ویک اینڈ کیسے گزاریں؟ ۔۔۔ مہر ساجد شاد

اکثر ہمیں “ویک اینڈ “ پر گھروں میں یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں، “کل چھٹی ہے مجھے کوئی تنگ نہ کرے میں نے خوب سونا ہے”۔ یہ ویک اینڈ کا سب سے مقبول پروگرام ہے جو اکثر لوگوں کا خواب ہی رہتا ہے۔ کسی حد تک یہ تھکا دینے والی ہفتہ بھر کی مصروفیات کے بعد چھٹی جیسی نعمت کا ضروری استعمال ہے لیکن
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
شادی شدہ لوگوں کا ویک اینڈ دراصل ہفتہ کا سب سے مصروف ترین وقت ہوتا ہے ۔ اس میں ہفتہ بھر کی شاپنگ، بچوں کی سیر، باہر سے کھانے کی عیاشی فیملی کے ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ صاحب نے گاڑی یا موٹرسائیکل کی ضروری مرمت، کئی دوستوں سے ملاقات، محلے کے پرانے دوستوں سے وعدے، دفتر کے پورے ہفتے میں جمع کئے ہوئے کام وغیرہ سب اسی دن پر ڈال رکھے ہوتے ہیں۔ خاتون خانہ نے البتہ الگ پلانگ کی ہوتی ہے اور یہی اصل پلاننگ ہوتی ہے !! ہفتہ بھر کے جمع شدہ کپڑے دھونا، گھر بھر کی صفائی، جالے اتارنا، کچن کی ہفتہ وار تفصیلی صفائی،پھر سب کے ہفتہ بھر کیلئے کپڑے استری کرنا اور بچوں کیساتھ سیر اور کھانے کیلئے باہر جانا اہداف بنے ہوتے ہیں۔ اہل خانہ پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑتی ہے جب خاتون خانہ صبح ہی صبح واشنگ مشین چالو کر دیتی ہے، سب کو باجماعت دھلائی و صفائی مہم میں حصہ لینا پڑتا ہے، یہ باجماعت کام کیلئے بچوں کو سیر کی لالچ دی گئی ہوتی ہے، اس سیر اور شاپنگ کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ آج چونکہ خاتون بہت تھک گئی ہے لہذا کھانا گھر پر نہیں پکے گا باہر سے ہی کھا کر جائیں گے۔اب صاحب کو دوستوں عزیزوں کے فون اور میسج آ رہے ہوتے ہیں کہ رن مرید ہی ہو گئے ہو چھٹی کا دن بھی تمہیں بیوی کیساتھ ہی گذارنا ہوتا ہےاور یہ بے چارہ جواب دینے سے بھی عاجز ہو جاتا ہے۔
لیکن سوچا جائے تو ویک اینڈ اس طرح کی زندگی کے لئے نہیں آتا ۔ ہفتہ بھر کی مصروف زندگی کے بعد چھٹی تازہ دم کرنے کیلئے آتی ہے نہ کہ تھکانے کیلئے۔ گھر کے متعدد کاموں کو اگر ہفتہ میں مختلف دنوں میں تقسیم کردیا جائے تو سب مل کر شام کے وقت میں ان کو انجام دے سکتے ہیں، یوں چھٹی کا دن بہت سے کاموں کیلئے دستیاب ہو سکتا ہے۔
چھٹی کے دن فیملی کیساتھ گذار سکتے ہیں، آپ باتیں کریں، بچوں سے انکی باتیں سنیں انکے مسائل سنیں، سب اکٹھے بیٹھ کر کوئی بامقصد فلم دیکھیں، مل کر کوئی کتاب پڑھیں۔ کوئی بڑا کام نہیں ہوگا توچھوٹےچھوٹے کام کھیل ہی کھیل میں ہنسی مذاق میں کرتے جائیں۔
یہ دن پوری طرح سے کہیں تھوڑا دور سیر و سیاحت کیلئے دستیاب ہو سکتا ہے،ہر ہفتے نہ سہی لیکن مہینے میں ایک بار تو کہیں گھومنے جائیں، بیوی بچوں کیساتھ کسی تاریخی مقام یا صحت افزا مقام کی سیاحت کریں،وہاں دن گذاریں پکنک کریں، بچوں کیساتھ کھیلیں اور انکو اپنے تجربات بتائیں، انہیں ایسی جگہوں سے جڑی کہانیاں سنائیں، زندگی جیئیں اورانہیں زندگی جینا سیکھائیں۔
یہی دن اگلے ہفتہ کی پلاننگ کیلئے بھی استعمال ہو سکتا ہے، اگلے ہفتے میں اپنے اہداف مقرر کریں بچوں کو نصابی غیر نصابی ہدف مقرر کرنے میں مدد دیں، اپنے ضروری کاموں کی فہرست مرتب کریں ان کےانجام دہی لئے ترتیب بنائیں، صبح اور شام کے اوقات کو استعمال کریں، دفتر کا کام دفتری اوقات میں کرنے کا طریقہ اپنائیں۔
انفرادی سطح پر یا اجتماعی سطح پر ایسے مواقع میں فیملی سمیت حصہ لیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والے مواقع ہوں، کسی کو کوئی سامان خریدنا ہوتو اپنے تعلقات اور اثر رسوخ سے انکی مدد کریں، کسی کا مسلۂ حل کر سکتے ہیں تو کر دیں،ساتھ ضرور دیں ۔ کوئی فلاحی گروپ جماعت یا این جی او دیکھیں اور انکے ساتھ مل کر مہینے میں کم از کم ایک ویک اینڈ ضرورت مند اور مصیبت زدہ کسی بھی محرومی کا شکار افراد کیساتھ گذاریں،فیملی کیساتھ کسی فلاحی ادارے کا وزٹ کریں، وہاں موجود افراد کی مدد کریں انکی کہانی سنیں بچوں کو ان کہانیوں سے اگاہ کریں تاکہ وہ زندگی کے سب رنگوں سے آشنا ہو سکیں۔ ان لوگوں کیساتھ وقت گذاریں تویہ وقت آپکو خوشی اور اطمینان دے گا ان لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کر کے آپ جو سکون پائیں گے وہ آپکو ایسا تازہ دم کر دے گا جو آپکے عمومی کام اور روزمرہ مصروفیات کو بوجھ بننے ہی نہیں دے گا ، فلاح و بہبود کے ان کاموں سے حاصل ہونے والا سکون بار بار اسے دہرانے کی تحریک بن جائے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *