ہم سب پاکستان ہیں۔۔۔عروہ ہرل

میں نے قلم پکڑا تو دل کیا لکھوں اور بے تحاشا  لکھوں اور لکھ تی جاؤں، اتنا لکھوں کہ  لکھتے لکھتے مر جاؤں۔ میرا دل کیا میں وطن پر لکھوں، میں حب الوطنی پر لکھوں، میں محبت پر لکھوں، میں اتفاق پر لکھوں، میں جذبوں پر لکھوں، میں شہادت پر لکھوں، میں اَمن پر لکھوں، میں یکجہتی پر لکھوں۔ میرا دل کیا کہ میں مذہبی ہم آہنگی پر لکھوں، میں بین الصوبائی یکجہتی پر لکھوں، میں قربانی پر لکھوں، میں ایثار پر لکھوں، میں اخوت پر لکھوں، میں بھائی چارے پر لکھوں، میں مٹی پر لکھوں، میں مٹی کے عشق پر لکھوں، میرا دل کیا میں پاکستان پر لکھوں۔

پاکستان یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ، یعنی وہ دیس جہاں محبت بستی ہے جہاں سادہ دلی بستی ہے اور جہاں زندگی بستی ہے۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جو نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔اسلام باقیوں کو پلیٹ میں رکھ کے ملا تھا۔ صرف پاکستانیوں نے اپنے حصے کا اسلام پانے کے لئے قربانیاں دیں، ہجرتیں کیں، عزتیں کھوئیں، مائیں قربان کیں ، بیٹیاں اپنے ہاتھوں ماریں۔ صرف ہم نے اپنے حصے کا اسلام پانے کے لئے باپ، بھائی اور بیٹے پیش کیے اپنے گھر پیش کیے اور ہاں صرف اور صرف ہم نے اپنی جانیں پیش کیں۔ دیکھو، سوچو اور غور کرو، ملا کوئی ایسا اسلامی ملک جس نے اپنے حصے کا اسلام پانے کے لئے اتنی قربانیاں دیں؟

ہاں میرا ملک وہ ملک ہے کہ جس کے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ لگتا ہے۔ ہاں پاکستان عوامی جمہوریہ پاکستان نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ،وہی اسلام جو جنگوں میں بزرگوں بچوں اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگانے کا حکم دیتا ہے۔ وہی اسلام جو دشمن کے سرسبز کھیتوں کو تباہ کرنے سے منع کرتا ہے۔ وہی اسلام جو اقلیتوں سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے، وہی اسلام جو اقلیتوں کے حقوق کا تعین کرتا ہے اور اسلامی ریاست پر یہ  ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ ان حقوق کو فرض سمجھ کر ادا کیا جائے، سوچو تو سہی کیسا دین ہے اسلام جو غیر مسلموں کے حقوق ادا نہ کرنے پر روز قیامت مسلمان حکمرانوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرے گا۔

اسی اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا میرا دیس بھی ایسا ہی پیارا دیس ہے۔جو صرف مسلمانوں کا دیس نہیں ہے، بلکہ دیس ہے عیسائیوں کا، سکھوں کا، ہندوؤں کا، پارسیوں کا اور ہر مذہب کے لوگوں کا۔ میری دھرتی جو ماں ہے اللّٰہ تعالی کو ماننے والوں کی، جو ماں ہے محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کی، جو ماں ہے عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں کی، جو ماں ہے گرونانک کے عقیدت مندوں کی، جو ماں ہے آگ کو پوجنے والوں کی اور جو ماں ہے کرشن اور مہادیو کی مالا جپنے والوں کی۔ اور سوچو تو سہی، تم دیکھو تو سہی، تم غور کرو تو  سہی ، جب ماں کا آنچل کھینچا جائے تب بیٹے لبیک کہتے ہیں وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ماں کا دودھ نہیں بھولتے، وہ اپنی ماں کی طرف بڑھا ہر ہاتھ کاٹ ڈالتے ہیں۔ کیونکہ بیٹے تو بیٹے ہوتے ہیں، جنم سندھ نے دیا ہو یا چناب نے ۔۔پالا تو پاکستان نے ہے، گرمی سبی کی ہو یا گرم جوشی پشاور کی، خون تو سبھی کا سبز ہے۔ ساز گلگت کا ہے تو کیا ،سر تو کشمیر کا ہے۔ یاد رکھو ہم جو بھی ہیں ہم جیسے بھی ہیں ہمارا تعلق جس مذہب سے بھی ہے، ہم پاکستانی ہیں اور ہم ایک ہیں، ایک مٹھی کی صورت، ایک ماں کے بیٹے ہیں اور ایک ہی پہچان کے قائل ہیں جو پاکستان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *