پاکستان ترقی پذیر ملک کیو ں؟

جہاز میں میری برابر والی سیٹ پر دبئی میں کام کرنے والا پٹھان ٹیکسی ڈرائیور بیٹھا تھا۔۔اس سے سوال کیا، آخر کیا وجہ ہے کہ تم لوگ پاکستان میں ایسی ڈرائیونگ کرتے ہو کہ بندے کو مار دیتے ہو اور دبئی میں انسان کے بچے بن کر گاڑی چلا رہے ہوتے ہو؟ میرے خیال میں اُس کم پڑھے لکھےانسان کا جواب بہترین تھا۔۔۔کہنے لگا۔۔ بھائی پہلی بات کہ دبئی میں قانون ہےاور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ دوسری بات جب تک ڈرائیور سڑک پر ڈرائیونگ کے آداب نہیں سیکھ لیتا اُسے لائسنس نہیں ملتا، تیسرا لائسنس اتنا مہنگا ہے کہ اگر کینسل ہو جاۓ تو اس کی تجدید کروانا بہت مشکل اور مہنگا ہے، چوتھا چالان فیس اتنی زیادہ ہے کہ ہر کوئی احتیاط سے گاڑی چلاتا ہے۔
میں نے دوسرا سوال پوچھا کہ دبئی میں امن اور پاکستان میں دہشتگردی۔۔ آخر کیوں؟
مختصر جواب ملا کہ دبئی والے اپنے ملک اور لوگوں کے ساتھ مخلص ہیں، وہ اپنے ملک کو آباد کرنا چاہتے ہیں نہ کہ برباد! اب سوال یہ ہے کہ ہم کیوں نہیں اپنے ملک کا بھلا چاہتے؟ کیا ہمارے پڑھے لکھے بیوروکریٹس میں اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں ٹریفک کا نظام ہی ٹھیک کر سکیں؟ ملک کی عوام کا بھلا سوچیں؟۔۔۔جواب بہت سادہ سا ہے کہ ستر سال میں کبھی بھی ہماری ترجیح ملکی نظام ٹھیک کرنا یا بھلا سوچنے کی نہیں رہی۔تقسیم سے پہلے مسلم لیگ کا صرف ایک ایجنڈہ تھا، وہ تھا ایک قوم سے دشمنی۔۔ اس دشمنی کو اس ملک کی اساس اور بنیادوں میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد ایک ملک چلانے کی کیا ترجیحات ہونی چاہیں۔ اس کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں تھا۔
پہلے روز سے ہمیں نفرت پر مبنی نظریوں میں الجھایا گیا، اس نفرت کو ملک کی اساس بنا کر دوسرے ملکوں میں دہشتگردی کا جواز پیدا کیا گیا۔۔۔ بس یہی مختصر سادہ سی کہانی ہے ہماری بربادی کی! مگر اب نہیں کیونکہ اب ہم نے چین کے ساتھ مل کر اس استعمار سے، اس دہشتگردانا فکر سے آزاد ہونا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے بھی دشمنی سے جان چھڑا کر ترقی کرنی ہے۔ ہم نے اب ان نظریوں کو شکست دے کر آگے بڑھنا ہے، ہمیں صرف ترقی کا نظریہ اپنانا ہے، مذہبی انتہا پسندی اپنے ہر اس خطہ سے مٹانی ہے جہاں جہاں سے اس دہشتگردی کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ ہم متحد ہو چکے ہیں!

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *