ہمارے پاک فوج کے جوان۔۔۔عائشہ یاسین

وطن عزیز سے پیارا کچھ نہیں ہوتا ۔ایک شہری اپنے ملک و قوم کے لئے اپنے آپ میں وہی جذبات رکھتا ہے جوکہ ایک فوجی جوان۔ میرے وطن کے جانباز نوجوان وطن کی سرحدوں پر بڑی دیدہ دلیری سے دشمن وطن سے لڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس تیز  رفتار دور میں اس کی ساری رپورٹ لمحہ بہ لمحہ مل رہی ہے جبکہ حکومت پاکستان نے اس طرح کی کسی خبر کو نشر کرنے سے اجتناب برتا ہوا ہے۔ گو کہ جنگ ایک بری علامت ہے مگر جب دشمن اپنے ہوش کھو بیٹھے تو ہم بھی پیچھے رہنے والے کہاں ہیں؟ ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پہ حاصل کیا اور لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہم ماوں نے اپنے سپوت قربان کئے اور شہید کی ماں کہلانے میں فخر محسوس کیا۔ میں اس سوچ میں مبتلا ہوں کہ یہ فوجی بھی کیا سچے جذبات کے پیکر ہوتے ہیں جو دن رات قوم کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں اور ہم عوام چین کی نیند سوتے ہیں۔ آج جب میری فوج ہماری دھرتی ماں کا دفاع کرنے میں جتی ہوتی ہے اور میں آرام دہ کمرے میں  بیٹھی ہوں ۔۔کیا یہ میرا فرض نہیں بنتا کہ میں دست دعا اپنے رب کے حضور پھیلاوں  اور اس ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے بارگاہ الہی پہ دستک دوں۔ شاید وقت پڑنے پر اپنے گھر کے مردوں کو بھی میدان میں اترنے کے لئے تیار رکھوں اور خود کو بھی اس ملک پر وارنے کے لئے پرعزم رہوں۔ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر بحیثیت قوم اپنی بقا اور اسلام کے لئے دعا گو رہیں اور ایک ملت کے طور پر سب کو باور کرادیں کہ ہم آج بھی ایک منصب پر متحد ہیں ۔ہم آج بھی قائداعظم محمد علی جناح کی قوم ہیں۔ کل بھی کلمہ حق کے رکھوالے تھے اور تا قیامت رہیں گے۔ ہم آج بھی لیاقت علی خان کی وہ مضبوط مٹھی ہیں جس کا وار چوکتا نہیں۔ ہماری دھرتی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ ہماری ماں ہے اور اس کی حفاظت ہی ہمارا ایمان ہے۔ صرف بارڈر میں موجود ہمارے فوجی ہی ہمارے پاکستان کے سپاہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام عوام بچہ بچہ اس ملک کا سپاہی ہے۔ اب وقت آن پڑا ہے جب ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ جنگ ہماری جنگ ہے اور ہم سب اس میں فوجی۔ ہم نے اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اس ملک کو بچانا ہے۔ آو سب متحد ہوجائیں۔ ایک مٹھی بن جائیں اور دشمن کو زیر کر ڈالیں۔ اپنے وطن پر قربان ہوجائیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *