفوظ ‘‘ کر دیا ہے ۔جیسے فرعون نے ان مزدور پیشہ چند لوگوں کو ہاتھ اور پاؤں کاٹنے اور سزائے موت دینے کی دھمکی دے کر کیا تھا۔

لیکن فرعونیت تمام تر طاقت کے باجود چند مزدور پیشہ اور کمزور لوگوں کو بھی اپنے سامنے جھکانے پرمجبور نہ کرسکی۔ اور ان کا جواب ،جو تم نے فیصلہ کرنا ہے کرلو ، تم سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرلو ،ہمیشہ کے لئے فرعونیت اور ہر قسم کی رعونیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ یہ جواب ایسی تمام طاقتوں پر ہمیشہ کے لئے بھاری ہے ۔ خدا تعالیٰ نے ان کا جواب تا قیامت ہر قسم کے فرعونوں اور اس کے چیلوں کے لئے بطور عبرت قرآن میں محفوظ کر دیا ہے ۔فرعونیت کے منہ پر ایسے طمانچے ہر دور میں اہل حق مارتے چلے آئے ہیں ۔ تمام تر ظلم کے باوجود ایک کمزور اور غلام حضرت بلال کی احد احد کی صدائیں بھی فرعونیت کے منہ پر طمانچے کے علاوہ اور کیا تھیں ؟۔

آخر یہ جج صاحب اور ان جیسی سوچ رکھنے والے دوسرے چھوٹے چھوٹے فرعون یہ بات سمجھنے سے قاصر کیوں ہیں کہ کسی کو بھی زبردستی کسی عقیدے پر قائم نہیں رکھا جا سکتا ۔ یہ کون سا اسلام پھیلانا چاہتے ہیں ؟۔ دین کی کیسی خدمت کرنا چاہتے ہیں ؟۔ اسلام تو منافقین پید ا نہیں کرتا بلکہ سختی سے منافقت کی مذمت کرتا ہے ۔لیکن یہ لوگ اسلام کے نام پر منافق معاشرہ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں ۔
’’ اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور اسلام میں داخل ہو۔ بلکہ وہ اختلاف کو برداشت کرتا ہے ۔ پس فساد کی وجہ صرف اختلاف نہیں بلکہ ایسا اختلاف ہے جس کے چھوڑنے کے لئے دوسرے کو مجبور کیاجائے ۔اور دوسروں کو اپنے اندر شامل رہنے پر مجبو رکیا جائے ۔ دوسروں کو اپنے اندر شامل رکھنے کے لئے مجبو رکرنا بظاہر اتحاد نظر آتا ہے مگر یہی چیز فساد کا منبع ہے ۔ جب کفار رسول کریم ﷺ کو تکالیف دیتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم اختلاف کو دور کرنا چاہتے ہیں اور قوم میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ جب حضرت موسیٰ کی قوم کو فرعون نے تکلیفیں دیں تو وہ بھی یہی دعویٰ کرتا تھا کہ میں قوم کو متحد کرنا چاہتا ہوں ۔لیکن حضرت موسیٰ اور اس کے ساتھی قوم کے لئے افتراق کا باعث بن رہے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اسی لئے تکلیف دی گئی کہ یہ شخص قوم میں اختلاف کی روح پیدا کرنا چاہتا ہے ۔اور اس طرح قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی ۔اسے اس کام سے باز رکھنا چاہیے  ۔تو دعوی تو سب کا یہی تھا کہ ہم اختلاف کو دور کرنا چاہتے ہیں اور قوم کو ایک کرنا چاہتے ہیں ۔مگر کسی قوم کا جبری طو رپر اختلاف کو مٹانا ہی فسا دکا موجب ہے ۔‘‘

جس مقدمے کی سماعت کے دوران جج موصوف نے یہ فیصلہ دیاہے اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ معاملہ دارصل یہ ہے کہ نادرا آفس ڈاکومنٹس بناتے ہوئے غلطی کرتا ہے۔ اس کی وجہ کوئی بھی ہو غلطی بھی ہو سکتی ہے اور نادرا میں موجود بعض متعصب لوگو ں کی شرارت بھی ۔ پاکستان میں سرکاری مسلمان بننے کے لئے ایک حلف نامے پر دستخط کرنا ضروری ہیں ۔یہ حلف نامہ بانی جماعت احمدیہ کی توہین کرنے والا ہے جسے کوئی بھی احمدی برداشت نہیں کرتااور اس پر دستخط نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود نادرا دستاویزات بناتے ہوئے از خود یہ غلطی کرتا ہے ۔
جب نادرا کو دستاویزات میں غلطی کی طرف توجہ دلائی جائے توبجائے اسے فوری تسلیم کرنے اور درست کرنے کے حیل و حجت سے کام لیا جاتا ہے ۔ متاثرہ فرد کا ریکارڈ چیک کرکے از خود درستی کرنے کے بجائے متعلقہ فرد کو گواہ لانے کو کہا جاتا ہے ۔ اس سارے چکر میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں منہ مانگی رقم کا مطالبہ الگ کیا جا تا ہے ۔ ڈاکومنٹس لیٹ ہونے کی صورت میں متعلقہ فرد کا کتنا نقصان ہوا اس کی تو کسی کو پرواہ ہی نہیں۔میں ذاتی طو رپر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کی آج پانچویں پیڑی احمدی ہے لیکن ان کی دستاویزات بناتے ہوئے نادرا نے مذہب کے خانے میں ’’اسلام ‘‘ لکھا ۔او ربعد ازاں ان کو احمدی لکھوانے کے لئے بہت تگ و دو کرنا پڑی ۔ کئی ماہ تک وہ دفتروں کے چکر لگاتے رہے۔ کئی قسم کی سفارشیں کروائیں۔ پچیس ہزار روپے سے زائد رقم خرچ کی تب جاکر ان کی دستاویزات درست کی گئیں ۔

یہ سب ،احمدی افراد کو زبردستی اپنے عقائد سے دست بردار ہونے کے لئے بے ڈھنگے اور بیہودہ طریق ہیں ۔ جب نادرا کسی احمدی یا عیسائی کو زبردستی’’ سرکاری مسلمان ‘‘بناتا ہے تو ا س پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا ۔ لیکن جب متعلقہ فرد ریکارڈ کی درستی کے لئے درخواست کرتا ہے تو اس پر بہانے بنائے جاتے اور تنگ کیاجاتا ہے ۔ بالفرض ڈاکومنٹس میں ایسے اندراج کو غلطی نہیں بلکہ مذہب کی تبدیلی بھی مان لیا جائے ۔ یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ایک پاکستانی ’’ سرکاری مسلمان ‘‘اب اپنی مرضی سے احمدی ہوناچاہتا ہے یا کسی اور مذہب میں جانا چاہتا ہے  تو بھی ایسی تبدیلی کو روکنے کا اختیار کس کو ہے ۔

جج صاحب کے ا س حکم کا مطلب واضح ہے کہ بے شک کوئی اپنا عقیدہ کچھ بھی رکھے لیکن منافقت سے ان سرکاری کارندوں کی خوشنودی اور ان نام نہاد منصفین کے فیصلوں کے تحت خود کو سرکاری مسلمان لکھے ۔
قاتلوں کے منہ چومنے اور ان کی حفاظت کرنے کے لئے معروف جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے اور کہلاتے ہیں تو دین اسلام کی ابتدائی بنیادی تعلیم سے بھی بے بہرہ ہیں ۔ اسلام نے تو ’’ مذہب کے معاملے میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں ‘‘ کا اعلان کر کے مذہبی آزادی کو زمینی خداؤں سے ہمیشہ کے لئے آزاد کر دیا ہے ۔ اگر اپنے آپ کو صاحب علم سمجھتے ہیں تو تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں کہ ایسا فیصلہ دینے سے قبل تاریخ مذاہب پر ایک سرسری نظر ڈال لیتے ۔ اگر اپنے آپ کو منصف خیال کرتے ہیں تو جان لیں کہ ان کے اوپر بھی ایک عدالت ہے اور اسی عدالت کے فیصلے ہمیشہ چلتے ہیں ۔ایک فیصلہ فرعون کا تھا کہ بغیر اجازت تبدیلی مذہب تم لوگوں نے کیسے کر لی پھر ایک فیصلہ اس اعلیٰ و مقتدر عدالت نے بھی سنایا اور سمندر میں فرعونیت کی ساری طاقت کا نشہ کافور کرنے ، جاہ و حشمت مٹانے اور معافی منگوانے کے بعد رہتی دنیا تک اسے نشان عبرت بنا دیا ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی ڈریں  اس عدالت سے  اور انصاف کے تقاضوں کے ساتھ منصفی نبھائیں ۔

آج وطن عزیز انہی  حرکتوں  کی وجہ سے اقوام عالم میں بدنامی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ سمندر پار پاکستانی بھگتتے ہیں ۔ جب پاکستانی ہونا ایک گالی بنتا جا رہا ہے ۔ جب لوگ آپ سے صرف اس وجہ سے کنارہ کش ہوں کہ آپ کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ پاکستان کے یہ جج اور نام نہاد مذہبی ٹھکیدار اگر کنویں کے مینڈک نہ بنیں او رباہر نکل کر دیکھ پائیں تو ان کو معلوم ہو کہ آج اقوام عالم میں پاکستان کہاں کھڑا ہے ۔ دنیا ایک بار پھر اسے دہشت گرد ممالک میں شامل کرنے کا سوچ رہی ہے۔لیکن تعصب کی دبیز عینک لگائے مذہب ، تاریخ ، علم و دانش سے بے بہرہ نام نہاد منصف اور ان کے ہم نوا اپنی ڈگڈگی بجانے پر مصر ہیں۔واقعی جب تک پاکستان میں ایسے  جیسے لوگ موجود ہیں پاکستان کو کسی بیرونی دشمن کی کیا ضرورت ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *